نواز شریف نے عمران خان کو دہشت گرد قرار دے دیا، ”بھرپور کارروائی کی جائے“

ویب ڈیسک

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے سیاسی حریف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف بھرپور کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ دہشت گرد ہے

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کے خلاف بھرپور کارروائی کی حمایت کی

چار ہفتوں کی عدالتی ضمانت پر علاج کی غرض سے لندن جا کر وہاں چار سالوں سے مقیم نواز شریف نے کہا ”ہر کوئی جانتا ہے کہ عمران ایک فراڈ ہے لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک دہشت گرد بھی ہے اور یہ کوئی معمولی دہشت گردی نہیں ہے“

نواز شریف کا کہنا تھا ”پاکستانی سیاست میں اس طرح کا بڑا فراڈ اور دہشت گرد کبھی نہیں دیکھا“

انہوں نے کہا ”پیٹرول بم کیوں استعمال ہوئے، اس لیے کہ پولیس والے جل کر جاں بحق ہوں، اس کو یہ کس نے سکھایا ہے، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت اس طرح کا رویہ اختیار کر رہی ہے“

سابق وزیراعظم نے کہا ”یہ ناقابلِ قبول ہے، ان کے خلاف مکمل کارروائی ہونی چاہیے“

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں توڑ پھوڑ اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے مقدمات پر نامزد ملزموں کے خلاف کارروائی ہوگی

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان 28 فروری کو جتھوں کے ساتھ آئے اور اس جتھے نے جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا، یہ لوگ طاقت کے زور پر مین گیٹ توڑ کر کمپلیکس میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کی

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان مقدمات پر کارروائی کرتے ہوئے شرپسند عناصر جنہوں نے سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا جو ہتھیار لے کر آئے، جلاؤ گھیراؤ کیا، عمران خان نیازی سمیت تمام ملزمان اس پر گرفتاری کے مستحق ہیں اور ان پر دہشت گردی کا مقدمہ چلایا جائے اور یہ اپنے انجام کو پہنچیں

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اس حوالے سے جے آئی ٹی بنائی گئی ہے، جو ان چاروں کیسز کی سماعت کرے گی اور چودہ دنوں کے اندر اپنی تفتیش مکمل کرے گی

دوسری جانب اس سے قبل پی ٹی آئی نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں پر ریاست کی جانب سے زیر حراست تشدد کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کیا ہے

پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایک خط کے ذریعے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد اور دیگر وحشیانہ تشدد ڈاکٹر ایلس جل ایڈورڈز سے رابطہ کیا ہے

انہوں نے اقوام متحدہ کو لکھا ہے ”گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران ہم نے بدترین زیر حراست تشدد اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیاں دیکھی ہیں، جو خاص طور پر اظہار آزادی اور پرامن اجتماع کا حق استعمال کرنے والے غیرمسلح افراد، خواتین اور یہاں تک کہ بچوں کے خلاف اغوا، گھروں میں ہراساں کرنا اور آنسو گیس کا مسلسل استعمال، کیننز میں کیمیکل کا پانی اور ربر کی گولیاں برسائی جا رہی ہیں“

شیریں مزاری نے لکھا ہے کہ تازہ مثال پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف ابتدائی طور پر لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں پولیس، رینجرز کی جانب سے اغوا، زیر حراست تشدد ہے جو بعد میں پورے ملک میں پھیل گیا

انہوں نے کہا کہ لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ پر کارکنوں کو ہٹانے کے لیے حملہ کیا گیا جو عمران خان کے ممکنہ قتل کے منصوبے کے خلاف ان کا دفاع کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے کیونکہ ان کے قتل کا ایک منصوبہ نومبر 2022 میں ناکام ہو چکا ہے

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 8 مارچ سے 18 مارچ تک پولیس اور رینجرز نے زمان پارک کے علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کیا، ایک کارکن کو حراست میں لینے کے بعد قتل کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقتول کارکن کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تھی، جس میں ظاہر ہوا کہ ان کی موت حراست کے دوران ہوئی اور اس کے بعد ان کی لاش پھیبنک دی گئی

شیریں مزاری نے کہا کہ ’18 مارچ کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتےہوئے پنجاب پولیس اور رینجرز کی بھارت نفری نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے گھر کا دروازہ توڑا اور ان کے گھر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close