جرمنی کی اترن بھارت نے کیوں پہنی؟

وسعت اللہ خان

اس وقت بھارت میں جس تیزی سے عام ذہن مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مسلح کیے جا رہے ہیں، آنے والے برسوں میں یہ روش اس ریاست کے ماتھے کا کلنک بن سکتی ہے اور یہ وہ ٹیکہ ہے جسے دھونے کے لیے اکثر اوقات عشرے بھی ناکافی ہوتے ہیں۔

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے،
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
(مظفر رزمی)

کچھ دیر کے لیے فلیش بیک میں چلتے ہیں۔۔

نوے برس پہلے دس مئی انیس سو تینتیس کو نازی اسٹوڈنٹس یونین کے قریباً پانچ ہزار طلبا اور ان کے اساتذہ ہاتھوں میں مشعلیں لیے برلن کے بیبل پلاٹز اسکوائر میں جمع ہوئے۔ سامنے لگ بھگ بیس ہزار کتابوں کا ڈھیر ہے۔ سب کتابیں یہودی مصنفین کی ہیں۔ ان میں کارل مارکس اور روزا لگزمبرگ جیسے بائیں بازو کے نظریہ سازوں اور دانشوروں کی تصانیف بھی شامل ہیں۔ بھلے وہ کمیونسٹ تھے مگر رگوں میں تو یہودی خون تھا نا۔

اس کتابی ڈھیر کو لگ بھگ چالیس ہزار تماش بینوں کے سامنے آگ لگائی جاتی ہے۔ طلبا بیک آواز منتر پڑھ رہے ہیں ’’اخلاقی زوال اور خاندانی نظم و ضبط و شائستگی کی زبوں حالی کا سبب بننے والی ان کتابوں کو آج ہم ہمیشہ کے لیے جلا رہے ہیں۔‘‘

مجمع میں ایرک کاسٹنر بھی گم صم کھڑا اپنی تصنیفات بھی جلتے دیکھ رہا ہے۔ایرک نے بعد میں لکھا کہ ’’آسمان پر کالی گھٹاؤں کے سبب ماحول ’میت ناک‘ تھا۔ بارش بار بار شعلے بجھا رہی تھی۔ کتابوں کو راکھ کرنے کے لیے طلبا کو بار بار پٹرول چھڑک کے آگ جلانا پڑ رہی تھی۔ یعنی کتابوں کی جان بہت تکلیف سے نکلی۔‘‘

مجھے یہ نوے برس پرانا سانحہ گذرے اپریل میں یاد آیا۔ جب قصبہ بہار شریف میں ڈنڈوں، پتھروں اور پٹرول بموں سے مسلح ہجوم نے معروف تاریخی مدرسے کی ایک سو تیرہ برس پرانی لائبریری جلا ڈالی۔ ذخیرے میں نسل در نسل جمع قیمتی کتابیں، قلمی نسخے اور اسلامی خطاطی کے نایاب نمونے تھے۔

جس طرح کاسٹنر سمیت سیکڑوں لکھاریوں کو نازی جرمنی چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح آج کے ہندوستان میں دائیں بازو والے اپنے مخالفین، ناپسندیدہ صحافیوں اور لکھاریوں سے کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ نکل جاؤ یہاں سے۔

برلن کے جس بیبل پلاٹز اسکوائر میں نوے برس پہلے کتابیں جلائی گئیں، آج وہاں ایک یادگار ایستادہ ہے۔ سفید رنگ کے خالی بک شیلف جن میں بیس ہزار کتابیں رکھنے کی گنجائش ہے۔ اس یادگار پر کانسی کی ایک پلیٹ بھی نصب ہے، لکھا ہے:
’’آغاز کتابیں جلانے سے ہوتا ہے اور پھر انسانوں کو جلائے جانے کی باری آتی ہے۔ ہینرخ ہائن، اٹھارہ سو بیس عیسوی۔‘‘

مگر بھارت میں ترتیب بدل گئی۔ آغاز انسان جلانے سے ہوا۔اب کتابوں کی باری ہے۔ انیس سو بانوے میں بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد ممبئی میں ہونے والی قتل و غارت گری اور پھر دو ہزار دو میں ریاست گجرات پر ٹوٹنے والی قیامت اس سفر کے دو اہم سنگِ میل ہیں۔

گجرات کی ایک ماں نے گواہی دی کہ اس کے معذور بچے کو درخت سے باندھ کر پہلے بھرپور تشدد کیا گیا۔ جب بچے نے پانی مانگا تو منہ میں پٹرول انڈیل کے ماچس سے آگ لگا دی گئی۔ ماں کو تو یہ منظر قبر تک یاد رہے گا۔ کیا ہجومی قاتلوں کو بھی یہ سب یاد رہے گا؟

جرمنی میں یہودی عورتوں، مردوں اور بچوں کو مال گاڑی کے ڈبوں میں ٹھونس کر کنسنٹریشن کیمپوں تک لے جایا گیا۔ ٹرینیں جگہ جگہ رکتی تھیں۔پلیٹ فارم پر تماشائی ہوتے تھے۔ وہ ان ڈبوں کے اندر سے آنے والی پانی پانی کی گھٹی گھٹی صدائیں بھی سنتے تھے۔

ان تماش بینوں نے گھروں سے ہنکال کے لے جانے والے پورے پورے خاندان دیکھے۔ بوڑھوں اور معذوروں کو کوچہ و بازار میں نازی ایس ایس اور گسٹاپو کے ہاتھوں گولی کھا کے گرتے دیکھا۔

جرمنوں نے تو اپنے تکلیف دہ ماضی کے دوران اجتماعی خاموشی اور احساس جرم کا ریاستی سطح پر طرح طرح سے اعتراف کر لیا۔ برلن کے کچھ گھر بھی محفوظ کر لیے جن کے مکینوں کو سیدھا گیس چیمبرز پہنچایا گیا۔

وہ اسپتالی عمارت بھی موجود ہے جہاں روما نسل کے بچوں پر سائنسی تجربات کیے جاتے تھے۔ وہ پولیس اسٹیشن بھی محفوظ کر لیا گیا جہاں مشرقی جرمنی کی خفیہ پولیس سٹاسی مشتبہ ملزموں پر تشدد کرتی تھی۔

مگر بھارت میں ایسی کتنی یادگاریں ہیں جن سے ہمارے بچوں کو احساس ہو کہ تقسیم کے دوران جو ایک ملین لوگ ہلاک ہوئے یا جو پندرہ ملین انسان زمینی تبادلے میں لٹ پٹ گئے؟ اس المیے سے کوئی اجتماعی احساسِ جرم پیدا ہوا؟ ہوا تو ریاستی سطح پر ازالے کے لیے کیا کیا گیا؟

جرمنی میں کہانی یہودیوں کے کاروبار اور املاک پر حملوں اور ملازمتوں سے بیدخلی سے شروع ہوئی، پھر ان کے گھروں اور دکانوں پر قبضہ ہوا، پھر انھیں مخصوص محلوں تک محصور کر دیا گیا اور پھر یہ محلے بھی مکینوں سے خالی ہونے لگے اور کبھی واپس نہ لوٹ سکے۔۔ کیا اکثریت واقعی یہ سب ہوتا نہیں روک سکتی تھی؟

بھارت میں بھی کتنی تیزی سے زہر پھیلا ہے کہ یہ مسلمان تھے اور ہیں جن کے ہاتھوں ہندو بھارت کا سنہرا دور ملیامیٹ کرنے کی کوشش ہوئی، مگر اب اس سنہرے دور کی واپسی کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔

یہ وہی مسلمان ہیں جو خرگوشوں کی طرح دھڑا دھڑ آبادی بڑھا رہے ہیں۔ وہی ہیں جن کے ہوتے کورونا وبا بن گیا۔ مسلمان بچوں کو تعلیمی اسکالر شپس کے دائرے سے خارج کرنے، نئے نصابی بیانیے کی تشکیل اور شہریت کے قوانین میں امتیازی ترامیم تک غرض کیا کیا کوششیں اور بیش بندیاں نہیں ہو رہیں۔

ان پالیسیوں اور بہانے بہانے سے ہجومی تشدد کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ وہ مسلمان عورتیں جو اپنی گھریلو آزادیوں کے لیے جدوجہد میں پیش پیش رہی ہیں۔ وہ مسلمان نوجوان جنھوں نے فرسودہ رواجوں اور روایات سے بغاوت کر کے کھلی فضا میں سانس لینے کی بھرپور کوشش کی یا پھر اپنے بل پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے زندگی میں کچھ اچھا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب ان سب کو ایک ہی بریکٹ میں بند کر کے مخصوص محلوں اور علاقوں تک محدود کرنے کا کام زور و شور سے جاری ہے۔

اب انھیں اسی شناخت کے ساتھ جینے کی ترغیب دی جا رہی ہے جو ان پر ہر جانب سے جبراً تھوپی جا رہی ہے۔ اگلا مرحلہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا ہے۔ کس طرف ہانکنا ہے؟ غالباً حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ممکن ہے کہ فیصلہ ہو چکا ہو، بس سازگار ساعت کا انتظار ہو۔

جرمنی پچھتر برس سے احساسِ جرم کے بوجھ سے آزاد ہونے کی تگ و دو میں ہے۔ میرے ملک نے وہی اترن پچھتر برس بعد پہن لی۔اب یہ کب اترے گی؟ کون بتائے؟

( یہ کالم قانون کی ایک بھارتی استاد ثمینہ ڈلوال کے الجزیرہ میں شایع ہونے والے تازہ مضمون کی تلخیص ہے )۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close