طبقاتی نظامِ تعلیم، معیارِ تعلیم اور ہمارے بچے

ڈاکٹر ابراہیم رشید شیرکوٹی

گزشتہ دنوں مجھے پشاور میں ایک نجی اسکول کے زیر اہتمام منقعد ہونے والے سائنسی مقابلے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ بطور استاد اور سائنسدان ایسے مقابلے ہمیشہ ہی میرے لیے دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں، کیونکہ ایک طرف تو یہ مقابلے طلبا کی سائنسی موضوعات میں دلچسپی بڑھانے کا سبب بنتے ہیں تو دوسری طرف ان بچوں کا جوش و خروش ذاتی طور پر میرے لیے بھی تسکین اور امید کی کرن کے طور پر کام آتا ہے

یہ مقابلہ پہلی سے پانچوں جماعت کے طلبا کا تھا، جس میں نئی، انوکھی یا اچھوتی سائنسی اختراعات کی توقع کرنا ظاہر ہے ممکن ہی نہیں تھا۔ اس مقابلے میں شریک بچوں نے اپنے اساتذہ کی رہنمائی میں مختلف ماڈلز بنائے ہوئے تھے، جن میں نظامِ شمسی، ماحولیاتی موضوعات جیسے آلودگی وغیرہ، اور پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹ وغیرہ کے ماڈلز شامل تھے

اس مقابلے میں شرکت کے لیے کوئی درجن بھر اسکولوں نے اپنے طلبا کی ٹیمیں بھیجی تھیں۔ اگرچہ پشاور جیسے شہر کے لیے جہاں سیکڑوں سرکاری اور پرائیویٹ اسکول ہیں، وہاں اتنی کم تعداد یقیناً ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے اسکول محض رٹے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نمبروں کی دوڑ سے باہر نکل ہی نہیں پا رہے۔ تمام تو نہیں لیکن ہمارے اسکولوں کی غالب اکثریت آج بھی ماضی بعید کے نظام اور طرزِ تعلیم میں پھنسی ہوئی ہے۔ جہاں ان کے خیال میں بچوں کے لیے کلاس روم سے باہر کوئی مثبت تعلیمی ایکٹیوٹی ہونا ناممکن ہے

خیر واپس چلتے ہیں اس مقابلے کی جانب۔۔ ایسے مقابلوں میں ایک مثبت چیز جو ہمیشہ ہی میرے مشاہدے میں رہی ہے، وہ ہے طلبا کا جوش اور خوش کن شمولیت۔ ہمارے بچے کتابوں کو رٹنے سے زیادہ نئی چیزیں کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں ہے کیونکہ دنیا بھر میں طلبا کا یہی رجحان ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو طرزِ تعلیم ہی ایسا بنایا جاتا ہے جس میں طلبا کو زیادہ سے زیادہ لرننگ ایکٹیوٹیز میں شامل ہونے کا موقع مل سکے

اس مقابلے میں سرکاری اسکول، عام گلی محلے والے پرائیویٹ اسکول اور برانڈڈ ’’برگر‘‘ پرائیویٹ اسکولوں کی ٹیمیں شریک تھیں۔ ان سب ٹیموں کے ماڈلز بھی تقریباً یکساں موضوعات پر ہی تھے، جن کا اوپر تذکرہ ہوچکا ہے۔ لیکن ایک چیز جو مجھے شدت کے ساتھ محسوس ہوئی، وہ تھی ان بچوں کی تیاری کا فرق۔ جہاں سرکاری اور گلی محلے کے اسکولوں سے آنے والے طلبا میں اعتماد کی کمی دیکھنے کو ملی، وہیں ان کے پاس اپنے اساتذہ کی طرف سے رٹوائے گئے اسکرپٹڈ جملوں کے علاوہ کچھ اور کہنے کو نہیں تھا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ ان سارے کے سارے طلبا میں خود اعتمادی کی کمی تھی، ان میں سے کچھ بہت پراعتماد بھی تھے اپنے اپنے ماڈلز کے بارے میں۔ لیکن اکثر بچوں کو مجھے یہ کہنا پڑتا تھا کہ تھوڑی اونچی آواز میں بتاؤ کہ وہ بہت آہستہ آواز میں اپنا اسکرپٹ دہرا رہے ہوتے تھے۔ کچھ ایسے طلبا بھی تھے جن کی آواز تو تیز تھی کہ ان کی ٹیچر نے ان کی پوری پریزنٹیشن باقاعدہ ’کوریوگراف‘ کی ہوئی تھی لیکن اسکرپٹ سے ہٹ کر انھیں کچھ اور نہیں پتہ تھا

عموماً میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے لیکچر وغیرہ میں بھی اپنے طلبا کو سوچنے پر مجبور کروں کہ وہ محض حاضری لگانے کی خاطر میری کلاس میں گم سم نہ بیٹھے ہوں، اسی طرح اس مقابلے میں بھی میں نے ہر ٹیم سے یہ کوشش کی کہ ان بچوں کو ان کے اسکرپٹ سے ہٹ کر بات کرنے پر لاؤں۔ اس کا ایک طریقہ تو سوال پوچھنا ہی ہوتا ہے جو کہ میں نے پوچھے اور انھوں نے اپنی عمر اور کلاس کے مطابق جواب دیے۔ لیکن ایک دوسرا بہت سادہ سا طریقہ جو میں نے اختیار کیا وہ یہ تھا کہ ان سب کو میں یہ کہہ دیتا تھا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی لہٰذا مجھے اردو میں بتاؤ۔ یہ بات کسی بھی شخص کو اپنے ذہن میں موجود معلومات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک زبان سے دوسری میں ترجمہ کرنے میں ٹھیک ٹھاک سوچ و بچار پر مجبور کردیتی ہے۔ ترجمہ کرنا محض الفاظ کا الٹ پھیر نہیں ہوتا بلکہ آپ کو ایک عدد پورا بامعنی جملہ بنانا ہوتا ہے تاکہ سامنے والے کو صحیح سے آپ کی بات سمجھ آ سکے

عام اسکولوں کی بہ نسبت برانڈڈ اسکول کے بچوں میں نہ تو مجھے کسی قسم کی خوداعتمادی کی کمی نظر آئی اور نہ ہی کوئی اسکرپٹ محسوس ہوا۔ ان کے ماڈل پر مجھے ایک بار بھی یہ کہنے کی ضرورت نہیں پیش آئی کہ اونچا بولو بلکہ کئی مرتبہ مجھے یہ کہنا پڑا کہ ایک وقت میں ایک بچہ بات کرے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایک برانڈڈ یا ’برگر‘ اسکول میں انگلش پر زیادہ زور ہوتا ہے لیکن ان طلبا سے بھی میں نے اردو میں ہی سارے سوال و جواب کیے جن کا انھوں نے بغیر کسی رکاوٹ یا جھجھک کے جواب دیا

ان سب بچوں میں کئی فرق تھے اور ہوں گے بھی، گھریلو ماحول، والدین کا تعلیمی اور معاشی پس منظر، لیکن ان سب کے باوجود ایک بنیادی فرق جو باقی ہر قسم کی کمی بیشی کا مداوا کرنے کے قابل ہے، وہ ہے ایک اچھا استاد۔ ایک ایسا استاد جو محض اپنی ڈیوٹی کے گھنٹے پورے نہیں کرتا بلکہ اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتا ہے۔ ہم میں سے اکثریت کے والدین نے ٹاٹ والے اسکولوں میں پڑھا ہوگا، تختی لکھی ہوگی، ہمارے وقت میں اسکولوں میں نہ تو ٹاٹ تھا اور نہ تختی، جبکہ آج کے بچے اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کے زمانے میں پڑھ رہے ہیں۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود ایک اچھا استاد ایسی کسی بھی کمی کو اپنی محنت اور لگن سے پورا کر سکتا ہے

آپ نصاب کی نسبت سوال کر سکتے ہیں کہ شاید ہمارا نصابِ تعلیم دنیا کے مقابلے میں کمتر اور جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ لیکن اس اعتراض کا جواب میں اپنے ذاتی مشاہدے سے دینا پسند کروں گا۔ آج سے کوئی بیس سال قبل جب میں انٹر کر رہا تھا تو اس وقت میری کوشش ہوتی تھی کالج کی لائبریری سے جتنا استفادہ ہوسکے، کروں۔ کتابی کیڑا میں بچپن سے ہی ہوں لہٰذا جس ادارے میں بھی گیا وہاں سب سے پہلی دوستی میں نے لائبریرین کے ساتھ ہی بنائی تاکہ لائبریری تک میری رسائی باقی سب کے مقابلے میں بہتر ہو۔ انٹر میں اے اور او لیول کی بیالوجی، کیمسٹری اور فزکس وغیرہ کی کتب پڑھتا رہتا تھا اور اپنی انٹر کی کتب کے ساتھ ان کا تقابلی جائزہ بھی لیتا رہتا تھا۔ یقین کیجیے کہ ہماری اور اے، او لیول کی کتب میں معلومات کے حوالے سے کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ ہاں جو بنیادی فرق تھا وہ معلومات پیش کرنے کے انداز میں تھا۔ اے اور او لیول کی کتب میں معلومات دلچسپ انداز میں ہوتی تھیں جبکہ ہماری کتب میں یہ محض بڑے بڑے نوٹس کی شکل میں ہوتی تھیں

غالباً سیکنڈ ایئر کی بات ہے کہ اے لیول کی بائیو کی کتاب میں نائٹروجن سائیکل ہماری کتاب سے مختلف انداز میں دکھایا گیا تھا۔ مجھے وہ دوسری کتاب والا انداز پسند آیا اور میں نے اپنے بائیو کی اسائنمنٹ میں یا کسی ٹیسٹ میں وہ والا سائیکل بنا دیا۔ اس پر ہمارے بائیو کے استاد نے نہ صرف مجھے منع کردیا کہ یہ امتحان میں مت بنانا کیونکہ بورڈ میں پرچے چیک کرنے والے صرف انٹر کی کتاب سے ہی پرچے چیک کریں گے اور اگر تم نے یہ والا سائیکل بنایا تو وہ اس کو غلط سمجھ کر پورا سوال ہی غلط کردے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے بائیو کے ٹیچر کنویں کے مینڈک تھے یا پھر ان کو دوسری کتابوں سے استفادہ کرنا پسند نہیں تھا۔ ہرگز نہیں، بلکہ یہ ان کی ایک حقیقت پسندانہ سوچ تھی کہ میرے اس شاگرد کے نمبر کم نہ آجائیں، جو کہ ہمارے نظامِ تعلیم کی مروجہ سوچ ہے

کسی بھی استاد کی کامیابی یا اچھائی اس کے طلبا کے حاصل کردہ نمبروں سے نہیں بلکہ ان کے سوچنے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے ناپی جانی چاہیے۔ جس طرح عامر خان کی فلم تھری ایڈیٹس میں پیغام دیا گیا تھا کہ ’’قابل بنو، کامیابی خود ہی جھک مارتی تمہارے پیچھے آئے گی۔‘‘ ہمیں اپنے بچوں کو قابل بنانا ہے، اپنے حصے کی کامیابیاں وہ خود ہی سمیٹ لیں گے اور اس کےلیے ہمیں اپنے استاد پر محنت کرنا ضروری ہے۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close