ملیر ایکسپریس وے ایک کینسر ہے، جو ملیر کو نگل رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر

سنگت ڈیسک

ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کا تنازع عدالت پہنچ گیا ہے۔ شہری احمد شبر نے سندھ انوائرمینٹل ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے

دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ملیر ایکسپریس وے 38.75 کلومیٹر کا چھ لائین ڈبل گیراج پروجیکٹ ہے۔ ملیر ایکسپریس وے شہر کے انڈسٹریل ایریا کورنگی لانڈھی سے ٹریفک سیدھا شہر کے باہر جائے گا۔ ملیر ایکسپریس وے کی جانب سے ماحولیاتی منظوری لی جارہی تھی تو ہم نے اعتراضات دائر کیے تھے۔ ہمارے اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا، اس کے بعد ہمیں منصوبے کی منظوری کی خبر کا پتہ چلا

درخواست میں مزید کہا گیا ہے ”سندھ انوائرمینٹل ٹربیونل نے ہمارے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ملیر ایکسپریس وے کی اجازت دی۔ ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر سے قدرتی ماحول اور ملیر کے ایکولوجی کو نقصان پہنچے گا۔“

عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کے اجازت نامے غیر قانونی قرار دیئے جائیں۔

واضح رہے کہ سندھ انوائرمنٹل ٹربیونل نے 15 اپریل کو ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر جاری رکھنے کا فیصلہ دیا تھا

 ملیر ایکسپریس وے ایک کینسر ہے، جو ملیر کو نگل رہا ہے. ذوالفقار علی بھٹو جونیئر

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائنس اور انڈیجینئس لیگل کمیٹی کے رہنماؤں حفیظ بلوچ، سلمان بلوچ، اختر رسول اور ایڈوکیٹ کاظم مہیسر نے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے ساتھ ملیر سے لے کر کھیرتھر نیشنل پارک پاچران تک کا دورہ کیا، اس دورے میں صحافی بھی شامل تھے جن میں ڈان نیوز، جیو نیوز، عوامی آواز، ٹائم نیوز، سوچ، اور سجاگ ادارے کی ٹیم کے ساتھ معروف صحافی وینگس بھی شامل تھیں

اس دورے کا مقصد ملیر ترقی کے نام پر ماحولیاتی ناانصافی سمیت کھیرتھر نیشنل پارک تک ہونے والی تباہی کا جائزہ لینا تھا۔ شروعات میں ملیر ایکسپریس وے کی وجہ سے ملیر ندی میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا، جمع گوٹھ کے مقام پر ملیر ندی کے اندر بننے والے ملیر ایکسپریس وے کے کام کا معائنہ کیا گیا

اس موقع پر سلمان بلوچ نے ملیر ایکسپریس وے کی وجہ سے ملیر میں ماحولیاتی تباہی کے بارے میں اور ایڈووکیٹ کاظم مہیسر نے ملیر ایکسپریس وے کے خلاف قانونی جہدوجہد کے بارے میں تفصیل کے ساتھ شرکا کو آگاہی دی

وفد نے بیلی باغ کے مقام پر بنے شکستہ ڈیم کا دورہ کیا، جہاں ریتی بجری کی مائینگ کی جارہی تھی، جو کہ سراسر غیر قانونی ہے۔ ریتی بجری چوری اور مائینگ کے خلاف قوانین موجود ہیں، دفعہ 144 نافذ ہونے کے ساتھ سندھ ہائی کورٹ کے واضح احکمات کے باوجود یہ غیر قانونی کام سندھ حکومت کے آشیرواد سے کیا جا رہا ہے

اس موقع پر ریتی بجری مافیا، ناگوری سیوریج اور ملیر ایکسپریس وے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے والے ملیر کے ماحولیاتی ایکٹوسٹ صدیق بلوچ کی زمینوں پر جا کر ان سے ملاقات کی گئی۔ صدیق بلوچ نے صدیق بلوچ نے سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کی ٹیم کے ساتھ ذوالفقار علی جونیئر کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور شرکاء کو اپنی قانونی جنگ کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ ملیر کی ریتی ہماری آنکھوں کا نور ہے، یہ منصوبے اور ریتی بجری چوری ہماری آنے والی نسلوں کی تباہی کے لیے ہیں، ہم ان کے خلاف آخری سانس تک لڑتے رہیں گے

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے ایک کینسر ہے، جو ملیر کو نگل رہا ہے، انہوں نے کہا میں یہاں کے انڈیجینئس لوگوں کے ساتھ ہوں، میرے پاس کوئی عہدہ نہیں مگر مجھ سے جو بھی ہو سکے گا میں ان کے لیے کروں گا

بعد ازاں ڈملوٹی میں ڈملوٹی ویلز جو 1929 میں بنائے گئے والز اور پپمپنگ سینٹر کی عمارت کا دورہ کیا گیا، وہاں پر موجود مقامی واٹر بورڈ کے ریٹائرڈ اہلکار نے شرکا کو ڈملوٹی کی تاریخ کے بارے میں آگہی دی اور ڈملوٹی ویلز کی عمارت کے بارے میں تفصیلات بتائیں

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے ڈملوٹی ویلز کے دورے کے بعد کہا کہ یہ تاریخی ورثہ آج بھی صحیح حالت میں موجود ہے اور اس سے فائدہ لیا جا سکتا ہے، یہ کنویں بہتر حالت میں ہیں ان میں پانی بھی وافر مقدار میں موجود ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نااہل اور کرپٹ حکمران اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے انہیں تباہ کر رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس سسٹم سے مقامی آبادی کو مستفید کیا جاتا، مگر یہ ان تاریخی مقامات کے ساتھ پوری ملیر ندی کو تباہ کر رہے ہیں

اس کے بعد وفد نے ایجوکیشن سٹی کے متاثرہ اکرم جوکھیو کی زمینوں کا دورہ کیا گیا، اس کے باغات اور ان کے لگائے ہوئے درخت دیکھنے کے بعد سندھ انڈیجینئس الائینس کے رہنماؤں اور ذوالفقار علی بھٹو نے اکرم جوکھیو کو اپنے بھرپور ساتھ کا یقین دلایا ـ

 

وفد بعد ازاں بحریہ ٹاؤن کراچی کے اندر آنے والے حاجی علی محمد گبول گوٹھ پہنچا، جو گڈاپ کے قدیمی آبادیوں سے ایک ہے اور بحریہ ٹاؤن کراچی کے کنسٹرکشن کے بعد گوٹھ کو دیواروں محصور کیا گیا ہے، ان کے قدرتی پانی کے رستے بند کر دیے گئے ہیں، ان کے جینے کے ذرائع بھی ان سے چھینے جا رہے ہیں

شرکاہ نے حاجی علی محمد گبول گوٹھ کی مزاحمتی کردار اماں حاجراں گبول سے ملاقات کی، اماں حاجراں نے شرکا کو بتایا ”جب راؤ انوار کے دور میں ہمارے گوٹھ پر پولیس اور بحریہ کے گارڈز نے حملہ کیا تو ہم نے شدید مزاحمت کی، میں ان سے لڑی اور ان پہ پتھر پھینکے“

اماں حاجرہ نے کہا ”ہمیں ایسی ترقی نہیں چاہیے جو ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کرے، ہمارے رستے بند کیے گئے مگر ہم لڑے ہیں اور آخری دم تک لڑیں گے“

اس موقع پر انڈیجینئس لیگل کمیٹی کے رکن ایڈوکیٹ کاظم مہیسر نے انڈیجینئس لیگل کمیٹی کے قانونی جہدوجہد کے بارے میں بریفنگ دی ـ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اماں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں ـ

وفد کا آخری پڑاؤ کھیرتھر نیشنل پارک کی وادی پاچران میں ہوا، جہاں پہاڑوں کو کاٹا جا رہا تھا، ریتی بجری مائیننگ کی جا رہی تھی، سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے حفیظ بلوچ اور سلمان بلوچ نے شرکا کو کھیرتھر نیشنل پارک میں ہونے والی تباہی سے آگاہ کیاـ

آخر میں سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس اور انڈیجینئس لیگل کمیٹی کے رہنماؤں حفیظ بلوچ، اختر رسول اور ایڈوکیٹ کاظم مہیسر نے تمام شرکاہ کا شکریہ ادا کیا۔

 ملیر ایکسپریس وے ملیر کراچی کی ماحولیات کے لیے تباہ کن کیوں ہے؟

39 کلومیٹر طویل سڑک ملیر ایکسپریس وے کا افتتاح چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دسمبر 2020 میں کیا تھا۔ اس پر تقریباً 160 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ سندھ حکومت کے لیے یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایک اہم شہری انفراسٹرکچر کا منصوبہ ہے

یہ بھی پڑھیں: اے ڈی بی نے ملیر ایکسپریس وے کو فنڈنگ کی ترجیحی فہرست سے خارج کر دیا

منصوبے کی تفصیلات کے مطابق یہ سڑک کراچی کے علاقے کورنگی کے جام صادق پل سے شروع ہوگی اور ایم نائن کاٹھور پل اس کا نقطۂ اختتام ہوگا

اہم بات یہ ہے کہ یہ سڑک کراچی کے پوش علاقوں یعنی ڈیفنس ہاﺅسنگ سوسائٹی (ڈی ایچ اے)، ڈیفنس ہاﺅسنگ سٹی اور بحریہ ٹاﺅن کو آپس میں جوڑے گی۔ اس منصوبے پر پہلا الزام بھی یہی ہے کہ اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ یہ اشرافیہ کی آبادیوں کو آپس میں ملانے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے

منصوبے کے حوالے سے مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ بہت سے ماہرین اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی احتجاج کر رہی ہیں، جن میں کراچی بچاﺅ تحریک، اِنڈیجینس رائٹس الائنس اور کراچی ماحولیاتی تحفظ موومنٹ وغیرہ بھی شامل ہیں

ان کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ غریب لوگوں کے گھر، ذریعہ معاش اور کراچی کے ماحول کے لیے ایک ڈراﺅنا خواب ثابت ہوگا اور ترقی کے نام پر یہ تباہی صرف چند ہزار افراد کو سہولت فراہم کرے گی

اس سڑک کے راستے میں ’سیّد ہاشمی ریفرنس لائبریری‘ بھی آ رہی ہے۔ چار دہائیوں قبل قائم کی گئی یہ لائبریری بلوچ کلچر کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ یہاں دنیا بھر میں بلوچ کلچر کے حوالے سے جو بھی لٹریچر پایا جاتا ہے اسے یہاں جمع کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں طالب علم اور محقق اپنے کام کے لیے اس لائبریری کو بطور ریفرنس استعمال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ایک درجن سے زیادہ لوگ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔

آج بھی ملیر کے دیہی علاقے سرسبز کھیتوں اور باغات کے باعث کراچی کے کنکریٹ کے جنگل میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں، لیکن یہاں کے لوگوں کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں آسانی سے دیکھی جا سکتی تھیں۔ انھیں ڈر ہے کہ عنقریب یہ سب تباہ ہو جائے گا

اس خوف کی وجہ ’ملیر ایکسپریس وے‘ کا منصوبہ ہے، جو ملیر کی سرسبز زرعی زمینیں اور باغات اجاڑنے کا سبب بنے گا۔ دوسرے لفظوں میں کراچی والوں کی آکسیجن کا ایک بڑا ذریعہ ختم ہو جائے گا

یاد رہے کہ کراچی شہر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے مختلف خطرات سے دوچار ہے جس میں درجۂ حرارت کے اضافے کے علاوہ سمندر کی سطح کا بڑھنا، ساحلوں کا کٹاﺅ اور تیز بارشوں جیسے خطرات شامل ہیں۔ کراچی کی کروڑوں کی آبادی کے لیے سبزیوں اور پھلوں کا زیادہ تر حصہ ملیر کے کھیتوں اور باغات ہی سے فراہم ہوتا ہے

اس منصوبے کا ایک بڑا حصہ ملیر ضلع سے گزرے گا اور شہریوں کے ساتھ ساتھ ماہرین کے احتجاج کی بھی یہی بڑی وجہ ہے۔ کراچی کے ملیر ضلع کو ’کراچی کا آکسیجن حب‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سرسبز ضلع میں کراچی کے قدیم ترین سندھی اور بلوچ باشندے آباد ہیں اور ان کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سڑک کئی قدیم گوٹھوں سے گزرے گی اور وہاں کے مکینوں کو بے دخل کر دے گی۔ یوں ایک سرسبز علاقہ دھیرے دھیرے بنجر ہو جائے گا

ملیر کا یہ علاقہ سرسبز کھیتوں، باغات اور آبی ذخائر کی وجہ سے جنگلی حیات سے بھی مالا مال ہے۔ صرف میمن گوٹھ چیک ڈیم کے پاس مقامی اور نقل مکانی کر کے آنے والے پرندوں کی 176 انواع ریکارڈ کی گئی ہیں۔ 73 اقسام کی تتلیاں یہاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ممالیہ کی 10 اقسام یہاں موجود ہیں جن میں گولڈن جیکال اور لکڑ بگھا بھی شامل ہیں

یہ جانور اور پرندے تعمیراتی سرگرمیاں، سیمنٹ بجری کی آلودگی اور شور برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق پرندے یہ جگہ چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوں گے

خاص بات یہ بھی ہے کہ ان میں سے بہت سی انواع ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این کی خطرات سے دوچار ریڈ لسٹ میں شامل ہیں جن کی بے گھری کا خطرہ موجود ہے۔ یہ انواع بین الاقوامی تحفظ یافتہ ہیں اور پاکستان بہت سے معاہدوں کی رو سے ان کی حفاظت کا پابند ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close