ہمارے حکمران، قرض کی مے اور آئی ایم کے پڑوس میں نیا مے خانہ

امر گل

حال ہی میں ڈوئچے ویلے میں ایک اسٹوری شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں کے طور پر ابھرنے والے ملکوں کا پلیٹ فارم برکس (BRICS) مغرب کے مرکزی دھارے سے باہر، ایک سفارتی فورم کے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنانسنگ کی پیشکش کرنے والے فورم کے طور پر سامنے آ رہا ہے

اس فورم کی اب تک کی سرگرمیوں کو دیکھ کر یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ برکس ممالک یعنی برازیل، رشیا، انڈیا، چائنا اور ساؤتھ افریقہ موجودہ بین الاقوامی مالیاتی اور سیاسی فورمز کے متبادل کے طور پر خود کو ترتیب دے رہے ہیں

ڈوئچے ویلے کی رپورٹ میں جرمن انسٹیٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور سکیورٹی امور SWP کے ڈپٹی ڈائریکٹر گؤنتھر مائی ہولڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ”ابھرتی ہوئی معیشتوں کا افسانہ ختم ہوا، برکس ممالک اب اپنے جیو پولیٹیکل دور کا تجربہ کر رہے ہیں۔‘‘ برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ G7 کا ایک ’متبادل ماڈل‘ فراہم کرتے ہوئے، گلوبل ساؤتھ کے نمائندوں کے طور پر مورچہ سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں

واضح رہے کہ G7 دنیا کی سب سے ترقی یافتہ معیشتوں کے سربراہان مملکت کا ایک ’غیر رسمی فورم‘ ہے، جس کی بنیاد سن 1975ع میں رکھی گئی تھی۔ اس کے ارکان میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی، جاپان، کینیڈا اور امریکہ شامل ہیں

ابتدا میں برازیل، روس، بھارت اور چین کے رکن ممالک کے ناموں کے ابتدائی حروف سے بنے BRIC گروپ کو 2001ع میں کثیر القومی سرمایہ کاری بینک گولڈمین زیکس کے اُس وقت کے چیف اکانومسٹ جم او نیل نے وضع کیا تھا۔ اس وقت، چاروں ملکوں نے بلند اقتصادی ترقی کی شرح کو برقرار رکھا تھا اور برکس کا لیبل ان ممالک کے مستقبل کے بارے میں اقتصادی اُمید کی نشانی تھی۔ اس لیبل کے مخالفین نے کہا تھا کہ یہ ممالک اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ گروپنگ کرنے کے لیے بہت متنوع ہیں، مگر اب اس کے مغربی ناقدین اسے گولڈ مین زیکس کی مارکیٹنگ کی چال قرار دیتے ہیں

یہ گروپ G7 کی طرح بین الحکومتی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ 2009 میں، چاروں ممالک نے روسی علاقے یکاترینبرگ میں اپنی پہلی سربراہی ملاقات کی۔ 2010 میں، جنوبی افریقہ کو اس گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی اور اس طرح اس کے نام میں یعنی BRIC میں ”S‘‘ کا اضافہ ہو گیا، اور یہ BRICS بن گیا

2014 میں لگ بھگ چھیالیس بلین یورو کے ساتھ، برکس ممالک نے عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے متبادل کے طور پر ایک نئے ترقیاتی بینک کی شروعات کی۔ اس کے علاوہ ’کنٹینجینٹ ریزرو ارینجمنٹ‘ نامی لیکویڈیٹی میکانزم بھی بنایا

یہ پیشکشیں نہ صرف خود برکس ممالک کے لیے پرکشش تھیں بلکہ بہت سی دوسری ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بھی، جنہیں آئی ایم ایف کے پروگراموں سے کافی تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک نے برکس گروپ میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی

برکس بینک نے نئے اراکین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ سن 2021 میں، مصر، متحدہ عرب امارات، یوراگوئے اور بنگلہ دیش نے اس کے حصص خریدے، تاہم، یہ بینک کے بانی اراکین کی جانب سے کی گئی متعلقہ دس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے بہت کم تھے

رواں مہینے یعنی مارچ کے آغاز میں ہی جنوبی افریقہ کی وزیر خارجہ نیلیڈی پانڈور نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بتایا ”برکس گروپ میں دنیا بھر کی دلچسپی بہت بڑھ رہی ہے۔ ہمارے پاس دلچسپی رکھنے والے ممالک کے بارہ خطوط پہنچے ہیں“

نیلیڈی پانڈور نے سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات، مصر، الجزائر اور ارجنٹائن نیز میکسیکو اور نائیجیریا تک کا نام لے کر ان کی دلچسپی کے بارے میں بتایا

جنوبی افریقی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا ”ایک بار جب ہم نے قرض دینے کے لیے معیارات مرتب کر لیے، تب ہم فیصلہ کریں گے۔ اس موضوع کو جنوبی افریقہ میں اگست میں ہونے والے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا“

چودراہٹ کے دنگے کا میدان بنی اس دنیا کے پنڈ میں اس فورم کو لے کر امریکہ اور مغرب کی اپنی درد سری ہے۔ یوکرین میں روسی جنگ کے آغاز کے بعد سے، برکس ممالک نے صرف اپنے آپ کو مغرب سے دور رکھا ہے۔ بھارت، برازیل، جنوبی افریقہ یا چین روس کے خلاف پابندیوں میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ اس کی واضح نشانیاں بھارت اور روس کے درمیان تجارت کی قربت کی تاریخی سطح اور روسی کھاد پر برازیل کا انحصار ہیں۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے ماہر سیاسیات میتھیو بشپ نے گزشتہ سال کے آخر میں اکنامکس آبزرویٹری کے لیے ایک آرٹیکل میں تحریر کیا ”سفارتی طور پر، ایسا لگتا ہے کہ یوکرین کی جنگ نے مشرقی حمایت یافتہ روس اور مغرب کے درمیان ایک واضح تقسیم کی لکیر کھینچ دی ہے۔‘‘

نتیجتاً، یہ یورپی اور امریکی پالیسی سازوں کے آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھنے لگا ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ برکس عالمی نمو اور ترقی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنے والی ابھرتی ہوئی طاقتوں کا اقتصادی کلب کم اور ان ممالک کی آمرانہ قوم پرستی کا محرک زیادہ بن جائے گا

مغربی اور امریکی پالیسی سازوں کے اس خدشے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ فورم اقتصادی کلب کے ساتھ ساتھ ایک نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔ لیکن دنیا کے تالاب میں چھوٹے ملک جس طرح جی سیون ممالک کے مگر مچھ کی خوراک بنتے رہے ہیں، مفادات کی بھوک برکس کو بھی چھوٹی مچھلیوں کے لیے مگرمچھ ہی بنا دے گی

اب اس تالاب کے ایک کنارے پر آئی ایم ایف اپنے پرانے جال کے ساتھ موجود ہوگی اور دوسرے کنارے پر ’کنٹینجینٹ ریزرو ارینجمنٹ‘ فشر کئپ پہنے اپنے نئے جال کے ساتھ انٹری مارے گی

لیکن امکانات کی اس دنیا میں پاکستان اور اس کے قرض کی مے کے عادی موالی حکمران کہاں کھڑے ہیں، جو اپنے آپ کو بھکاری کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔۔ جن کی مینٹل اپروچ بس اتنی ہے کہ جب انہیں بھیک میں قرض ملتا ہے، تو وہ پیسے خرچ کر کے قوم کو مبارکباد کے پیغام کے لیے اخبارات میں صفحے بھر کے بڑے بڑے اشتہارات شائع کرواتے ہیں!

جس ملک کے حکمرانوں کے پاس اپنی ذاتی دولت کے انبار بیرون ملک کے بنکوں میں پڑے ہوں اور وہ اپنی ذاتی دولت کے دسویں حصّے سے بھی کم، مالیاتی اداروں سے بھیک نما قرض ملنے کو کامیابی سمجھتے ہوں، وہاں بہتر امکانات کی بات کرنا چہ معنی دارد؟ امکان واضح ہے۔۔ ان کی ذاتی دولت میں اضافہ ہوگا اور عوام کو ملے گی مبارکباد کے پیغام کے اشتہارات کے اخبارات کی ردّی، جس میں وہ پکوڑے خرید کر کھائیں گے اور ملک کی سیاست پر بحث کریں گے

پاکستان جیسے ملکوں کے لیے زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کے حکمرانوں کے لیے قرض کی مے حاصل کرنے کے لیے بازار میں آئی ایم ایف کے پڑوس میں ’کنٹینجینٹ ریزرو ارینجمنٹ‘ کا نیا ’مے خانہ‘ کھل جائے گا۔ وہ چوبیسوں گھنٹے ٹُن رہیں گے اور ’قرض کی پیتے تھے مے“ کا نیا ورژن، ’بیگرز کانٹ بی چوزرز‘ کی نئی بیٹ کے ساتھ گائیں گے۔۔ اور ہمیں ”اے پُتر ہٹاں تے نہیں وِکدے“ گانے پر لگایا ہوا ہے۔

(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close