کراچی میں ڈکیتوں کا راج، ایک ماہ کے دوران ڈکیتی مزاحمت پر 19 شہری قتل، درجنوں زخمی

ویب ڈیسک

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں انسانی جان کی قیمت ایک موبائل فون کے برابر رہ گئی ہے۔ موبائل فون کے عوض ڈاکو لٹیرے بدمعاش اور چور کراچی میں کسی کی بھی جان لے سکتے ہیں

کراچی میں پولیس بے رحم اسٹریٹ کرمنلز کو نکیل ڈالنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ شہر میں گزشتہ ماہ مئی کے دوران 19 شہری ڈکیتی مزاحمت پر قتل اور درجنوں زخمی کر دیے گئے۔ یوں روشنیوں کا شہر موت کا اندھیرا کنواں بن چکا ہے

عروس البلاد میں بڑھتے اسٹریٹ کرائم کے مقابلے میں کراچی پولیس اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جب کہ بے لگام ڈکیت آزادانہ طور پر شہریوں سے لوٹ مار اور انہیں جان سے مارنے و زخمی کرنے سے بھی دریغ نہیں کر رہے

گزشتہ ماہ مئی کے مہینے میں ڈاکوؤں کی سفاکانہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں میں باپ، بیٹا، پولیس اہلکار، دکاندار، محنت کش اور دیگر شہری شامل ہیں

مئی میں سب سے زیادہ واقعات ڈسٹرکٹ ایسٹ میں پیش آئے، جن میں ڈکیتی مزاحمت پر دو پولیس اہلکاروں سمیت سات شہریوں کو قتل کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بے لگام ڈاکوؤں نے چھ شہریوں کی جان لی

ڈسٹرکٹ کیماڑی اور ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے دو ، دو شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا، جب کہ ڈسٹرکٹ کورنگی میں ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے پہلے بیٹے کو اور ایک ہفتے کے بعد اس کے باپ کو بھی فائرنگ کر زندگی سے محروم کر دیا

ڈسٹرکٹ ساؤتھ اور ڈسٹرکٹ سٹی میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل کی کوئی واردات رپورٹ نہیں ہوئی

گزشتہ ماہ مئی کے اعداد شمار کے مطابق 30 اپریل اور یکم مئی کی درمیانی شب گلشن اقبال بلاک 11 میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے کیبن کا مالک تیس سالہ احسن جاں بحق ہوا۔ 4 مئی کو منگھوپیر کے علاقے اورنگی ٹاؤن الطاف نگر 100 فٹ روڈ پر ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ایم کیو ایم پاکستان کے یوسی کمیٹی کے ممبر باون سالہ عبدالسلام کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا

5 مئی کو اورنگی ٹاؤن 14 نمبر غزالہ اسکول کے قریب کریانہ کی دکان پر ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے تیس سالہ شبیر جاں بحق ہوا۔ 6 مئی کو سرجانی ٹاؤن میں فرحین ہال کے قریب ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے پولیس اہل کار عظیم اقبال کو قتل کیا

7 مئی کو گلبہار کے علاقے سینیٹری مارکیٹ کی دکان میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر پلمبر پچیس سالہ دانیال جاں بحق اور پچاس سالہ سلیم کو ڈاکوؤں نے زخمی کر دیا۔ 8 مئی کو منگھوپیر گلزار آباد میں رقم اور موبائل فون چھینے کی کوشش کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے اٹھائیس سالہ خانزادہ جاں بحق ہوا

11 مئی کو کورنگی کلو چوک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر اظہر حسین کو قتل کیا گیا، 12 مئی کو ٹیپو سلطان کے علاقے میں بریانی سینٹر میں ڈکیتی مزاحمت دکان کے ملازم باون سالہ عظیم کو قتل اور مالک فضل محمد قادری کو ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ 13 مئی کو سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پینتیس سالہ ناصر خٹک جاں بحق ہوا

15 مئی کو محمود آباد میں گیس سلنڈر کی دکان میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے بیس سالہ سجاد نیازی جاں بحق ہوا ۔17 مئی کو سائٹ سپر ہائی وے احسن آباد مشرق سوسائٹی کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہری عبدالباسط اور عوامی کالونی کے علاقے کورنگی نمبر 4 کلو چوک کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ساٹھ سالہ صفدر حسین کو قتل کیا گیا۔ مقتول صفدر حسین کے بیٹے کو بھی 11 مئی کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کیا گیا تھا

20 مئی کو سرجانی ٹاؤن میں گھر کے اندر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے پچیس سالہ دانیال جاں بحق جب کہ اس کے دیگر تین بھائی زخمی ہوئے۔ 24 مئی کو منگھوپیر کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹرساڑھے گیارہ الطاف نگر میں موٹر سائیکل چھینے کی واردات کے دوران مزاحمت پر بائیس سالہ مزمل جو کہ موٹر سائیکل مکینک تھا، فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا

25 مئی کو بلدیہ یوسف گوٹھ بروہی محلہ میں کریانہ کی دکان پر ڈکیتی کی دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے دکاندار پچپث سالہ منیر حسین جاں بحق ہوا، 27 اور 28 کی درمیانی شب بلوچ کالونی کے علاقے منظور کالونی میں موٹر سائیکل سوار چار ڈاکوؤں نے واردات کے دوران اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کی زد میں آکر برگر فروش تیس سالہ عدیل احمد زندگی کی بازی ہار گیا

28 مئی کو سائٹ سپرہائی وے کے علاقے اسکیم 33 نیو سبزی منڈی کے ڈی اے روڈ پر سندھی ہوٹل کے قریب لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت پر مسلح ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے پچیس سالہ ندیم کو قتل اور اس کے چھوٹے بھائی ولی جان کو زخمی کر دیا ۔29 مئی کی شب بلوچ کالونی کے علاقے ڈیفنس ویو فیز ون میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس اہلکار وارث خان شہید ہوگیا جب کہ ڈاکو شہید اہلکار سے سرکاری اسلحہ بھی چھین کر فرار ہو گئے

29 اور 30 مئی کی درمیانی شب گلبرگ بلاک 10 عائشہ منزل صدف آرکیڈ کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ کی زد میں آ کر موٹر سائیکل سوار نوجوان چھبیس سالہ دانش زندگی سے محروم ہو گیا، جس کی عیدالاضحیٰ کے بعد شادی ہونا تھی

واضح رہے کہ رواں برس کے پہلے پانچ ماہ کے دوران کراچی میں ڈاکوؤں کی سفاکانہ اور بے رحمانہ فائرنگ سے مجموعی طور پر باسٹھ افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا، جس میں رینجرز کا جوان، تین پولیس کے جوان، دو خواتین، باپ، بیٹا، دکاندار اور برگر فروش سمیت دیگر شہری شامل ہیں

شہر میں جاری ڈاکو راج اور اس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں گھروں ، دکانوں ، ہوٹلوں اور سڑکوں پر شہری لُٹ رہے ہیں اور اس کے ساتھ بے رحم قاتلوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر زخمی اور زندگی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نظر نہیں آ رہی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close