ادھوری خواہشیں (افسانہ)

عامر انور

اکثر عوامی جگہوں پر خودساختہ چھوٹے بازار وجود میں آجاتے ہیں۔ عوام الناس کی زیادہ آمد و رفت وہاں خوانچہ فروش، ریڑھی اور پھیری والوں کو آباد کر دیتی ہے

اسی طرح کا ایک چھوٹا سا بازار ننکانہ صاحب شہر میں کچہری کے ساتھ بھی قائم ہو چکا تھا۔ یہاں سائلین اور وکلاء کا آنا جانا تو تھا ہی لیکن کچہری کے بالکل سامنے گرونانک ہائی اسکول کی وجہ سے یہ جگہ خوانچہ فروشوں اور ریڑھی والوں کے لیے اور بھی اہم جگہ بن گئی تھی۔۔ چھٹی پر بچے یہاں سے کھانے پینے کی چیزیں خریدتے۔

یہاں پر آباد مارکیٹ میں پکوڑے، سموسے، گول گپے، جوس، ملک شیک، چاٹ، دہی بھلے، میٹھے برف کے گولے ملتے۔ مختصر کہ یہ ایک چھوٹی سی فوڈ اسٹریٹ بن گئی تھی۔

ان ریڑھی والوں میں ایک جوس کارنر والا اقبال بھی تھا۔ اسے اقبال سے زیادہ بالا، اوئے بالے، او بالیا کہ کر بلایا جاتا۔ اس کے پاس تازہ جوس اور مِلک شیک ملتا۔ اس کی صاف ستھری ریڑھی اور اچھے معیار کی وجہ سے اس کا کام خوب چلتا۔ اس نے اپنی مدد کے لیے ایک لڑکا رکھا ہوا تھا۔

اسکول کے بچے ہوں یا استاد، کچہری کے وکیل ہوں یا ان کے پیچھے رلتے امید اور آس لیے ان کے مؤکل، سب اس کی ریڑھی سے جوس اور ملک شیک پیتے۔ اقبال عرف بالا کے ٹھیلے کے ساتھ پچاس، پچپن سالہ چاچا رفیق ایک بڑی سی چادر لگا کر سڑک کنارے بیٹھتا تھا۔ وہ بچوں کی ٹافیاں اور بسکٹ کے ساتھ اسکول کا ضروری سامان جیسے پین، پنسل، ربر وغیرہ رکھتا۔ ساتھ ہی اس نے وزن کرنے والی مشین بھی رکھی ہوتی تھی۔
چاچا رفیق کی ٹانگ میں پیدائشی لنگ تھا۔ وہ یہاں بیٹھ کر روازنہ سو، دو سو روپے کما لیا کرتا۔ بلا کا خوددار تھا۔ کوئی ترس کھا کر اسے پیسے دینا چاہتا تو وہ سختی سے منع کر دیتا۔ سات جماعت پڑھا ہوا تھا تو لکھنا، پڑھنا جانتا تھا۔ اخبار بڑے شوق سے پڑھتا، جو اسے کسی وکیل کے توسط سے روز مل ہی جاتا۔

فارغ وقت میں بالے کی چاچے رفیق سے گاڑھی چھنتی۔ اقبال عرف بالا دس جماعتیں پاس تھا۔ وہ چاچا رفیق کی پُر حکمت باتیں سنتا تو کہتا کہ چاچا تجھے تو اسکول میں استاد ہونا چاہیے تھا۔

کبھی چاچے کے گھر کا ذکر ہوتا تو وہ کہتا کہ بالے لنگ تو میرے پیدائشی تھا، نجانے گھر والوں نے کیا سوچ کر میرا بیاہ کر دیا۔۔ اور مجھے حیرانگی تیری چاچی پر ہوتی ہے، جس نے یہ سب جان کر بھی مجھ سے نکاح کیا۔ دور پرے کی رشتے دار تھی۔ ہماری طرح غریب گھر کی۔ سات بہنیں تھیں۔ شکل کی اتنی ماڑی نہیں، لیکن جب باپ کے کاندھوں پر سات بچیوں کا بوجھ ہو تو شاید منع کرنے کا اختیار نہیں رہتا۔ اس نے میرے سنگ وفا کے ساتھ خوب نباہ کیا۔ میں کیا کماتا ہوں بالے پتر۔۔ اس نے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کیا تو کپاس چنائی کا بھی۔ لہسن چھیل کر دھاڑی کمائی تو کبھی گھروں کے میلے کپڑے دھو کر۔۔ اس نے عزت و آبرو کے ساتھ ہر وہ کام کر لیا، جس سے وہ گھر کو چلانے میں مدد کر سکتی ہے۔ عمر میں مجھ سے بڑی ہے۔ ہڈیاں بوڑھی ہوگئیں، لیکن ہمت ابھی بھی جوان ہے۔ میں زندگی بھر اس کا احسان نہیں اتار سکتا۔

بالا پوچھتا کہ چاچا رفیق، تمہارا بچہ بہت چھوٹا ہے۔ کیا شادی کے بہت سالوں بعد پیدا ہوا تھا۔ یہ سن کر وہ کہنے لگا کہ بیٹا یہ جو لڑکا مجھے چھوڑنے آتا ہے یہ میری سالی کا لڑکا ہے، جو اس نے پیدا ہوتے ہی اپنی بہن کی گود میں دے دیا تھا۔ بس اوپر والے کی مرضی یہی تھی کہ ہماری اولاد نہ ہو۔ اس دکھ کو تیری چاچی بہت محسوس کرتی تھی۔ اس کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے نہیں ہوئے۔
بس وہ بچہ ہماری بے آباد زندگی کو شاداب کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ مجھے یہاں چھوڑ کر اسکول چلا جاتا ہے۔ شام کو آکر لے جاتا ہے۔ بالے نے اشتیاق سے پوچھا کہ اسے معلوم ہے کہ وہ آپ کا بیٹا نہیں؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگا کہ تیری چاچی نے پیار میں کوئی کمی رکھی ہی نہیں، جو وہ ایسا سوچے۔۔ بس اللہ جیوندا رکھے۔۔ ہمارا تو سہارا ہے اب۔۔ اسے دیکھ کر ہم دونوں خوش ہو لیتے ہیں۔

زندگی کے شب و روز گزر رہے تھے۔ بالا اور چاچا رفیق دونوں اپنی اپنی زندگی کی باتیں ایک دوسرے سے کر لیتے۔ بالا اکثر چاچا رفیق سے اپنی بیوی کی برائیاں کرتا۔ وہ پوچھتا کہ چاچا کبھی تیری چاچی سے لڑائی نہیں ہوتی؟ تو مسکرا کر کہتا کہ ہمیں زندگی اتنا وقت دیتی ہی کہاں ہے۔۔ لڑائیوں کی اصل وجہ تو امیدیں، توقعات اور خواہشیں ہوتی ہیں۔ ہم دونوں تو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ یہ سن کر بالا کہتا کہ چاچا تو اتنی گہری باتیں کیسے کر لیتا ہے۔ چاچا کہتا کہ بےبسی اور انسانی رویوں سے بڑھ کر کوئی استاد نہیں۔۔ میں نے ان سے ہی یہ سب سیکھا۔

ایک شام بالا فرصت سے بیٹھا ہوا تھا اور چاچا رفیق اپنے بیٹے کی راہ تک رہا تھا کہ وہ آئے تو اسے گھر لے کر جائے۔ اچانک بالے نے پوچھا کہ چاچا تیرے دل میں کبھی کوئی خواہش پیدا نہیں ہوئی؟ یہ سن کر چاچا کہنے لگا کہ خواہشات حسرت کو جنم دیتی ہیں، جس سے انسان بھٹک جاتا ہے۔ اپنے وسائل میں جینا سیکھا اور یہی اطمینان کی سب سے بڑی کنجی ہے۔

”پھر بھی چاچا۔۔ کوئی خواہش تو ایسی ہوگی، جو اندر مچلتی ہوگی۔“

یہ سن کر چاچا کہنے لگا ”بالے پتر، ہماری خواہشات بھی معصوم ہوتی ہیں۔ بس کبھی دل چاہتا ہے کہ تیری چاچی کو نیا جوڑا لے کر دوں۔ اس نے ہمیشہ اترن پہنی ہے۔“ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھ میں آنسو آ گئے۔

بالا اسٹول سے تیزی سے اٹھا اور چاچے رفیق کے ساتھ اس کی چادر پر بیٹھ کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔
اس نے چاچے کو گلے سے لگایا اور کہنے لگا کہ چاچا میں تیرے پتر کی طرح ہوں۔ میں نے تیری باتوں سے زندگی کے نجانے کتنے سبق سیکھے ہوں گے۔ یہ بھی کیا کوئی بڑی بات ہے؟ میرا اتنا اچھا کام چلتا ہے۔ مجھے کہا ہوتا۔

چاچا رفیق نے اپنی دلگیر کیفیت کو سنبھالا اور کہنے لگے کہ جیوندا رہ بالے۔۔۔۔ بس تو نے کہہ دیا، اتنا ہی کافی ہے۔

”نہ چاچا، اب میں نے تیری ایک نہیں سننی۔ خودداری اچھی بات ہے۔ اسی وجہ سے میں تجھے اپنے باپ کی طرح عزت دیتا ہوں۔ کل چاچی کے لیے نیا سوٹ بازار سے لاؤں گا۔ اسے تحفہ سمجھ کر قبول کر لینا۔۔ اور ہاں چاچی کو مت بتانا کہ تحفہ ملا ہے۔ اسے کہنا کہ تو نے اس کے لیے پیسے جمع کر کے خریدا ہے۔“

”نہ پتر بالے۔۔۔ ایسا نہ کر۔ کیا پتہ میں اس ادھوری خواہش کے پیچھے ہی زندگی کی سانسیں لے رہا ہوں۔ ورنہ جینے کے لیے میرے پاس اور ہے ہی کیا۔۔ کہیں خواہش کی تکمیل مجھ سے جینے کا بہانہ ہی نہ چھین لے۔۔۔۔“

اگلے دن اقبال عرف بالا نے دوپہر کو سب کی نظر سے بچا کر سوٹ والی تھیلی چاچا رفیق کو دے دی۔ اور ہولے سے کہنے لگا کہ چاچا میرا مان رکھ لینا۔ یہ چاچی کو دینا ہے۔ اور جیب سے ہزار روپے کا نوٹ نکال کر اس کی جیب میں ڈالا کہ یہ کپڑے کی سلائی کے پیسے ہیں۔ چاچا نے لینے سے انکار کیا لیکن بالے کی آنکھوں میں نمی اترتی دیکھ کر اس نے بالے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کپڑے کی تھیلی اور پیسے رکھ لیے۔

شام کو بچہ آیا اور اپنے باپ کو ساتھ لے گیا۔ جاتے ہوئے اس نے بالے کو تشکر بھری نظروں سے دیکھا۔ دونوں طرف کی آنکھیں ڈبڈبا رہی تھی۔ چاچا رفیق کو جاتا دیکھ کر بالے کے آنسو تیزی سے بہہ نکلے۔ اس نے دل ہی دل میں خود کلامی کی ’اے مالک! کیسے کیسے فرشتے لوگ اس دنیا میں موجود ہیں۔ کیسی معصوم خواہشیں ہے ان کی۔۔‘

اگلا ایک ہفتہ پورا گزر گیا لیکن چاچا رفیق نہ آیا۔ بالے کو سخت تشویش ہوئی۔ اسے افسوس ہوا کہ اس نے کبھی چاچا رفیق سے یہ پوچھا ہی نہیں کہ وہ رہتا کہاں ہے۔ اس نے اپنے آس پاس ٹھیلے والوں سے بھی پوچھا کہ شاید کسی کو اس کے گھر کا پتہ معلوم ہو، لیکن سب نے ہی کہا تیری ہی گپ شب زیادہ تھی چاچے سے۔۔ اگر تو ہی نہیں جانتا تو ہمیں کیسے معلوم ہوگا۔

ایک دن بالا اپنا ٹھیلہ لے کر کچہری اپنی مخصوص جگہ پہنچا تو اس نے چاچا رفیق کی جگہ پر چادر بچھائے سامان اور وزن کرنے والی مشین کے ساتھ اس کے بیٹے کو دیکھا۔ اس نے ٹھیلے کو اپنی جگہ لگا کر جلدی سے اس بچے کے پاس آکر پوچھا کہ چاچا رفیق کہاں ہے؟

اس نے جواب دیا کہ ابا فوت ہوگیا ہے۔ یہ سن کر بالے کا دل افسردگی سے بھر گیا۔ درد کی ٹیس کو اس نے پورے وجود میں محسوس کیا۔ اس کی ٹانگیں بےجان سی ہو گئیں۔ اس کے کانوں میں چاچا رفیق کی آواز گونج رہی تھی ’بالے پتر۔۔ کہیں خواہش کی تکمیل مجھ سے جینے کا بہانہ ہی نہ چھین لے۔۔۔۔‘ اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور آنکھوں کا پانی آبِ رواں کی طرح بہہ نکلا۔ اس نے اپنے بہتے اشکوں کو رومال سے صاف کیا ۔ آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا ”سوہنے ربا! آج سمجھ آئی کہ تو ساری دعائیں قبول کیوں نہیں کرتا۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close