کیا سندھی ٹوپیاں بنانے کا ہنر زوال پذیر ہو رہا ہے؟

ویب ڈیسک

کسی قوم کی ثقافت اس کے رسم و رواج، روایات اور لباس سے پہچانی جاتی ہے۔ لباس ایک ایسی چیز ہے، جسے دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کس علاقے یا قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ سندھی ٹوپی بھی سندھی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ جسے سندھی قوم سے تعلق رکھنے والے ہر عمر کے لوگ پہنتے ہیں۔ شادی کے وقت، ٹوپی کو سندھی دولہا کے لیے ضروری سامان سمجھا جاتا ہے

ٹوپی کا سندھی لوک ادب، ثقافت ، تہذیب اور رسم و رواج میں بہت بڑا اثر رہا ہے۔ شادیوں اور دیگر خوشی کے مواقع پر خواتین اس کے بارے میں گیت گاتی ہیں

گزشتہ روز سندھی ثقافت کے دن پر صوبے بھر میں سندھی ٹوپی اور اجرک کی بہار دیکھنے میں آئیں کیونکہ اجرک کے ساتھ ساتھ سندھی ٹوپی کو بھی سندھی ثقافت میں اہم حیثیت اور مرتبہ حاصل ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے سندھی اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہوئے یہ مخصوص پہناوا ضرور استعمال کرتے ہیں

سندھی ٹوپی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، جو ایک محرابی شکل میں میں آگے سے کٹی ہوئی ہوتی ہے

سندھ کے ضلع مٹیاری میں نیو سعید آباد کو سندھی ٹوپی بنانے والا شہر کہا جاتا ہے، جہاں سندھی ٹوپیوں کی لگ بھگ تیس دکانیں ہیں، جہاں تقریباً دو ہزار کاریگر اور مزدور کام کرتے ہیں

سعید آباد سندھی ٹوپی ایسوسی ایشن کے صدر وسیم احمد میمن بتاتے ہیں ”یہاں بننے والی سندھی ٹوپی پورے پاکستان اور دنیا میں سپلائی کی جاتی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری بھی ان کی دکان سے سندھی ٹوپی بنواتے ہیں

وسیم میمن کے مطابق ”آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری کے لیے سندھی ٹوپی میرے والد بنایا کرتے تھے، جبکہ مخدوم خاندان کے علاوہ سندھ کے بڑے بڑے زمیندار اور سرمایہ دار بھی سندھی ٹوپیاں خریدنے میرے پاس آتے ہیں“

وسیم میمن مہینے میں بیس سے تیس ٹوپیاں بنا لیتے ہیں، جو بیرون ملک کے علاوہ حیدرآباد ڈویژن، کراچی، کوئٹہ اور بلوچستان میں بھی جاتی ہیں

تاہم انہوں نے بتایا ”سندھی ٹوپی بنانے کا کام دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے، جس کی بڑی وجہ مہنگائی ہے۔ لوگ کہاں سے دس ہزار کی ٹوپی خریدیں گے۔ اب تو کاری گروں کو اجرت دینا مشکل ہو گیا ہے“

گذشتہ تین دہائیوں سے سندھی ٹوپی بنانے والے کاریگر احسان اللہ نے بتایا کہ مشین نے ہاتھ کے کاری گر کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ ہاتھ کے کام میں محنت زیادہ اور معاوضہ کم ہے

انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے سندھی ٹوپی بنانے میں ایک سے دو مہینے لگ سکتے ہیں لیکن معاوضہ اس حساب سے نہیں ملتا

احسان اللہ کے مطابق ”اب یہ فن دم توڑنے لگا ہے، کیونکہ نئی نسل اس کام میں آنا نہیں چاہتی اور پرانے کاریگر صحت کی وجوہات کی بنا پر یہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے“

احسان اللہ نے سندھی ٹوپی بنانے کے طریقے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ”سب سے پہلے درزی بکرم سے ٹوپی کی شکل کی سلائی کرتا ہے، جس کے بعد کالے پٹے بنائے جاتے ہیں، اور پھر چھپائی پر کام، جبکہ آخر میں شیشہ لگایا جاتا ہے۔“

صوبہ سندھ کے دیہی علاقوں کی خواتین ایسے بہت سے کاموں میں مہارت رکھتی ہیں جو گھر سے کیے جا سکتے ہیں۔ ان کاموں میں دستکاری، ایپلک (ٹک) دھاگے کی کڑھائی، سندھی ٹوپی اور رلی بنانا قابل ذکر کام ہیں۔

دیہی خواتین کو ان کاموں کے لیے بچپن سے تیار کیا جاتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت وہ ان کاموں کے ذریعے اپنا گزر بسر کر سکیں۔ تاہم کورونا کے باعث لگنے والی پابندیوں اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی نے ان خواتین کے روزگار کو بہت حد تک متاثر کیا ہے اور کئی خواتین کا کام تو ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

سندھی ٹوپی کی تاریخ

انسائیکلوپیڈیا سندھیانہ کے مطابق
سندھی ٹوپی کا ترقی یافتہ فن اس قدر مقبول ہو گیا ہے کہ اسے مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک یا دیگر اقوام کے دوستوں کو بطور تحائف بھیجا جاتا ہے۔ ٹوپی کی قیمت اس کی ساخت پر منحصر ہے

ایک روایت کے مطابق جب بلوچ قوم سندھ میں پہنچی اور سندھی اور بلوچ تہذیبیں آپس میں گھل مل گئیں تو بہت سی رسوم و رواج کے تبادلے کے علاوہ بلوچوں کی طرف سے سندھی لباس میں جو نئی چیز آئی، وہ تھی ٹوپی، لیکن بلوچ زیادہ تر ٹاٹ کی سخت ٹوپیاں پہنتے تھے، جبکہ سندھ میں نرم ٹوپیوں کو پسند کیا جاتا تھا

ابتدا میں سندھی لوگ ٹوپیاں نہیں پہنتے تھے بلکہ سر پر پگڑی کی صورت کپڑا پہنتے تھے، اس وقت ہر سندھی کے لیے سر ڈھانپنا لازمی تھا کیونکہ سندھی تہذیب میں ننگے سر والے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت لوگ پگڑی کے علاوہ ٹوپیاں بھی پہنتے تھے

یہ ٹوپیاں زیادہ تر دو قسم کی تھیں۔ ٹوپیوں کی پہلی قسم، جو صرف شکارپور میں بنائی گئیں اور آج تک بنتی ہیں، وہ سفید کپڑے سے بنی ہوتی تھیں۔ یہ ٹوپیاں کپڑے کی دو تہوں کو آپس میں جوڑ کر اور ریشم کی طرح اندر بھر کر بنائی جاتی تھیں۔ ان ٹوپیوں میں محراب وغیرہ نہیں تھے بلکہ مکمل طور پر گول تھیں۔ یہ ٹوپیاں زیادہ تر شرفا اور عبادت گزار پہنتے تھے

تقسیم ہند سے پہلے سندھ میں اور اب ہر جگہ دونوں قسم کی ٹوپیاں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ یہ ٹوپیاں ہندو اور مسلمان دونوں پہنتے تھے۔ یہ ٹوپیاں زیادہ تر سفید کپڑے سے بنی ہوتی تھیں لیکن آج کل کی ٹوپیوں کی طرح ان پر بھی ریشم اور زری کی کڑھائی کی جاتی تھی۔ کچھ ٹوپیوں کو پھولوں سے بھی سجایا جاتا تھا اور کچھ ٹوپیوں کو بیچ میں ایک پھول سے سجایا جاتا تھا

اس وقت سندھی ٹوپی کو سندھی لباس میں ایک تسلیم شدہ حیثیت اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سندھ میں ٹوپی بنانے کا موجودہ دور تیسرا دور ہے

سندھی ٹوپی کے تین ادوار

ریشم : برصغیر پاک و ہند میں جب سندھ کو بمبئی پرگنہ سے ملایا گیا، اس وقت کشمیر سے سندھ میں ایک قسم کا اعلیٰ اور مہنگا ریشم یا مختلف رنگوں کا ریشم فروخت ہوتا تھا ۔ اس ریشم سے بہت سی ٹوپیاں بنتی تھیں اور ان میں شیشے یا ستارے بندھے ہوتے تھے۔ یہ ٹوپی کا پہلا دور ہے ۔ اس مدت کے دوران، ٹوپیاں نرم کپڑے سے بنا کر ان میں ریشم کے دھاگے سے شیشے ٹانکے جاتے تھے۔ ٹوپی کی محراب کو آدھے دائرے میں کاٹا جاتا تھا اور سندھی ٹوپی کے اوپر پگڑی بادھتے تھے ۔ عام حالات میں ٹوپی کا یہ نمونہ اب ختم ہو چکا ہے۔ لیکن پگڑی پہننے والے لوگ اب بھی اس قسم کی ٹوپی استعمال کرتے ہیں

سرمے کا دور: ٹوپی کی صنعت یا دستکاری میں ایک اور اہم موڑ اس وقت آیا جب شیشوں کی بجائے چمک کے لیے سرمے کا استعمال کیا گیا۔ ریشمی کپڑے پر سرمے کے رنگ برنگے دھاگوں کو بڑی مہارت سے اس طرح ترتیب دیا جاتا تھا کہ جب سر پر پہنا جائے تو ٹوپی تاج کی طرح چمکتی تھی

زری اور سیم کا جدید دور: اس دور کو ٹوپی کے فن کا تیسرا یا جدید دور کہا جاتا ہے۔ اب ٹوپیاں مختلف رنگوں جیسے سبز، سرخ، سنہری یا سفید زری سے بنتی ہیں۔ اس ٹول کے ذریعے ٹوپی پر مختلف ڈیزائن تیار کیے جاتے ہیں، جن میں گول، آدھا گول، مربع، مستطیل، پان، کونے، پتے، پھول اور دیگر نقش اٹھائے گئے ہیں۔ اس ٹوپی کی نوک اور کپڑے کی دیوار کو تین یا چار حصوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے ۔ان کو اندر پلاسٹک یا بکرم ڈال کر بہت مشکل سے بنایا جاتا ہے اور پھر ان پر زری کام کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی ٹوپی میں ریشم کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ آج کی ٹوپیوں میں وہ ٹوپیاں بھی شامل ہیں جو رال یا چمڑے کے اوپر رنگین یا سفید سیم کو سلائی کرکے بنائی جاتی ہیں۔ زری بھرت کو سیم بھرت کے بعد باقی حصوں یا خانوں میں استعمال نہیں کیا جاتا۔

سندھ میں ٹوپیوں کے فن کے لیے کوئی الگ صنعت یا کارخانے قائم نہیں ہیں لیکن یہ کام روایتی طور پر دکانوں میں اور گھروں میں کیا جاتا ہے۔ یہ کام دکانوں میں مرد اور سندھی یا بلوچ خواتین اپنے گھروں میں کرتی ہیں۔ یہ خواتین اس کام میں اتنی ماہر ہیں کہ انسان دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ یقین کرنا مشکل ہے کہ کچھ ان پڑھ عورتیں صرف سوئی اور دھاگے کی مدد سے ایسا کام کر سکتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سندھ کے دیہات میں رہنے والی دیہی خواتین گھریلو کاموں سے آزاد ہو کر فراغت کے اوقات میں طرح طرح کی ٹوپیاں بناتی ہیں، پہلے یہ کام اپنے شوہروں یا بچوں کے لیے کرتی تھیں لیکن اب جب ٹوپیاں عام ہو گئی ہیں، تو انہیں فروخت کرنے کے لیے بھی بنایا جاتا ہے

ٹوپی بنانے یا دستکاری سندھ کے دیہی علاقوں کا ایک خاص فن ہے اور دیہی خواتین یہ کام پوری نفاست سے کرتی ہیں، اس لیے سندھ کے کئی دیہاتوں میں ٹوپیاں بنائی جاتی ہیں، لیکن سندھ کے جو گاؤں یا چھوٹے شہر اس فن کے لیے مشہور ہیں۔ وہ ضلع جیکب آباد کے گڑھی خیرو اور میرپور برڑو کے علاوہ کندھ کوٹ، غوث پور، ٹھل، سکھر ضلع میں پنوعاقل، کندھرا ، گھوٹکی میں ڈہرکی ، خانپور مہر اور شکارپور تعلقہ گڑھی یاسین میں چھٹی ڈب کا ایک گاؤں ہیں ۔ ضلع لاڑکانہ کے تحصیل میرو خان، شہداد کوٹ، قمبر، رتودیرو اور ضلع مٹیاری کے ہالا، نیو سعیدآباد وغیرہ بھی اس فن کے لیے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ دادوضلع کے کچھ دیہاتوں میں یہ فن بہت زیادہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close