کے ٹو پر جان گنوانے والے پورٹر محمد حسن کی کہانی، کیا انہیں بچایا جا سکتا تھا؟

ویب ڈیسک

یہ 27 جولائی کی بات ہے جب دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ’کے ٹو‘ سر کرنے والے بین الااقوامی کوہ پیماؤں کے لیے کام کرنے والے پاکستانی پورٹر محمد حسن پہاڑ کے ایک خطرناک دھانے سے گر کر شدید زخمی ہوئے

دوسری طرف ناروے سے تعلق رکھنے والی کوہ پیما کرسٹن ہریلا اور ان کے گائیڈ ٹینجین نے اس روز کے ٹو سر کر کے 92 دن میں دنیا کی 14 بلند ترین پہاڑوں کو تیز ترین سر کرنے کا ریکارڈ بنایا

یہ ریکارڈ بنانے کے لیے انہیں زخمی حسن کے پاس سے گزرنا پڑا، جو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا

ان کوہ پیماؤں نے چوٹی سر کر کے ریکارڈ تو بنا لیا لیکن یہ ریکارڈ اس خبر کے نیچے دفن ہو گیا کہ حسن موت کے ہاتھوں زندگی کی جنگ ہار گیا

اب گلگت میں حکام نے تحقیقات شروع کی ہیں جو ان الزامات پر مرکوز ہیں کہ چوٹی تک پہنچنے کی خواہش میں درجنوں کوہ پیما شدید زخموں میں مبتلا پورٹر حسن کو تنہا چھوڑ کر ان کے پاس سے گزر گئے

ضلع شگر کے گاؤں تھاماتھو سے تعلق رکھنے والے ستائیس سالہ پاکستانی پورٹر نے اپنی بیمار ماں کے علاج کے لیے آٹھ ہزار میٹر سے زائد کی بلندی پر جانے کا رسک لیا۔ محمد حسن کی موت کے بعد ایک نارویجن خاتون کوہ پیما کو سخت تنقید کا سامنا ہے

لیکن کامیاب کوہ پیما کرسٹین ہریلا نے ستائیس سالہ پورٹر حسن کی موت کی کسی بھی ذمہ داری کو مسترد کیا ہے، جو تین بچوں کا باپ تھا

ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں جمعے کو ہریلا نے لکھا کہ المناک موت میں کسی کا قصور نہیں تھا

کرسٹین ہریلا کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر آن لائن بدسلوکی کا نشانہ بنی ہیں، ان پر حسن کی مدد کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا گیا ہے، اور یہاں تک کہ بقول ان کے، انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ اب انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں اپنا مؤقف پیش کیا ہے

انہوں نے لکھا، ”یہ کسی کی غلطی نہیں تھی، جب آپ صورتحال کو نہیں سمجھتے تو آپ تبصرہ نہیں کر سکتے۔“

”یہ دنیا کے مہلک ترین پہاڑ کے سب سے خطرناک حصے میں ہوا، اور آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ 8000 پلس میٹرز پر آپ کی بقا کی جبلت آپ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔“

کرسٹین نے بتایا کہ جب حسن اچانک کسی نامعلوم وجہ سے پھسلتے ہوئے ابتدائی طور پر رسی کے ساتھ الٹے لٹک گئے تو ان (ہریلا) کی ٹیم اس پاکستانی پورٹر کی مدد کے لیے پہنچی تھی

انہوں نے بتایا کے ان کی ٹیم کے کیمرہ مین تقریباً ڈھائی گھنٹے حسن کے ساتھ رہے تھے اور انہیں آکسیجن فراہم کی

ان کا کہنا ہے کہ ’حسن ہماری ٹیم کا حصہ نہیں تھے‘ اور یہ کہ انھوں نے حسن کو گرتے وقت بھی نہیں دیکھا تھا۔ ان کے مطابق ان کے گروہ نے حسن کو زخمی حالت میں دیکھ کر ان کی مدد کرنا چاہی تھی

کرسٹین نے کہا کہ سوال اس کمپنی سے پوچھا جانا چاہیے جس نے حسن کی خدمات حاصل کی تھیں کیونکہ انھیں نہ آکسیجن کی سپلائی دی گئی تھی نہ ہی سردی کی مناسبت سے صحیح کپڑے فراہم کیے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ حسن کوہ پیماؤں کے ایک گروہ کے لیے بطور پورٹر خدمات سرانجام دے رہے تھے

کرسٹین نے کہا کہ ’ہم نے واپس نیچے آ کر دیکھا کہ حسن دم توڑ چکے ہیں اور ہمارے پاس یہ صلاحیت نہیں تھی کہ ہم ان کی لاش اپنے ساتھ نیچے لا پاتے۔‘

انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا کیمرا مین کے جانے کے بعد بھی ان کی ٹیم میں سے کسی نے زخمی پورٹر کی مدد کی تھی

اس روز دو دیگر کوہ پیماؤں آسٹریا کے ولیم اسٹینڈل اور جرمنی کے فلپ فلیمگ نے چوٹی سر کرنے کی مہم ترک کر دی تھی، لیکن اس کی وجہ موسم کی خرابی تھی

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بعد میں ڈرون فوٹیج کا جائزہ لے کر اس روز کے واقعات کو دوبارہ ترتیب دیا

چونکہ ان کے پاس چھوٹا کیمرا تھا اس لیے انہوں نے اگلے روز ڈرون کی مدد سے وہاں کے مناظر فلمند کیے۔ سٹینڈل نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے ایک شخص کو زندہ حالت میں پایا۔ وہ بوٹل نیک پر لیٹا ہوا تھا۔ لوگ ان کے اوپر سے قدم رکھ کر آگے اپنی مہم کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔ اور ان کے لیے کوئی ریسکیو مشن نہ تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’میں حیران رہ گیا۔ یہ بہت افسوس ناک تھا۔ میں ان حالات کو دیکھ کر رونے لگا کہ لوگ ان کے پاس سے گزر رہے ہیں اور کیوئی ان کی مدد نہیں کر رہا۔‘

اسٹینڈل کے ساتھی فلیمگ کے مطابق صرف ایک شخص نے حسن کی مدد کی اور باقی تیزی سے کے ٹو سر کرنے کی مہم میں مصروف رہے

اسٹینڈل نے ہفتے کے روز خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ فوٹیج میں درجنوں کوہ پیماؤں کو ایک شدید زخمی حسن کو بچانے کے بجائے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا

انہوں نے الزام لگایا کہ اگر ہریلا اور ان کی ٹیم سمیت دیگر کوہ پیما چوٹی تک پہنچنے کی کوشش ترک کر دیتے تو پورٹر کو بچایا جا سکتا تھا

اسٹینڈل نے مزید کہا کہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص (حسن) کے سینے کو رگڑنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ اسے گرم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے کسی طرح زندہ رکھا جا سکے ’’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ شخص بے چین ہے۔‘‘

اسٹینڈل نے کہا ”یہاں ایک دوہرا معیار ہے۔۔ اگر میں یا کوئی اور مغربی باشندہ وہاں پڑا ہوتا تو اس کو بچانے کے لیے سب کچھ کیا جاتا۔ زخمی شخص کو واپس وادی میں لانے کے لیے سب کو واپس جانا پڑتا“

آسٹریا کے کوہ پیما نے کہا کہ اس سیزن میں 27 جولائی وہ واحد دن تھا، جب کوہ پیماؤں کے لیے کے ٹو کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے حالات سازگار تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس روز اتنے کوہ پیما کیوں چوٹی پر جانے کے لیے بے چین تھے

اسٹینڈل نے کہا ”میں کسی پر براہِ راست الزام نہیں لگانا چاہتا۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ وہاں کوئی ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا گیا۔ یہ واقعی بہت افسوسناک ہے کیوں کہ اس طرح کی صورتِ حال میں ایسا کرنا معمول کا اقدام ہوتا“

کوہ پیما ہریلا نے نشریاتی ادارے ’اسکائی نیوز‘ کو بتایا کہ حسن پہاڑ کی خطرناک ترین رکاوٹ پر گرنے کے بعد ایک رسی سے سر سے نیچے لٹک رہے تھے

ان کے بقول ان کی ٹیم تقریباً ایک گھنٹے کے بعد حسن کو پگڈنڈی پر واپس لانے میں کامیاب ہوئی۔

کوہ پیما نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم کے ایک اور شخص نے چوٹی پر جانے کا فیصلہ کیا، جب کہ ٹیم کا ایک اور رکن حسن کے ساتھ رہا۔ حسن کے ساتھ رہنے والے ٹیم کے ممبر نے زخمی پورٹر کو اپنے ماسک سے گرم پانی اور آکسیجن فراہم کی

کے ٹو کی چوٹی کی طرف بڑھنے کے فیصلے کے بارے میں ہریلا نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ ان کی فارورڈ فکسنگ ٹیم بھی مشکلات کا شکار تھی

تاہم انٹرویو کے دوران انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیل نہیں بتائی

ادہر اسٹینڈل نے حسن کے خاندان سے ملاقات کی اور کراؤڈ فنڈنگ مہم کے ذریعہ تین دن میں ایک لاکھ ڈالر سے زائد کے عطیات ان تک پہنچائے ہیں

اسٹینڈل نے ’اے پی‘ کو بتایا کہ انہوں نے خاندان کی تکلیف دیکھی ہے

ان کے مطابق حسن کی بیوہ نے ان کو بتایا کہ ان کے شوہر نے یہ سب کچھ اس لیے کیا تاکہ اس کے بچوں کو زندگی میں (بہتر) مواقع مل سکیں اور وہ تعلیم حاصل کر سکیں

پاکستان میں کوہ پیمائی کی ایک حالیہ مہم کے دوران مقامی پورٹر حسن کی موت سے متعلق سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز پریشان کن ہیں

ان میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کو ایک پاکستانی پورٹر محمد حسن کے جسم پر سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ حادثہ پاکستان میں واقع اور سطح سمندر سے 8,611 میٹر بلند دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر پیش آیا۔

اس واقعے کے نتیجے میں گلگت بلتستان کی صوبائی نے ایک انکوائری کمیشن بھی تشکیل دیا ہے۔ اس تحقیقاتی کمشین کو جن سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا کام سونپا گیا ہے وہ یہ ہیں: 27 جولائی کو حسن کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا اس کی جان بچانے کے لیے سب کچھ ممکن تھا؟ کیا اسے کوہ پیمائی کی مہارت کی بنیاد پر وہاں تک جانے کی اجازت دی جانی چاہیے تھی؟ کیا وہ کےٹو کی اونچائی والے پورٹر کے طور پر اپنے کام کے لیے ضروری سامان سے لیس تھا؟

آخری سوال کا جواب بالکل واضح طور پر ‘نہیں‘ ہے

حسن کی بیوہ نے آسٹریا کے کوہ پیما ولیم سٹینڈل اور جرمن فلمساز فلپ فلیمگ کو بتایا کہ اس کے شوہر پہلے صرف 5,100 میٹر کے فاصلے پر کےٹو بیس کیمپ تک سامان لے کر گئے تھے

اس بار تاہم 27 سالہ حسن 8,000 میٹر سے بھی زائد بلندی کے سفر پر روانہ ہوئے تھے کیونکہ انہیں اپنی بیمار ماں کے علاج کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ حسن نے اس ٹیم کا ساتھ دیا، جس نے رسیوں کے ساتھ چوٹی پر جانے کے راستے کو محفوظ بنایا۔ اس دن تقریباً 200 کوہ پیما چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، ان میں سے تقریباً نصف ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

حسن کے پاس نہ تو انتہائی اونچائی پر کوہ پیمائی کے لیے ضروری تجربہ تھا بلکہ ان کے پاس ساز و سامان کی بھی کمی تھی۔ اس مہم میں شامل ناروے کی کوہ پیما کرسٹن ہریلا کے مطابق محمد حسن نے ٹھنڈ سے بچانے کے لیے زیر لباس لازمی کپڑے اور آکسیجن ماسک نہیں پہنا ہوا تھا۔ ہریلا اپنے نیپالی پہاڑی گائیڈ تینجین شیرپا کے تعاون سے چوٹی تک پہنچنے والوں میں شامل تھیں

یہ حادثہ کے ٹو پر چڑھنے کے لیے راستے کے ایک اہم مقام ’باٹل نیک‘ پر پیش آیا۔ وہاں کوہ پیماؤں کو ایک بہت ہی چڑھائی والے تنگ اور براہ راست گلیشیر کے نیچے ہونے کی وجہ سے ہر وقت برفانی تودے گرنے کے خطرے سے دوچار حصے کو عبور کرنا ہوتا ہے۔ ہر کوئی جلد از جلد وہاں سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے

27 جولائی کو چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد کی وجہ سے اس حصے مین رکاوٹ پیدا ہونے کی وجہ سے ایک لمبی قطار بن گئی تھی اور یہ گھنٹوں تک جاری رہی۔ کوہ پیمائی کی پاکستانی ایجنسی لیلیٰ، جس کے لیے حسن کام کرتے تھے، اس کے سربراہ انور سید کا کہنا تھا ”پورٹر کو زیادہ دیر تک تکلیف نہیں ہوئی“

انور سید نے کہا، ”وہ چند لمحوں کے بعد ہی چل بسے تھے تو درحقیقت ان کے بچاؤ کے لیے کافی وقت نہیں تھا۔‘‘ ان کا یہ بیان نہ صرف ہریلا کے بیان بلکہ جرمن فلم ساز فلیمگ طرف سے شوٹ کی گئی ڈرون فوٹیج سے بھی متصادم ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک کوہ پیما حسن کو دن کی روشنی میں برف پر لیٹا کر مساج کر رہا ہے۔ حسن کی ٹانگ اب بھی ہلتی دکھائی دیتی ہے۔

لیلا پیک ایکسپیڈشن کمپنی کے عہدیدار انور سید نے بتایا کہ حسن کی موت چوٹی سے لگ بھگ 150 میٹر (490 فٹ) نیچے ہوئی۔ ان کے بقول، کئی لوگوں نے مدد کرنے کی کوشش کی لیکن آکسیجن اور گرمی فراہم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اہلِ خانہ کے لیے حسن کی لاش کو واپس لانا ممکن نہیں ہوگا

یہ حادثہ رات سوا دو بجے کے قریب پیش آیا تھا۔ اس دن چوٹی پر پہنچنے والا ہر شخص حسن کے وجود سے پھلانگتے ہوئے گزرا، کچھ تو چوٹی پر جاتے اور پھر واپسی پر بھی وہیں سے گزرے۔ فلیمگ نے ویانا کے روزنامہ ڈیراسٹینڈرڈ کو بتایا، ”تین مختلف عینی شاہدین کے اکاؤنٹس کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ شخص اس وقت تک زندہ تھا جب کہ 50 کے قریب لوگ اس کے پاس سے گزرے۔ یہ ڈرون فوٹیج میں بھی نظر آتا ہے۔“

ولیم اسٹینڈل نے برفانی تودے کے خطرے کو بھانپتے ہوئے، چوٹی سر کرنے کی اپنی کوشش ترک کر دی تھی۔ اسٹینڈل نے ’ڈیر سٹینڈرڈ‘ کو بتایا، ”وہ وہیں بری طرح مر گیا۔ اسے نیچے لانے میں صرف تین یا چار لوگوں کی ضرورت پڑنی تھی۔‘‘

انہوں نے کہا، ”میں جائے حادثہ پر نہیں تھا، اگر میں اسے دیکھ لیتا تو اوپر چڑھ کر اس غریب کی مدد کرتا۔‘‘

اسٹینڈل نے کہا ”بعد میں ہریلا کی فتح کا جشن بیس کیمپ میں ایک پارٹی کے ساتھ منایا گیا۔۔ میں نہیں گیا، اس لیے کہ یہ مجھے ناگوار گزرا۔ ایک شخص کی موت ہوئی تھی۔‘‘

اگرچہ اسٹینڈل ذاتی طور پراس معاملے میں ملوث نہیں تھے لیکن انہوں نے کے ٹو کی مہم پر گئی ٹیموں سے رقم اکٹھی کی اور اسے حسن کے خاندان تک پہنچایا۔ انہوں نے حسن کے تین چھوٹے بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے میں مدد کے لیے ایک انٹرنیٹ فنڈ ریزنگ مہم بھی شروع کی ہے۔ پاکستان میں عموماً اونچائی پر کام کرنے والے پورٹرز کو موت کی صورت میں تقریباً پندرہ سو ڈالر کے برابر بیمہ دیا جاتا ہے

محمد حسن کے قریبی عزیز محمد اسلم کا کہنا ہے ’محمد حسن اپنے بچوں کی روزی روٹی کے لیے کے ٹو پر گئے تھے۔ وہ زمینداری کے ساتھ ساتھ اونچائی پر پورٹر کے فرائض انجام دیتے تھے۔ جب انھیں کے ٹو پر فرائض انجام دینے کا موقع ملا تو بہت پرجوش تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اس سے ان کے معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘

35 سالہ محمد حسن نے سوگواروں میں بیوہ اور تین بچے چھوڑے ہیں۔ جن کی عمریں چھ سال سے لے کر دو سال تک ہیں

محمد اسلم تھاماتھو ہی میں اسکول ٹیچر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ محمد حسن کا اپنا گھر نہیں تھا اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ رہتے تھے

’جب کے ٹو پر ان کو کام ملا تو وہ مجھے ملنے کے لیے آئے اور کہا کہ یہ بہت اچھا ہو گیا۔ اب میں اپنے لیے الگ گھر بنا سکوں گا۔ ماں بیمار رہتی ہیں، ان کا علاج کراؤں گا اور اپنے بچوں کو اچھی تعلیم و تربیت دلا سکوں گا۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ محمد حسن کا یہ کے ٹو پر پہلا مشن تھا جبکہ اس سے پہلے انہوں نے دیگر چوٹیوں پر فرائض ادا کیے ہوئے تھے

ایلی پیپر کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ وہ ایک اور ٹیم کے ہمراہ وہاں پر پہنچے تھے۔ وہ بتاتے ہیں ”جب میں موقع پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کوہ پیما الٹا لٹکا ہوا ہے۔ اس موقع پر میں نے اپنے پاس موجود پلی کی مدد سے ان کو کھینچا اور اوپر کی طرف لایا۔ اس کے بعد ’سی پی آر‘ کے ذریعے محمد حسن کی سانس بحال کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس وقت تک دم توڑ چکے تھے“

احمد حسن کا تعلق بھی شگر سے ہے۔ انکوں نے اس سال کے ٹو کو پہلی مرتبہ سر کیا ہے۔ ان کے بقول ”جب ایلی پییر نے محمد حسن کو پلی کے ذریعے سے اوپر کھینچ کر لایا تو وہ دم توڑ چکے تھے۔ مصنوعی طریقے سے بھی سانس بحال کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔‘

ایک اور کوہ پیما کا کہنا تھا کہ محمد حسن نے تین گھنٹے بڑے حوصلے اور جرأت کے ساتھ اپنی زندگی بچانے کی جدوجہد کی ”تین گھنٹے تک رسی پر الٹا لٹک کر اس کو تھامے رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ بندہ رسی پر چند منٹ بھی نہیں لٹک سکتا۔ اس دوران وہاں پر سردی بھی تھی اور حالات بھی خراب تھے۔ محمد حسن رسی پر لٹکے ہوئے تو زندہ رہے مگر جب ان کو ریسیکو کیا گیا تو وہ نہیں بچ سکے“

ریکارڈ یافتہ کوہ پیما سرباز خان کا کہنا ہے کہ کے ٹو اور اس جیسے دیگر پہاڑوں پر کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا ”اگر کچھ کام آتا ہے تو وہ صرف تربیت کام آتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا کوئی نظام بھی موجود نہیں، جس میں کوہ پیمائی کی تربیت دی جائے، ان کے پاس جدید اور حفاظتی آلات ہوں، کوہ پیماوں کا مسقبل محفوظ رکھنے کا انتظام ہو“

ان کا کہنا تھا کہ محمد حسن پہلی مرتبہ آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹی کے لیے نکلے تھے۔ ”ہو سکتا ہے انہیں کچھ اور چوٹیوں کا تجربہ ہو مگر کے ٹو کچھ مختلف ہے۔ ان کے مطابق ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کو تربیت فراہم کی جاتی، ان کو بتایا جاتا کہ جب ساڑھے سات ہزار اور آٹھ ہزار پر پہنچو گے تو وہاں پر کس طرح رکنا اور چلنا ہے“

سرباز خان کہتے ہیں ”ساڑھے سات ہزار کے بعد اور آٹھ ہزار پر جسم میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ان سے کیسے نمٹنا ہے، کسی حادثے میں کیا کرنا ہے، یہ سب دنیا بھر میں تربیت کا حصہ ہوتا ہے مگر پاکستان میں ایسا کچھ نہیں۔ محمد حسن جرأت مند تھے مگر آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر کیا کرنا ہے وہ نہیں جانتے تھے“

احمد حسن کا کہنا ہے ”محمد حسن کی لاش کے پاس سے گزرتے ہوئے کوہ پیما بہت جذباتی ہو رہے تھے۔ کئی ایک خواتین کوہ پیما کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر وہ بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی تھیں۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close