مصنوعی بارش اور جرمانے سمیت توانائی بحران سے نمٹنے کے سات انوکھے طریقے

ویب ڈیسک

ایک ایسے وقت میں جب متعدد عوامل، جن میں خشک سالی، شدید گرمی کی لہر، عالمی وبا اور جنگ شامل ہیں، عالمی توانائی بحران پیدا کر رہے ہیں، جرمنی نے اپنی توانائی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے

لیکن توانائی یا ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت ایک ایسا مسئلہ ہے، جو اس وقت پوری دنیا کو درپیش ہے اور صرف جرمنی واحد ملک نہیں جو ان حالات سے نمٹنے کے لیے ترکیبیں تلاش کر رہا ہے

دنیا بھر میں حکومتیں سات طریقوں کے ذریعے اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں

روس کی جانب سے قدرتی گیس کی فراہمی میں کمی کے بعد سے یورپ میں توانائی کی قیمت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس لیے توانائی کے ضیاع کو روکنا یورپی ممالک کی حکومتوں کی سب سے بڑی ترجیح ہے

ایئر کنڈیشنر اور ہیٹنگ کو محدود کرنا

یورپی یونین نے حال ہی میں ایک منصوبے کے تحت موسم سرما سے قبل گیس کی کھپت میں 15 فیصد کمی لانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ یکم نومبر سے قبل قدرتی گیس کے ذخائر 80 فیصد تک بھر چکے ہوں

جرمنی، فرانس اور اسپین نے ایسے قوانین متعارف کروائے ہیں، جن کے تحت عوامی مقامات پر ہیٹنگ یا گرمائش پیدا کرنے والے سسٹمز کو 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھا جائے گا۔ فرانس اور اسپین میں ایئر کنڈیشنر کے ذریعے ٹھنڈک پیدا کرنے والی عمارتوں کے لیے بھی 26 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد طے کر دی ہے

فرانس میں ایئر کنڈیشنر والی دکانوں کو اپنے دروازے بند رکھنا ہوں گے ورنہ ان کو 750 یوروز کا جرمانہ کیا جائے گا

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق ایسے اقدامات، مثلاً ہیٹنگ چند درجے کم رکھنے سے، یورپ میں اتنی گیس بچائی جا سکتی ہے جتنی موسم سرما میں روس سے حاصل کی جاتی تھی

بتیاں بند کر دیں

جرمنی نے کہا ہے کہ عوامی عمارات اور یادگاروں کو اب رات کے وقت روشن رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں جبکہ اسپین میں دکانوں کو رات دس بجے بتیاں بند کرنا ہوں گی

فرانس کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے بجلی یا توانائی کی کھپت میں 10 فیصد کمی واقع ہو گی۔ واضح رہے کہ فرانس روس کی گیس پر جرمنی کی نسبت کم انحصار کرتا ہے کیوں کہ یہاں 42 فیصد بجلی نیوکلیئر یا جوہری ذریعے سے پیدا کی جاتی ہے

لیکن شدید گرمی کی لہر اور خشک سالی کی وجہ سے متعدد جوہری پلانٹس متاثر ہوئے ہیں، جن کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے

بارش

چین کو ایک بلکل ہی مختلف نوعیت کے توانائی بحران کا سامنا ہے۔ روس سے تیل اور گیس کی فراہمی تو متاثر نہیں ہوئی، لیکن شدید گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے چین بھی مسائل کا شکار ہے۔ دریا خشک ہو رہے ہیں اور پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی ہوئی ہے

سیشوان صوبے میں، جو اسی فیصد بجلی ہائیڈرو الیکٹرک ڈیمز سے بناتا ہے، فیکٹریوں کو چھ دن کے لیے بند کرنا پڑا اور دفاتر، دکانوں کو بتیاں اور ایئر کنڈیشنر بند رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ بجلی کی کھپت میں کمی لائی جا سکے۔ ساتھ والے صوبے میں بھی کچھ ایسے ہی اقدامات اٹھانا پڑے

چین کے وزیر زراعت نے حال ہی میں مصنوعی بارش کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کے تحت بادلوں میں کیمیکلز چھوڑ کر بارش پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ کیسے اور کہاں ہوگا، اس کی زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں

کم کام

پاکستان نے بھی توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے انوکھے طریقے نکالے ہیں

جون میں حکومت نے اپنے پہلے کے ایک اعلان کو واپس لیتے ہوئے سرکاری دفاتر میں چھ دن کی بجائے صرف پانچ دن کام کی پالیسی کو دوبارہ اپنایا

اس کے چند ہی ہفتے بعد گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا، جس سے قومی گرڈ سسٹم پر دباؤ بڑھا۔ دوسری جانب بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی حالات کو پیچیدہ بنا دیا ہے اور اب منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازمین جمعے کے دن گھر سے ہی کام کریں

اسکول کی چھٹی

بنگلہ دیش میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے جہاں اسکول ہفتے میں دو دن بند رہیں گے اور سرکاری ملازمین کے دفتری اوقات کو ایک گھنٹہ کم کر دیا گیا ہے

واضح رہے کہ بنگلہ دیش مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے، جو اس وقت ایندھن کی مہنگی ترین قسم ہے۔ اس کو اپنے سے کہیں زیادہ وسائل رکھںے والے یورپی ممالک سے اس کی فراہمی کے لیے بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے

جوہری حل

کچھ مقامات پر توانائی قیمتوں کے بحران نے فوسل فیولز جیسا کہ کوئلے کی واپسی کا راستہ کھول دیا ہے۔ بھارت میں کوئلے کی درآمد جون میں انتہا کو چھو گئی تھی حالانکہ ماضی میں حکومت نے کوئلے کی درآمد میں کم کا منصوبہ بنایا تھا

دیگر ممکنہ حل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ فوکوشیما پلانٹ حادثے کے گیارہ سال بعد جاپان میں سوچا جا رہا ہے کہ کیا نئے جوہری پلانٹس پر پیسہ لگایا جائے اور پرانے پلانٹس کو بحال کیا جائے

فرانس میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں میں اضافے پر غور ہو رہا ہے

جنوبی افریقہ اور چین میں حکومتیں عام لوگوں کو سولر سسٹم لگانے کا مشورہ دے رہی ہیں جن کے ذریعے ایک عام شخص حکومت کو بجلی بیچ بھی سکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close