کراچی: ساحل اور ماہی گیری

ابوبکر شیخ

کنارے آبِ شیریں کے ہوں یا شوریدہ پانیوں کے، جہاں جہاں تک گئے وہاں حیات کو پنپنے میں مدد دی۔ اگر سمندر نہ ہوتا تو شاید کچھ بھی نہ ہوتا، سمندر اس دیوتا کی طرح ہے جو فقط دینا جانتا ہے۔ بادل، بارشیں اور گلیشیئر سب اس لیے ہیں کہ سمندر ہے۔ یہ فطرت کی لین دین کا معاملہ ہے۔ سمندر بادل دیتا ہے۔ بارشیں برستی ہیں، گلیشیئروں سے پانی آتا ہے اور میٹھے پانی کی ندیاں بہہ نکلتی ہیں۔

ان ندیوں کے کنارے دنیا کی شاندار تہذیبیں جنم لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کنارے بڑے اہم ہیں کہ کنارے نہ ہوتے تو نہ بندرگاہیں ہوتیں اور نہ انسان ایک دوسرے سے مل پاتے اور نہ بیوپار کی ایک وسیع دنیا وجود میں آتی۔ مگر ہم انسانوں نے عطا کردہ نعمتوں کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا ہے، خاص کر سمندر کے ساتھ۔ وہ ہمیں پانی اور خوراک دیتا ہے اور بدلے میں ہم اس کے نیلگوں پانی کو روز بروز آلودہ کیے جا رہے ہیں۔ یہ تحریر اگرچہ کراچی کے اچھے دنوں سے متعلق ہے مگر اس میں آج کل کے شب و روز بھی جاگتے اور سوتے ہیں۔

1890ء کی دہائی میں کراچی بندرگاہ، پس منظر میں منوڑہ لائٹ ہاؤس دیکھا جاسکتا ہے

 

 

ابراہیم حیدری

 

1897ء میں کراچی کی ایک بستی

ہم کراچی کے موضوع پر ’ملیر وادی‘ سے متعلق اپنی گزشتہ تحریر میں پروفیسر عبدالرؤف خان کی تحقیقی رپورٹ کا ذکر کرچکے ہیں، جنہیں کراچی کے قرب و جوار میں قبل مسیح زمانے کی بستیوں کے آثار ملے تھے۔ ہم جب ان بستیوں کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ میں میٹھے پانی کی برساتی نیئوں (گزرگاہوں) کا بھی ذکر کرتے ہیں اور کراچی کے جنوب و مغرب میں واقع ساحل کا بھی تذکرہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

ایچ ٹی لیمبرک اس علاقے کو ’سکندری جنت‘ کا اعزاز دیتے ہیں۔ ’ایرین‘ کی تحریروں کے مطالعے سے لگتا ہے کہ یہ ’ریڑھی میان‘ اور ’کیماڑی‘ کے بیچ کا علاقہ ہے۔ چونکہ ایک زمانے میں ملیر نئے کا مہانہ Estuary یہ گذری کریک ہی تھی اور 521 قبل مسیح میں، یونانی سیاح ’اسکائی لیکس‘ جب دریائے سندھ کا مطالعہ کرنے آئے تھے تو اس زمانے میں دریائے سندھ کا ایک زبردست بہاؤ مشرق جنوب میں بہتا ہوا، ابراہیم حیدری کے قریب سمندر میں گرتا تھا۔

 

1897ء میں کراچی کی ایک بستی کا منظر

 

1897ء میں کراچی کی ایک بستی کا منظر

 

1897ء میں کراچی کی ایک بستی کا منظر

 

قبل مسیح کے زمانے سے ہم نکلیں تو ہمیں سومرا دور (1011ء سے 1351ء) میں ایک لوک کہانی سننے کو ملتی ہے، جس میں پہلی بار ہمیں ’کلاچی‘ یا ’کراچی‘ کا ایک بھرپور منظرنامہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

اس میں مچھلی کی فراوانی بھی نظر آتی ہے، ماہی گیر کی ذہانت بھی نظر آتی ہے، دُور دُور تک جاکر مچھلی کے شکار کرنے کی شہادتیں بھی ملتی ہیں اور شکار کے طریقوں اور شکار کے سامان کی بہتات بھی نظر آتی ہے۔ میں آپ کو وہ لوک کہانی مختصراً سناتا ہوں۔ اس کہانی کا نام ہے ’مورڑو اور مانگر مچھ‘، اگر ہم اس کہانی کو دل کے کانوں سے سنیں تو یہ ایک تاریخی ورثے کی شاندار کہانی ہے۔

’راجا دلوراء کے زمانے میں (میں سندھ میں جہاں بھی گیا ہوں وہاں اجڑے شہروں کے آثاروں کا بادشاہ ہمیشہ یہ ’دلوراء نام کا بادشاہ ہی ملا ہے۔ آپ برہمن آباد جائیں، سیہون شریف جائیں یا کہیں اور، آپ کو ایک ظالم بادشاہ ملے گا اور اس کے ظلم سے وہ بستی برباد ہوئی ہوگی اور اس بادشاہ کا نام دلوراء ہی ہوگا!) سون میانی (بلوچستان) میں ’اوبھایو‘ نام کا ایک ماہی گیر رہتا تھا جس کے 7 بیٹے تھے۔ ان میں ’مورڑو‘ سب سے چھوٹا تھا اور ایک ٹانگ سے معذور مگر ذہین تھا۔

ایک دن اس کے 6 بھائی شکار کے لیے سون میانی سے نکلے اور کلاچی جو کُن (گہرا اور وسیع گرداب) کی طرف آ نکلے۔ مقامی لوگوں نے منع کیا کہ یہاں شکار کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ یہاں پانی کے بھنور بھی خطرناک ہیں اور یہاں مانگرمچھ (مانگر بڑی وہیل شارک مچھلی کو کہتے ہیں) بھی ہے جو خونخوار ہے۔ مگر انہوں نے بات نہیں مانی۔ جیسے جال پانی میں پھینکے تو کچھ پلوں میں ان کی کشتی الٹ گئی اور مانگر نے ان کو اپنا لقمہ بنا لیا۔

جب مورڑو کو پتا لگا کہ اس کے بھائی اس طرح سے شارک نے کھا لیے ہیں، تو اس نے اپنی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک پنجرہ تیار کیا اور خود اس میں بیٹھا، لوگوں کو اپنی پوری منصوبہ بندی سے آگاہ کیا کہ کس وقت کیا کرنا ہے۔ پانی میں پنجرہ پھینک دیا گیا۔ مچھلی نے وہ پنجرہ نگل لیا اور اس کے گلے میں پھنس گیا۔ اس طرح مانگر کو رسیوں کے ذریعے پانی سے باہر نکال لیا گیا اور مچھلی کا پیٹ چاک کرکے مورڑو اور اس کے بھائیوں کو نکالا گیا۔ بھائی تو مرچکے تھے البتہ مورڑو زندہ تھا۔ بھائیوں کو دفن کرنے کے بعد مورڑو جب تک زندہ رہا اپنے بھائیوں کی قبروں پر مجاور بن کر بیٹھا رہا’۔ آپ اگر کھارادر سے ماڑی پور جائیں تو گل بائی چوک پر ان بھائیوں کی قبریں دیکھ سکتے ہیں۔

 

مورڑو کے بھائیوں کی قبریں

 

آپ اگر کبھی ’نیٹو جیٹی‘ پُل سے گزریں، جہاں آج کل مچھلیوں کو خوراک ڈالنے کے لیے گوندھے آٹے کی گولیاں ملتی ہیں اور چیلوں کو کھلانے کے لیے سُرخ رنگ میں رنگے پھیپھڑے ملتے ہیں، تو اس وقت یہ بات ذہن میں رکھیے کہ آپ خشکی کے بعد سمندر سے جزیرے کی طرف جا رہے ہیں۔ کراچی کے اطراف میں اگرچہ زیادہ نہیں مگر متعدد جزیرے ہیں جن پر کراچی شہر بستا ہے۔

الطاف شیخ اس حوالے سے تحریر کرتے ہیں: ‘کیماڑی یا منوڑہ جانے والوں نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ، نہ فقط منوڑہ بلکہ کیماڑی بھی ایک جزیرہ ہے جو اس وقت نیٹو جیٹی پُل کے راستے کراچی شہر سے جڑا ہوا ہے۔ ایک زمانے میں یہ بھی منوڑہ کی طرح ایک جزیرہ تھا اور لوگ کھارادر سے کشتیوں کے راستے کیماڑی آتے تھے‘۔

بالکل ایسے جیسے آج کل بابا، بھٹ، پیر شمس اور دیگر جزیرے موجود ہیں۔ ان جزیروں پر صدیوں سے ماہی گیروں کی بستیاں آباد ہیں۔ تو ہم اگر یہ کہیں کہ اس وقت بھی کراچی کے ملیر سے منوڑہ تک کناروں اور جزیروں پر ماہی گیروں کی سیکڑوں بستیاں آباد ہیں تو یہ بات کسی آب دار سکے کی طرح کھری ہوگی۔

اس وقت لاکھوں لوگ ماہی گیری کے پیشے سے واسبتہ ہیں۔ آپ اگر ماہی گیر بستیوں میں جائیں گے، جیسے ریڑھی میان، ابراہیم حیدری، گذری، کھارادر، بابا جزیرہ اور بہت ساری بستیوں میں، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ سمندر، مچھلی اور ماہی گیری کس قدر ان کے خون میں بہتی ہے۔ ان کی ہر بات اوّل تا آخر ماہی گیری پر آکر ختم ہوتی ہے۔

منوڑا ساحل
ابراہیم حیدری

 

1897 میں کراچی مین واقع ماہیگیروں ایک بستی

 

1897ء میں کراچی کے ایک علاقے کا منظر

وہ سمندر کو ’دریا‘ کہتے ہیں۔ یہ دریا ان کے لیے روزی روٹی کا وسیلہ ہے۔ یہاں کی صبحوں، شاموں، چاندنیوں، لہروں، گرمیوں اور جاڑوں سے انہیں عشق ہے۔ ان کے قلب و ذہن میں دریا کے احترام کا دیپک بھی جلتا ہے۔ ان ماہی گیر بستیوں سے متعلق ہمارے پاس ’گزیٹروں‘ کی صورت میں گزرے 150 سے 200 برسوں کی معلومات کا ذخیرہ موجود ہے۔ میرے پاس ان ماہی گیر بستیوں کی کچھ تصاویر بھی ہیں جو اتنی ہی پرانی ہیں۔ کچھ اسکیچز بھی ہیں جن کو بھی آپ دیکھ کر یقیناً یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان دنوں کا کراچی اور وہاں بسنے والے کیسے تھے۔

 

1857ء میں کراچی کا ایک علاقہ
پرانے وقتوں میں کھارادر
1851ء میں کراچی بندرگاہ کے پاس واقع ایک گاؤں

 

کلفٹن سے کراچی بندرگاہ کا منظر

سندھ گزیٹر کے مطابق ’منوڑہ اور کلفٹن کے بیچ میں جو سمندری کنارا ہے وہ اندازاً ساڑھے 3 میل پر محیط ہے۔ ساتھ میں کیماڑی کا جزیرہ ہے جو آخر میں کچھ فاصلے پر موجود ہے۔ کیماڑی سے کسٹم ہاؤس اور کراچی کے پرانے شہر کی طرف جانے کے لیے ’مول پُل‘ ایک وسیع راستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ پُل ’چھنی کھاری‘ کے پانی کو بندرگاہ میں بغیر کسی رکاوٹ کے داخل ہونے کے لیے پرانے بندر کے پاس بنایا گیا تھا۔ اس کی لمبائی 1200 فٹ ہے اور یہ پُل 1865ء میں، 4 لاکھ 75 ہزار روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا تھا۔

کیماڑی کو جانے والا نیپیئر مول پل

’اس وقت اسے ’نیپیئر مربع مخروطی (کون نما) پُل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس پُل کے شمال کی جانب آخری سِرے پر اور بندرگاہ کے مغرب کی طرف ’نیٹو جیٹی‘ پُل ہے جو 4 لاکھ 33 ہزار روپے کی خطیر رقم سے تعمیر کیا گیا ہے۔ مول روڈ کے آخر میں کسٹم ہاؤس ہے، کسٹم ہاؤس سے کراچی چھاؤنی کی طرف جانے کے لیے 2 راستے ہیں، ان میں سے ایک بندر روڈ ہے جس کی لمبائی ڈھائی میل ہے اور ڈیپوؤں پر اس کا اختتام ہوتا ہے جبکہ دوسرا میکلوڈ روڈ ہے۔ یہ دونوں راستے عام اصطلاح میں ’کیمپ‘ پکارے جانے والے مقام کی طرف جاتے ہیں۔ ان راستوں کے مغرب میں پرانی مچھی میانی، پرانا شہر، بندر مارکیٹ اور نیپیئر کوارٹرز واقع ہیں۔۔‘

کیماڑی میں واقع پرانا کسٹم ہاؤس

 

1897ء میں مچھی میانی میں واقع بستی کا ایک منظر
1897ء میں مچھی میانی کیمپ
1897ء میں مچھی میانی کی بستی

سندھ گزیٹر کراچی کو ماہی گیروں کا شہر کہتا ہے۔ وہ شاید کچھ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ یہاں زراعت بس نام کی تھی، مشرق میں ملیر کی طرف پھلوں کے باغات تھے اور تھوڑی بہت سبزیاں شمال میں لیاری کے کناروں پر اُگا کرتی تھیں جو مقامی لوگوں کی خوراکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت تھیں۔

سمندر کا کنارا موجودہ زمانے کی طرح گندگی سے بھرا ہوا نہیں تھا بلکہ ان زمانوں میں کراچی کا یہ کنارا سفید چاندی جیسی ریت سے تپتی دھوپ میں چمکتا تھا۔ مچھلیوں کی بہتات تھی۔ ساتھ میں تمر کے گھنے جنگل تھے اور مقامی لوگ پرندوں کا شکار بھی کیا کرتے تھے۔ آپ تھوڑا اس ساحل کو تصور میں لائیں جہاں لہروں کے شور کی آوازیں مسلسل جاری ہیں اور ہوا ان کو دُور تک لے جاتی ہے۔ ماہی گیروں کی وسیع رقبے پر پھیلی بستیاں ہیں۔ نہ کسی گاڑی کا شور ہے اور نہ کسی کشتی سے انجن کا شور اٹھتا ہے۔ بادبان کے سہارے کشتیاں لمبا سفر طے کرتی ہیں۔

اگر آپ کو کراچی کے گزرے شب و روز دیکھنے اور محسوس کرنے ہیں تو آپ بابا یا بھٹ جزیرے پر جاکر دیکھیں۔ میں وہاں گیا ہوں۔ وہاں کسی گاڑی کا شور نہیں ہے اور نہ مئی جون میں یہ جزیرے دھوپ سے تپتے ہیں۔ وہاں کی راتوں اور ٹھنڈی سمندری ہواؤں کا تو شاید آپ تصور تک نہ کرسکیں۔ رات کو ان بستیوں پر نُکڑ بستے ہیں۔ لوگ ملتے ہیں۔ چائے پیتے ہیں اور گپے ہانکتے ہیں۔ پھر جلدی سو جاتے ہیں۔ رات کو 4 بجے ان جزیروں کی گلیوں میں چہل پہل شروع ہوجاتی ہے کہ سمندر میں شکار پر جانے کا یہی بہتر وقت ہوتا ہے۔ ان جزیروں پر رات کے اختتام کا پیغام مرغے کی بانگ اور چڑیوں کی چہچہاہٹ دیتی ہے۔ اس کے بعد مسجد سے اذان کی آواز آتی ہے۔

منوڑہ فورٹ

ای ڈبلیو ہیوز لکھتے ہیں، ’سندھ میں مچھلی کا شکار مسلمان مہانے (ماہی گیر یا ملاح) ہی کرتے ہیں جن کی اکثریت کراچی میں رہتی ہے۔ سندھ کے سمندری کناروں سے پکڑی جانے والی مچھلی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر ایف ڈی ان مچھلیوں کی 160 قسمیں بتاتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ ٹونا فش اور روغنی مچھلیوں کی بہتات کا بھی ذکر کرتے ہیں۔

’یہاں سے شارک مچھلیوں کے فِنز بڑی مقدار میں بمبئی بھیجے جاتے ہیں اور پھر وہاں سے چین کہ وہاں ان کی بڑی مانگ ہے۔ اس کے علاوہ بڑی شارکوں کا شکار کرکے ان کی چربی حاصل کی جاتی ہے جس کی بیرون ملک بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں مچھلی اور جھینگے کو خشک کرکے بمبئی بھی بھیجا جاتا ہے اور اندرونِ ملک بھی ان کی اچھی مارکیٹ ہے۔

‘تالپوروں کی حکمرانی کے دنوں میں سمندری مچھلی کے شکار کا ٹھیکہ دیا جاتا تھا، جس سے سالانہ 4 ہزار سے 7 ہزار روپے کی رقم حاصل ہوتی تھی۔ دیکھا جائے تو ان ماہی گیروں پر جو محصول لاگو کیے گئے تھے وہ بڑے پیچیدہ اور زیادہ تھے۔ پیچیدہ اس طرح کہ منوڑہ جزیرے سے پکڑی گئی مچھلی اور دیگر میانیوں (سمندر کنارے مچھلی پکڑنے کے لیے مخصوص جگہ کو ’میانی‘ کہا جاتا تھا، جیسے آج کل جیٹی پکارتے ہیں) سے پکڑی گئی مچھلی پر لاگو محصول میں فرق تھا۔

’منوڑہ سے جو مچھلی پکڑی جاتی تھی اس پر شکار کا چھٹا حصہ بطور محصول لیا جاتا تھا جبکہ اوروں سے چوتھا حصہ لیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مچھلی کی بھری کشتی سے 5 مچھلیاں ’آملانا‘ کے طور پر لی جاتی تھیں۔ (میانی سے محصول لینے والی ٹیم کے ارکان جو مچھلی وصولتے تھے اسے آملانا کہا جاتا تھا)

‘کراچی سے دیگر مقامات بھیجی جانے والی مچھلیوں پر ساڑھے 6 سے ساڑھے 7 پایوں کا محصول لیا جاتا تھا۔ اس طرز کا محصولاتی نظام 1845ء تک رائج رہا۔ اس کے بعد مچھلی پکڑنے والی کشتیوں کی درجہ بندی کی گئی۔ ان کو چھوٹے، بڑے اور مناسب سائز میں تقسیم کرتے ہوئے الگ الگ فیس لگا کر لائسنس جاری کیے گئے۔

’اس وقت کے کسٹم کے ڈپٹی کلیکٹر مسٹر مکلوڈ نے یہ تجویز رکھی کہ مچھلی کے شکار کے لیے سالانہ ٹھیکے کا نظام لاگو کیا جائے۔ اس تجویز کو قبول کیا گیا اور 1852ء میں یہ ٹھیکہ 5 ہزار 250 روپے میں نیلام ہوا۔ یہ ٹھیکیداری نظام 5 برس یعنی 1857ء تک چلتا رہا اور پھر اسے منسوخ کرکے، کشتیوں کے سائز اور وزن کے حساب سے لائسنس کا اجرا کیا گیا۔‘

میں یہاں اضافی معلومات کے لیے 5 برس کے اس ٹیکس کی تفصیل دے رہا ہوں جس کا تعلق کراچی کی ماہی گیری سے ہے۔

▪️کراچی تحصیل کے گھاٹوں سے 1870ء تا 1874ء، ایک ہزار 762 روپے محصول وصول کیا گیا
▪️کراچی تحصیل کی میانیوں سے 1870ء تا 1874ء، 14 ہزار 101 روپے محصول وصول کیا گیا

ہم اگر 1837ء کے ریکارڈ کا جائزہ لیں گے تو اس برس یہاں سے بمبئی کے لیے، خشک مچھلی، شارک مچھلی کے فِنز اور مچھلی کا تیل بھیجا گیا جس سے 30 ہزار کی آمدنی ہوئی تھی۔ آج بھی سالانہ کروڑوں (2020ء اور 2021ء میں 61 ارب سے زائد) روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ مچھلی کی شکار کرنے والی کشتیوں کی رجسٹریشن کا عمل ’محکمہ فشریز کراچی‘ انجام دیتا ہے۔ 2006ء کے ریکارڈ کے مطابق اس محکمے کے پاس 17 ہزار کے قریب کشتیاں رجسٹرڈ تھیں۔ 5 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار مچھلی کے شکار سے منسلک ہے۔ فقط ابراہیم حیدری اور ریڑھی میان میں چھوٹی بڑی 10 ہزار ایسی کشتیاں ہیں جن کے ذریعے مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں۔

آج کا ابراہیم حیدری

ابراہیم حیدری، ریڑھی میان، لٹ بستی اور گھگھر تک کا ساحلی کنارا 95 میل پر محیط ہے اور ان کناروں پر رہنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش مچھلی پکڑنا ہے۔ ان لوگوں کی اپنی ایک الگ زندگی ہے۔ چونکہ یہ کئی کئی دنوں تک سمندر میں رہتے ہیں اس لیے ان کا آپس میں بات کرنے کا طریقہ عام لوگوں سے مختلف ہے۔ دراصل سمندر میں لہروں کا شور زیادہ ہوتا ہے اس لیے ان کو ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے اونچی آواز میں بات کرنی پڑتی ہے۔ اب یہ عام زندگی میں بھی باآواز بلند باتیں کرتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ ان کے کانوں میں ہر وقت لہروں کا شور گونجتا رہتا ہے۔ ان کے لہجے میں ایک ردھم موجود رہتی ہے۔ وہ جملہ بڑی نرم زبان سے ادا کرتے ہیں۔ اہم لفظوں کو ادا کرتے وقت ان کو طُول دیتے ہیں، یوں جملے میں ایک موسیقیت پیدا ہوجاتی ہے۔

ماہی گیروں کے معاشرے کا ڈھانچہ بھی عام لوگوں کی بستیوں سے تھوڑا الگ ہے۔ چونکہ مرد زیادہ تر سمندر پر رہتے ہیں، اس لیے گھر میں عورتوں پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں اکثر گھروں کے اکثر فیصلے عورت کرتی ہے۔ بقول محمد علی شاہ ہم ماہی گیر بستیوں کو مادرانہ معاشرہ رکھنے والی بستیاں پکار سکتے ہیں۔ اگر ہم تاریخی حوالے سے اس جملے کی ڈور پکڑیں تو یہ ہمیں ’موئن جو دڑو‘ کے معاشرے سے ملتی دکھائی دے گی جس کا معاشرہ مادرانہ تھا۔

میں نے جب گل حسن کلمتی سے ان ماہی گیروں کی زندگی سے متعلق سوال کیا تو جواب آیا، ’ان کی زندگی انتہائی مشکل ہے مگر وہ پھر بھی خوش رہنا جانتے ہیں۔ آنے والے زمانے میں دوسرے خطروں کے ساتھ جو خطرہ ان کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ان کی سماجی، ثقافتی اور معاشی زندگی میں شدید تلاطم لائے گا وہ ہے سمندر میں بڑھتی گندگی۔

‘سمندر میں بہت ہی کم بلکہ برائے نام میٹھا پانی چھوڑا جاتا ہے، روزانہ کروڑوں گیلن آلودہ پانی لیاری، ملیر اور دوسرے نالوں کے ذریعے سمندر میں داخل ہو رہا ہے۔ پورے شہر، لانڈھی، بن قاسم اور سائٹ کی فیکٹریوں کا زہریلا پانی سمندر میں خارج کیا جا رہا ہے۔ لانچوں سے نکلنے والا تیل، کوڑے کی صورت میں پلاسٹک کا اخراج مچھلی اور جھینگے کی افزائش کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔ یہ صورتحال ان ماہی گیروں کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے۔‘

ماہی گیروں کا مستقبل یقیناً داؤ پر لگا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ خود ماہی گیر بُولو، گُجو اور قطرہ جیسے جالوں کو استعمال کر رہے ہیں جن کے استعمال پر حکام کی جانب سے پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ اتنے خطرناک اور سمندری ماحولیات کو برباد کرنے والے جال ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جو مچھلی افزائشی عمل سے گزر رہی ہوتی ہے، وہ اگر پانی کے ایک قطرے جتنی بھی ہوگی تو یہ جال سمندر سے اسے کھینچ کر باہر لے آئے گا۔ کچھ روپوں کے لیے یہ Trash Fishing دھڑلے سے جاری ہے۔ یہ عمل شیخ چلی کے اس قصے کے مصداق ہے جس میں وہ درخت کی جس ڈالی پر بیٹھا ہوا تھا، مزے لے لے کر اسی کو ہی کاٹے جا رہا تھا۔

سونے پہ سہاگہ یہ کہ، روزانہ 5 سے 10 ہزار ٹن کوڑا کرکٹ سمندر میں پھینکا جاتا ہے، یوں کوڑے میں شامل پلاسٹک سمندری حیات کے لیے مہلک خطرات پیدا کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 34 فیصد بحری حیات، 86 فیصد سمندری کچھوؤں اور 44 فیصد پرندوں کے پیٹ سے پلاسٹک ملتا ہے۔ ابھی یہ کل کی ہی بات ہے جب ابراہیم حیدری کے سمندری کنارے کی ریت اتنی سفید ہوتی تھی کہ وہاں کے لوگ اب ان دنوں کا یاد کرکے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں۔ وہ دن نہ جانے کیا ہوئے جب ان کناروں پر پاکستانی فلموں کی شوٹنگ ہوا کرتی تھی۔

روزانہ 5 سے 10 ہزار ٹن کوڑا کرکٹ سمندر میں پھینکا جاتا ہے
کوڑے میں شامل پلاسٹک سمندری حیات کے لیے مہلک خطرات پیدا کردیتا ہے

ماہی گیری ان گزرے دنوں سے آج تک اچھی آمدن کا وسیلہ رہا ہے۔ اب یہ ایک الگ موضوع ہے کہ جو مچھلیاں پکڑتے ہیں ان پر ترقی کی کوئی بدلی کیوں نہیں برستی؟ آپ آج بھی اگر ان ماہی گیر بستیوں میں جائیں گے تو ان کی بیچارگی، معصومیت اور غریبی پر آپ کو رحم آئے گا۔ مجھے ریڑھی میان، ابراہیم حیدری یا بابا جزیرے کی گلیوں میں چلتے ہوئے یہ کبھی نہیں لگا کہ یہ بستیاں کراچی کے آنگن میں بستی ہیں۔

کراچی کو ‘ملکہ مشرق’ اور ‘روشنیوں کا شہر’ جیسے اعزازات سے نوازا گیا ہے مگر روشنیاں ان ماہی گیروں کے آنگنوں تک آتے آتے ماند کیوں پڑجاتی ہیں؟ تعلیم، صحت اور صفائی جیسی زندگی کی بنیادی سہولیات ان بستیوں کے حصے میں کیوں نہیں آئیں؟ اگر حکومت چاہے تو ہتھیلی پر سرسوں جما سکتی ہے تو پھر کراچی کے آنگن سے ایسا ناخوشگوار رویہ کیوں؟

حوالہ جات

▪️سندھ گزیٹر، 1876، ای ڈبلیو ہیوز، 2017ء، روشنی پبلیکیشن، حیدرآباد

▪️کراچی سندھ جی مارئی، گل حسن کلمتی، 2014ء، نئوں نیاپو، کراچی

▪️نگری نگری پھرا مسافر، ابوبکر شیخ، 2018ء، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

▪️تاریخ کے مسافر‘، ابوبکر شیخ، 2020ء، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

نوٹ : ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس abubakersager@gmail.com ہے۔

یہ فیچر ڈان ڈاٹ کام کے شکریے کے ساتھ شایع کیا گیا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close