السی کے تیل سے بنی اسمارٹ فون اسکرین، جو ٹوٹ کر دوبارہ جڑ جائے گی

نیوز ڈیسک

’کمپوزٹس پارٹ بی: انجینئرنگ‘ نامی ریسرچ جرنل کے ایک حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کوریا کے سائنسدانوں نے السی کے تیل کے استعمال سے ایسی اسمارٹ فون اسکرین تیار کی ہے، جو ٹوٹنے کے بعد پھر سے خود بخود جڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے

ذہن میں رہے کہ اسمارٹ فون اسکرین بنانے میں شیشے کی جگہ بے رنگ پولی امائیڈ (سی پی آئی) کہلانے والے ایک خاص طرح کے شفاف اور لچک دار پلاسٹک کا استعمال بڑھتا جارہا ہے لیکن اس میں بھی شیشے کی طرح  ٹوٹ جانے کی خامی موجود ہے

بے رنگ پولی امائیڈ (سی پی آئی) کا یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے جنوبی کوریا میں ’کوریا انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ کے سائنسدانوں نے السی کے تیل سے بھرے ہوئے خردبینی کیپسول تیار کیے اور انہیں ’پولی ڈائی میتھائل سائلوگزین‘ کہلانے والے شفاف سلیکون میں ملایا گیا اور اس محلول کو روایتی سی پی آئی اسکرین پر لگا کر خشک ہونے دیا گیا

رپورٹ کے مطابق تجربات کے دوران یہ اسمارٹ فون اسکرین چٹخائی گئی اور اس میں دراڑیں بھی ڈالی گئیں۔ تاہم اسی دوران مائیکرو کیپسولز بھی ٹوٹ گئے اور ان سے نکلنے والے السی کے تیل نے پولی امائیڈ سے کیمیائی عمل شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں اسکرین پر پڑنے والی دراڑیں دوبارہ صحیح ہونے لگیں۔ البتہ یہ عمل بہت سست رفتار تھا جسے مکمل ہونے میں کئی گھنٹے لگ گئے

معلوم ہوا کہ عام درجہ حرارت پر السی کے تیل سے اسمارٹ فون اسکرین کی خراشیں یا دراڑیں بھرنے کا عمل بہت زیادہ وقت لیتا ہے لیکن اگر ہوا میں نمی 70 فیصد اور درجہ حرارت بھی 70 ڈگری سینٹی گریڈ ہو تو اسکرین کی بحالی خاصی تیز رفتار ہوجاتی ہے

لیکن اس کے بجائے اگر اسکرین پر الٹراوائیلٹ شعاعیں ڈالی جائیں تو مائیکرو کیپسولز سے نکلنے والا السی کا تیل صرف بیس منٹ میں خشک ہو کر سخت ہوجاتا ہے، جس سے اسکرین پر پڑنے والی 95 فیصد دراڑوں کی مرمت ہوجاتی ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close