ایم بی بی ایس میں 29 گولڈ میڈلز حاصل کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر

ویب ڈیسک

اگرچہ اکتسابی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن بیشتر بچے خداداد صلاحیتیں لے کر دنیا میں آتے ہیں۔ جو بچے خداداد صلاحیتوں سے لیس ہوتے ہیں، خداداد اور غیر معمولی صلاحیت کے حامل طلبہ اپنی ذہنی استعداد کی بناء پر اسکول میں اپنے ہم عمر بچوں سے ذہانت اور دیگر استعدادوں میں اعلیٰ ہوتے ہیں

مار لینڈ رپورٹ کے مطابق ’’غیر معمولی یا خداداد، اعلیٰ صلاحیتوں، ذہانت، سودمند اختراعی فکر اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل نصابی و دیگر بصری اور نفسی حرکی (ذہنی عمل کے تحت انجام دینے والی- Psycho-motor) سرگرمی کو انجام دینے والے طلبہ کو کہا جاتا ہے۔‘‘

ٹرمن اور اوڈین کے مطابق غیر معمولی بچے نہ صرف جسمانی بناوٹ و سماجی ہم آہنگی سے لیس ہوتے ہیں، بلکہ وہ شخصی خصائل، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں عام بچوں سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں“

پاکستان میں بھی ایسے خداداد صلاحیتوں کے حامل بچوں کی کوئی کمی نہیں، ایسے بچے محدود وسائل اور سہولیات کی کمی کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتے ہیں

ایسی ہی ایک مثال لاہور کے نجی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے والے ڈاکٹر ولید ملک کی ہے

ڈاکٹر ولید نے پانچ سالہ تعلیمی دورانیہ میں ہونے والے ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام امتحانات میں انتیس گولڈ میڈل حاصل کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے

دلچسپ بات ہے کہ میڈیکل کی تعلیم میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے لاہور کے اس ہونہار طالب علم نے بہت چھوٹی سی عمر میں قرآن پاک بھی حفظ کر رکھا ہے

ولید ملک سے قبل پاکستان میں کسی ایک کورس میں زیادہ سے زیادہ گولڈ میڈلز حاصل کرنے کا اعزاز کنگز ایڈورڈز میڈیکل کالج کی طالبہ ڈاکٹر نورالصباح احمد کے پاس تھا، جنہوں نے پی ایچ ڈی میں تیئیس میڈل حاصل کیے تھے

ایسا یونیورسٹی کی 161 سال کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔یونیورسٹی کی جانب سے ہونہار طالبہ ڈاکٹر نورالصباح کو بیسٹ آل راؤنڈر گریجویٹ جبکہ بہترین کارکردگی پر پچاس ہزار روپے نقد انعام دیا گیا

اس کے علاوہ میڈیکل کے ایک اور طالبعلم ڈاکٹر شہزاد نے بھی 21 گولڈ میڈل حاصل کیے تھے

محمد ولید نے چار سال کے دوران تعلیم میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد آخری کانووکیشن پر انہیں 29 گولڈ میڈلز سے نوازا گیا

ولید نے یہ میڈلز مختلف مضامین میں ٹاپ کر کے، سب سے زیادہ نمبرز اور دیگر کیٹگریز میں حاصل کیا

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ان کی وڈیو میں، جو بعد ازاں وائرل ہو گئی، دیکھا جا سکتا ہے کہ صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی انہیں ایک کے بعد ایک میڈلز پہناتے ہوئے ہنس پڑیں

ڈاکٹر ولید ملک کے لیے یہ سب کچھ حاصل کرنا سہل نہ تھا۔ وہ بتاتے ہیں ”میرے والدین نے بڑی مشکل سے مجھے تعلیم دلوائی اور ابتدا میں مجھے مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر پھر میں نے اپنی محنت سے کامیابیاں سمیٹیں۔“

اس طالب علم نے پہلے ہی سمسٹر میں گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ بعد کے امتحانات میں مخلتف مضامین میں 85 فی صد سے زائد نمبر حاصل کر کے میڈل حاصل کیے

واضح رہے کہ میڈیکل کی تعلیم کے دوران گولڈ میڈل حاصل کرنے کے لیے طالبعلم کو 85 فیصد سے زائد نمبر یا کلاس میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنا ہوتے ہیں

اسی طرح مختلف کیٹگریز میں بھی میڈلز اپنے نام کروائے۔ ولید ملک کا کہنا ہے ”میں نے جب ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا تھا تو ابتدا میں تھوڑی مشکلات پیش آئیں لیکن پھر میں نے سخت محنت کی، جس کے باعث کامیابیاں نصیب ہوئیں۔“

انہوں نے کہا ”والدین، دوستوں اور اساتذہ نے بھی ہر قدم پر مجھے سپورٹ کیا۔“

ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے تمام بیٹے اور بیٹیاں ہونہار ہیں اور تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں سر انجام دیتے رہے ہیں لیکن ولید نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو دینی، دنیاوی اور اخلاقی تعلیم دی اور وہ خدا کے شکر گزار ہیں، جس نے انہیں ان کی محنت کا صلہ دیا ہے

ڈاکٹر ولید ملک، مستقبل میں بیرون ملک جا کر میڈیکل کی فیلڈ میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان واپس آکر بطور کنسلٹنٹ اپنی خدمات انجام دے سکیں

یقیناً نوجوان ہر قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں، جو ملک و قوم کی ترقی میں نہ صرف اہم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہیں بلکہ معاشرے کو اخلاقی اقدار، سماجی، ثقافتی اور تخلیقی ذہنوں سے روشناس کرواتے ہیں۔لیکن آج کے اس دور میں انہی نوجوانوں کی بیروزگاری ایک المیہ بن چکی ہے، جس کا حل خاص طور پر ملک میں دور تک دکھائی نہیں دیتا

اس وقت ہمارے پاس ہزاروں کی تعداد میں باصلاحیت پڑھے لکھے نوجوان موجود ہیں، جن کے پاس ڈگریاں ہیں اور وہ کام کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں مگر مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے اپنی فیلڈ میں کام نہیں کر پارہے۔ اگر ان نوجوانوں کی رہنمائی کے ساتھ مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ طلبہ بھی ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close