کہانی گھڑی گھڑی کی۔۔۔

محمد عمر حیات

لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی جزوی تعمیل کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے اس ماہ کے آغاز میں توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات عام کیں، جس سے یہ آشکار ہوا کہ سرکاری دفاتر میں بیٹھے سیاستدانوں کو گھڑیوں کا بےحد شوق ہے

سیاستدان ہوں، بیوروکریٹس یا پھر فوجی اہلکار، گمان ہوتا ہے، جیسے غیر ملکی دوروں یا سربراہانِ مملکت کے دورہِ پاکستان کے دوران جتنے تحائف انہیں ملتے ہیں، ان میں سے مہنگی گھڑیوں کی کشش سب ہی کو اپنی جانب راغب کرتی ہے

اگرچہ ہمارے حکمرانوں کو ملنے والے تحائف میں زیورات، نوادرات، لگژری گاڑیوں سے لےکر ہتھیار تک موجود ہوتے ہیں، لیکن اس مضمون میں ہم ان گھڑیوں پر توجہ دیں گے، جو ہمارے ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے 2008ع سے حاصل کی ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں

پہلی وجہ یہ ہے کہ جب ہم توشہ خانہ کے ریکارڈ پر سرسری نظر ڈالتے ہیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 2002ع سے تحائف کی صورت میں دی جانے والی اشیا میں سب سے زیادہ تعداد گھڑیوں کی ہے اور ان تحائف میں مجموعی طور پر 1260 گھڑیاں شامل ہیں (بشمول جیبی اور ٹیبل گھڑیاں)

دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں عدالت کی جانب سے توشہ خانہ کا ریکارڈ منظرِعام پر لائے جانے کے فیصلے سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے رکھی جانے والی گھڑی اور بعدازاں اسے بیچنے کی تفصیلات میڈیا میں لیک ہو گئی تھیں۔ ان حقائق نے ملک میں سنسنی پھیلا دی تھی جبکہ یہ معاملہ تمام نیوز چینلز اور اخباروں کی شہ سرخیوں کی زینت بنا تھا

اس وقت عمران خان کروڑوں مالیت کی گھڑیوں کی وجہ سے قومی احتساب بیورو کی جانب سے ’کرپشن کی تحقیقات‘ کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ اسی دوران موجودہ حکومت اور اس کے کئی وزرا ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر باقاعدگی سے یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ’گھڑی چور‘ ہیں، جنہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے توشہ خانہ کے تحائف سے فائدہ اٹھایا

سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کے بعد انکشاف ہوا کہ ’گھڑی چور‘ پر تنقید کرنے والے بہت سے ناموں نے توشہ خانہ سے گھڑیاں لی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی آشکار ہوا کہ سیاسی جماعتوں میں تو یہ عام رواج تصور کیا جاتا ہے

ملک کے موجودہ سیاسی بیانیے میں گھڑیوں کے معاملے پر برپا اس ہلچل اور کچھ افراد پر اس کے قانونی اثرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہمیں یہ بات دلچسپ لگی کہ ہم ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کا اس معاملے پر موازنہ کریں اور توشہ خانہ کی گھڑیوں کے ساتھ ان کے تعلق پر نظر ڈالیں

موازنے کا یہ عمل کافی تھکا دینے والا تھا کیونکہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات پی ڈی ایف کی صورت میں تھیں اور ان میں سیکڑوں صفحات پر ہزاروں اندراجات تھے۔ کہیں تو صرف وصول کنندہ کا عہدہ (جیسے وزیرِ دفاع پاکستان) درج تھا تو ہمیں تصدیق کے لیے خود تحقیق کرنی پڑ رہی تھی کہ دستاویز پر درج تاریخ پر اس عہدے پر کون موجود تھا

2008ع سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے لی جانے والی گھڑیوں (کلائی پر باندھی جانے والی) کی تفصیلات کو الگ کرنے کے بعد ڈان ڈاٹ کام کے سامنے یہ حقائق آئے

پاکستان پیپلز پارٹی کا دورِ حکومت (2008ء-13ء)

پی پی پی کے رہنماؤں نے مجموعی طور پر ایک کروڑ 22 لاکھ روپے مالیت کی 60 گھڑیاں توشہ خانہ سے حاصل کیں۔ انہوں نے ان تمام گھڑیوں کے عوض 20 لاکھ روپے سے کچھ زیادہ کی رقم ادا کی

اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، ان کے گھروالوں اور مہمانوں نے 21 لاکھ روپے مالیت کی 9 گھڑیاں حاصل کیں جس کے لیے انہوں نے 3 لاکھ 51 ہزار 526 روپے ادا کیے

2008ء سے 2013ء تک صدرِ مملکت رہنے والے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے 44 لاکھ روپے مالیت کی 8 گھڑیاں، 7 لاکھ روپے کی رقم کے عوض حاصل کیں

اس دور کے وزیر برائے پانی اور توانائی اور بعد ازاں یوسف رضا گیلانی کے نااہل ہونے کے بعد 2012ء میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے والے راجہ پرویز اشرف اور ان کے گھروالوں نے 12 لاکھ روپے مالیت کی 5 گھڑیاں، توشہ خانہ سے 2 لاکھ 30 ہزار 410 روپے ادا کرکے حاصل کیں

پی پی پی کی حکومت میں وزیرِ پیٹرولیم کا عہدہ سنبھالنے والے ڈاکٹر عاصم حسین نے بھی 5 لاکھ 45 ہزار روپے مالیت کی 5 گھڑیاں حاصل کیں جس کے لیے انہوں نے 95 ہزار 962 روپے ادا کیے

مسلم لیگ (ن) کا دورِ حکومت (2013ء-18ء اور 2008ء میں مختصر دورِ حکومت)

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے 17 کروڑ 30 لاکھ مالیت کی 54 گھڑیوں کے لیے صرف 3 کروڑ 45 لاکھ روپے کی رقم ادا کی

نواز شریف کی کابینہ میں وزیرِ پیٹرولیم اور بعد ازاں 2017ء میں وزیرِاعظم پاکستان بننے والے شاہد خاقان عباسی اور ان کے گھر والوں نے 12 گھڑیاں (جن میں 4 رولیکس اور 3 ہوبلوٹ بھی شامل ہیں) جوکہ 10 کروڑ 10 لاکھ روپے کی خطیر مالیت کی تھیں، انہیں صرف 2 کروڑ روپے ادا کرکے حاصل کر لیا

حاصل کی گئی گھڑیوں کی تعداد اور مالیات کے اعتبار سے تینوں جماعتوں کے رہنماؤں میں شاہد خاقان عباسی کا نام سرفہرست ہیں

مسلم لیگ ن کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے گھر والوں نے 11 گھڑیاں توشہ خانہ سے حاصل کیں جن میں سے 5 رولیکس گھڑیاں ہیں۔ ان کی مالیت ایک کروڑ 76 لاکھ روپے ہے جبکہ ان گھڑیوں کی عوض انہوں نے 35 لاکھ روپے کی رقم ادا کی ہے

مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے والے خواجہ آصف نے بھی توشہ خانہ سے 4 کروڑ 14 لاکھ مالیت کی 5 گھڑیاں حاصل کیں جس کے لیے انہوں نے 82 لاکھ روپے ادا کیے

سابق صدرِ مملکت ممنون حسین اور ان کے گھر والوں نے بھی 27 لاکھ مالیت کی 5 گھڑیاں توشہ خانہ سے حاصل کیں جس کے لیے انہوں نے 5 لاکھ 35 ہزار 60 روپے ادا کیے

پاکستان تحریکِ انصاف کا دورِ حکومت (22-2018ء)

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے 11 کروڑ 10 لاکھ مالیت کی 20 گھڑیاں 2 کروڑ 70 لاکھ کی رقم ادا کرکے حاصل کیں

پارٹی چیئرمین عمران خان نے بطور وزیراعظم 9 کروڑ 66 لاکھ روپے میں 7 گھڑیاں حاصل کیں جس بنا پر وہ مجموعی طور پر گھڑیوں کی مالیت کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر موجود ہیں

انہوں نے ان گھڑیوں کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقم ادا کی۔ ان میں 5 رولیکس اور ایک گراف گھڑی بھی شامل تھی

عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے اورسیز پاکستانی، زلفی بخاری نے 20 لاکھ روپے مالیت کی 3 گھڑیاں توشہ خانہ سے 9 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرکے حاصل کیں

وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہنے والے شاہ محمود قریشی نے بھی توشہ خانہ سے 8 لاکھ 70 ہزار روپے کے عوض 2 گھڑیاں اپنی ذاتی ملکیت میں لیں جن کی مالیت کا تخمینہ 18 لاکھ روپے لگایا گیا تھا

پی ٹی آئی کے دور میں وزیر دفاع رہنے والے پرویز خٹک نے 13 لاکھ مالیت کی 2 گھڑیاں 2 لاکھ 54 ہزار کی رقم ادا کرکے حاصل کیں

قانونی چوری؟

ان میں سے کوئی بھی لین دین، کم از کم دستاویزات کے تحت غیرقانونی نہیں تھا

ایسا توشہ خانہ کے قوانین کی وجہ سے ہے، جس کی منظوری وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے دی تھی۔ ان قوانین کے تحت حکام کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ تحائف کی کل قیمت کا کچھ حصہ ادا کرکے انہیں اپنی ذاتی ملکیت میں لے سکتے ہیں

جب 2008ء میں پی پی پی اقتدار میں آئی تب وصول کنندہ کو 10 ہزار روپے تک مالیت کے تحائف بغیر کوئی رقم ادا کیے بغیر ہی اپنے پاس رکھنے کی اجازت تھی۔ 10 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کے لیے انہیں مجموعی مالیت کا 15 فیصد ادا کرنا ہوتا تھا

اُس وقت صدر اور وزیراعظم کے علاوہ کوئی بھی 4 لاکھ سے زائد مالیت کا تحفہ نہیں رکھ سکتا تھا اور تحائف پر 10 لاکھ روپے کی سالانہ حد بھی مقرر تھی۔ اگر کوئی اس مقرر کردہ سالانہ حد سے تجاوز کرنا چاہتا تھا تو اسے تحفے کی کل مالیت کا 65 فیصد ادا کرنا پڑتا تھا

سال 2011ء میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قوانین میں تبدیلی کی، جس کے نتیجے میں 10 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کو ذاتی ملکیت میں لینے کے لیے ادا کی جانے والے رقم کو 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کردیا گیا۔ انہوں نے تحفے کی قیمت کی حد کو 4 لاکھ سے 10 لاکھ روپے کردیا اور 10 لاکھ کی مقررہ سالانہ حد کو بھی تبدیل کرکے 25 لاکھ کر دیا

شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں یہ شرح 20 فیصد پر برقرار رکھی گئی لیکن 30 ہزار مالیت تک کے تحائف کو مفت میں رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے تحفے کی مالیت کی حد اور سالانہ حد کو بھی یکسر ختم کر دیا

حدود کے خاتمے کی وجہ سے ہی ہم نے دیکھا کہ وزرا مثلاً خواجہ آصف نے بھاری مالیت کی بیش قیمت گھڑیاں اپنی ذاتی ملکیت میں لے لیں جبکہ اس سے قبل یہ اجازت صرف وزیراعظم یا صدر کو ہوتی تھی

بعدازاں 2018ء میں عمران خان نے تحائف رکھنے کے لیے ادا کی جانے والی رقم کی شرح کو کل مالیت کا 50 فیصد کر دیا

کچھ اہم نکات

(تحائف حاصل کرنے والوں میں غالباً عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں، جن پر اس حوالے سے مقدمہ قائم ہوا۔ اس کے علاوہ کسی پر بھی کوئی مقدمہ نہیں بنا۔ حالانکہ توشہ خانہ سے نواز شریف، ان کے خاندان اور آصف زرداری نے بڑی تعداد میں گاڑیوں کے تحائف بھی حاصل کیے، جو کہ توشہ خانہ کے قانون کے تحت نہیں لی جا سکتی تھیں)

جہاں تک گھڑیوں سمیت تمام تحائف کی کل مالیت کا تعلق ہے تو ہمارے سامنے وہ عمل نہیں ہے، جس کے تحت توشہ خانہ کے تحائف کی مالیت کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی آزادانہ طریقہ کار ہے جس سے ان تحائف کی مالیت کی تصدیق ہو سکے

جب ہم نے ملک کی تین بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کو ملنے والی گھڑیوں کی تفصیلات کا جائزہ لیا تو یہ سامنے آیا ہے کہ 2015ء کے بعد سے تحائف کی مالیت میں واضح اضافہ ہوا ہے

مثال کے طور پر 2008ء سے 2013ء تک پی پی پی کے دورِ حکومت میں آصف زرداری کو پیش کی جانے والی سب سے مہنگی گھڑی کی قیمت 13 لاکھ روپے تھی۔ اگر اعداوشمار کو دیکھ کر حساب لگایا جائے تو پی پی پی نے تینوں سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ گھڑیاں وصول کیں جن کی مجموعی مالیت ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ہے جوکہ حیرت انگیز طور پر پی ٹی آئی کے 11 کروڑ 10 لاکھ اور مسلم لیگ (ن) کے 17 کروڑ 30 لاکھ سے بھی کم ہے

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت (2013ء-18ء) میں خواجہ آصف کو مہنگی ترین گھڑی پیش کی گئی۔ انہیں 2017ء میں 3 کروڑ 50 لاکھ مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی۔ اس سے ایک سال قبل اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو بھی 40 لاکھ روپے کی گھڑی بطورِ تحفہ پیش کی گئی تھی

اسی طرح عمران خان کو بھی 2018ء میں 8 کروڑ 50 لاکھ مالیت کی ایک گھڑی بطور تحفہ پیش کی گئی

اس تناظر میں دیکھا جائے تو پی پی پی اور بعد میں آنے والی حکومتوں کے دوران گھڑیوں کی مالیت میں واضح فرق سے گمان ہوتا ہے کہ جیسے پی پی کے دور میں بطور تحفہ ملنے والی گھڑیوں کی قیمتیں کم ظاہر کی گئی ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اسے ثابت کرنے کے لیے کوئی طریقہ کار نہیں ہے

توشہ خانہ حکام کی جانب سے تحائف کی قیمت کا تخمینہ لگانا اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دو ہفتے پہلے تک ان تحائف کو اپنی ذاتی ملکیت میں لینے کے لیے تحفے وصول کرنے والے مجموعی رقم کی مختص شرح ادا کرتے تھے۔ تخمینہ جتنا کم ہوگا اتنی ہی کم قیمت ادا کر کے سیاسی رہنما توشہ خانہ سے تحائف حاصل کر سکتے ہیں

توشہ خانہ کی اس پوری داستان کا شاید صرف ایک مثبت پہلو یہی ہے کہ توشہ خانہ کی تفصیلات منظر عام پر لانے سے بالآخر حکومت کو اپنے قوانین تبدیل کرنے پر مجبور کیا تاکہ ہمارے سیاستدانوں کی جانب سے کروڑوں روپے مالیت کے ایسے بیش قیمت تحائف صرف معمولی سی رقم ادا کرکے ذاتی ملکیت بنانے کے رواج کا خاتمہ ہو سکے

اگرچہ ہائی کورٹ نے تمام تفصیلات جاری کرنے کا حکم دیا تھا لیکن حکومت نے صرف 2002ء اور اس کے بعد کی تفصیلات کو ہی شائع کیا ہے۔ (اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اقتدار کے ادوار کی تفصیلات حکومت نے جاری نہیں کیں۔ نیز یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کے بعد کے ادوار کے تحائف کی تفصیلات بھی کانٹ چھانٹ کے بعد جاری کی گئی ہیں)

نوٹ: یہ مضمون 25 مارچ 2023ء کو ڈان ڈاٹ کام پر شائع ہوا، جسے ادارے کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close