شام سے پہلے

شاہین کمال

میں نے عید کی چھٹیوں کے ساتھ اضافی چھٹیاں بھی لے لیں تھیں تاکہ اس بار گھر جا کر ابّا جان کا مفصل چیک اپ کروا سکوں۔ پچھلے ٹرپ پر ابّا جان مجھے نسبتاً زیادہ خاموش اور کمزور لگے تھے اور ان کی گرتی صحت مجھے فکر مند رکھتی تھی۔

محلے میں عرصہِ دراز سے خالی پڑا املی کے درخت والا مکان آباد ہو گیا تھا، جو میرے لیے باعثِ خوشگوار حیرت بھی تھا۔ میں نے رات کے کھانے پر اپنے گوشہ نشین ابا سے نئے آنے والوں کی بابت دریافت کیا کہ کیسے لوگ ہیں؟ حسبِ توقع ابّا، آنے والوں کے کوائف سے لا علم تھے، بولے ہاں شاید چھوٹی سی فیملی لگتی ہے۔

میں نے جب میٹرک پاس کیا تھا تو ہم لوگ پاپوش، گیارہ نمبر سے گلشن اقبال پانچ نمبر منتقل ہو گئے تھے۔ ابا کی محنت شاقہ سے بنایا گیا یہ مکان اس وقت ادھورا ہی تھا۔ دو سال کی مدت میں کہیں جا کر یہ گھر مکمل ہُوا۔ یہ گھر ہم سب کے خوابوں اور آرزوؤں کا مسکن تھا۔ امی جان جو گھر کی تعمیر پر سب سے زیادہ خوش تھیں، انہیں جلد ہی اپنی راجدھانی سے ہجرت کرنی پڑی کہ جگر کے کینسر نے انہیں خوشیوں سے محضوظ ہونے کی مہلت ہی نہیں دی۔ امّی کے بغیر آپا، ناجیہ، میں اور گھر ویران اور ابا جان بالکل ہی گم سم ہو گئے تھے۔ کیسے نہ ہوتے، امی، ابا کی صرف فرسٹ کزن ہی نہیں بلکہ بچپن کی محبت بھی تھیں۔ ایسی شریکِ حیات، جس نے ابا کی شاہراہ حیات کے کانٹے اپنی پلکوں سے چُنے تھے۔ یہ دونوں صحیح معنوں میں رفیق اور ہم دم و دم ساز تھے۔ ابا جان ہمیشہ کے کم گو پر اب تو ہوں ہاں سے بھی گئے، لگتا تھا کہ نطق کہیں مقفل کر کے چابی دریا برد کر چکے ہیں۔ اس گھر کی ساری حرارت اور رونق امی کے دم قدم سے تھی، اب تو گھر میں بس ایک چُپ کی گونج تھی جو برمے کی طرح دل کے آر پار ہوتی۔ آپا اور ناجیہ بھی تعلیم مکمل کر کے اپنے گھر بار کی ہوئیں اور میں پردیس کا ٹھیکرا ہُوا۔
عیدِ قرباں ہمیشہ کی طرح اپنی روایتی رونق اور گہما گہمی کے ساتھ گزری، ابا اور میں نماز کے بعد قبرستان گئے، آج تو شہر خموشاں بھی پُر رونق تھا۔

ایک دوپہر میں نانبائی سے روٹیاں لے کر واپس آ رہا تھا تو املی والے گھر سے کسی عورت کی اونچی اونچی غضب ناک آوازیں باہر تک سنائی دے رہی تھیں، وہ کسی کو بُری طرح ڈانٹ پھٹکار رہی تھی۔ میں نے اس گھر سے اکثر ایک دبلی پتلی عمر رسیدہ عورت کو ایک بچے کا ہاتھ تھامے، اسے اسکول چھوڑتے اور لاتے دیکھا تھا۔

میں ابا جان کے چیک اپ اور ٹیسٹ کے چکر میں کلینک اور لیب کے درمیان گھن چکر بنا ہُوا تھا، کھانے کے بعد مجھے بے طرح سگریٹ کی طلب محسوس ہوئی تو میں دبے قدموں گھر سے باہر نکل آیا، باہر چار سو چلچلاتی دھوپ اور دوپہر کا حبس بھرا سوگوار سناٹا طاری تھا۔ اپنے گھر کے دروازے پر ایستادہ گل مہر کے مہربان سائے تلے سگریٹ کا پہلا کش ہی لیا تھا کہ املی والے مکان کا دروازہ دھڑاک سے کھلا اور کسی نے ایک نحیف وجود کو باہر دھکا دے دیا. دیکھا تو وہی دبلی پتلی عورت ہچکیوں سے روتی اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش میں مزید بکھر رہی تھی ، ابھی میں متحیّر آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ ایک اوبر کار آ کر رُکی اور اس گھر سے ایک عورت اسی چھوٹے بچے کے ساتھ ایک سوٹ کیس لے کر باہر نکلی اور ایک گٹھڑی اس بوڑھی عورت کی جانب اچھال دی۔

بوڑھی عورت نے لپک کر اس عورت کا دوپٹہ پکڑ لیا اور لجاجت سے کہا ”بیٹی میں کہاں جاؤں گی؟؟“

اس عورت نے جھٹکے سے اپنا دوپٹہ چھڑاتے ہوئے نخوت سے کہا، ”جہنم میں!“
اور اوبر میں بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔۔

یہ سارا تماشا کوئی منٹ سے اوپر ہی بھر کا تھا۔ میں آگے بڑھا اور انہیں سہارا دے کر اٹھایا اور کہا، ”خالہ یہ سامنے ہی میرا گھر ہے، آپ گھر میں چل کر بیٹھیں، پانی وانی پیجیے، پھر سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔“

”نہیں نہیں بیٹا۔۔ تم مجھے رکشہ کر دو، میں نارتھ کراچی کے ایدھی ہوم چلی جاؤں گی۔۔“ انہوں نے بےچارگی سے اپنی کہنی سے رستے خون کو اپنی ساری کے آنچل میں جذب کرتے ہوئے کہا۔

”ٹھیک ہے خالہ، پہلے آپ گھر تو چلیں، آپ کے زخم کی ڈریسنگ کر دوں۔۔ پھر آپ جو کہیں گی، ویسا ہی کروں گا۔۔ چلیں آئیں شاباش۔“ میں نے انہیں سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے کہا

شکر کہ ابّا سو رہے تھے، میں انہیں اپنے ہی کمرے میں لے آیا، انہیں بستر پر ٹیک لگا کر بٹھایا اور جلدی سے اے سی آن کیا، پھر باورچی خانے سے ٹھنڈا پانی اور فرسٹ ایڈ باکس لا کر ان کی ڈریسنگ کی۔ پانی پی کر ان کے اوسان قدرے بحال ہوئے مگر پھر ان کی وہی تکرار کہ مجھے ایدھی ہوم چھوڑ آؤ۔۔

”خالہ آپ پریشان نہ ہوں، پڑوسیوں کا بہت حق ہوتا ہے، ہم لوگ مل جل کر اس مسئلے کا کوئی حل نکال لیں گے۔“
میں نے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی۔

”نہیں بیٹا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں، فرحت کئی دن سے مجھے گھر سے نکلنے کا کہہ رہی تھی اور آج اس نے نکال کر ہی دم لیا۔“ انہوں نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے گلوگیر آواز میں کہا

”آپ فکر کیوں کرتی ہیں، آپ کا بیٹا معاملہ سنبھال لے گا۔“

”نہیں بیٹا، ایسا کچھ نہیں ہونے والا، فرحت کے آگے اس کی بولتی بند ہے۔“ انہوں نے بےبسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔

یہ سن کر تو میں حیرت سے گنگ رہ گیا، کیا کوئی بیٹا اتنا بھی کٹھور اور بے غیرت ہو سکتا ہے؟
نہیں نہیں کوئی بیٹا ایسا نہیں کر سکتا۔۔
میں ابھی تک حیران پریشان تھا۔

”اب کل یُگ ہے بیٹا اور سب ممکن، میں نے بیوگی میں فرقان کو بڑی محنتوں سے پالا، اسے سختی و تندی کی بادِ سموم سے لحظہ لحظہ بچایا پر جانے کہاں غلطی کر بیٹھی؟“

مجھے ان کی بے کلی نے بےچین کر دیا۔ ”اچھا آپ آرام کریں، میں ابھی آتا ہوں۔“

مجھے اندازہ تھا کہ وہ بھوکی ہیں۔ میں نے کھانے کی ٹرے سجائی اور ان کے آگے رکھ دی۔ انہوں نے ہچکچاتے ہوئے بسمہ اللہ پڑھ کر کھانا شروع کیا مگر ہر نوالہ گویا ان کے حلق میں اٹک رہا تھا، جسے وہ پانی کا گھونٹ بھر کر نیچے دھکیلتیں۔ جو سچ کہوں تو مجھ سے ان کی بے چارگی برداشت نہ ہوئی اور میں کچن میں آکر چائے بنانے لگا۔ ابا بھی شاید کھٹ پٹ سے جاگ گئے تھے، وہ باورچی خانے آ گئے۔ میں نے انہیں مختصراً خالہ کی بپتا سنا دی۔ وہ افسردہ ہو گئے اور کہا کہ تم نے اچھا کیا جو انہیں گھر لے آئے، میں اپنے کمرے ہی میں ہوں، کچھ ضرورت ہو تو آواز دے لینا۔۔یہ کہہ کر وہ دبے قدموں اپنے کمرے میں چلے گئے۔

میں نے خالہ کو چائے کے ساتھ پین کِلر دی اور کہا آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں۔ چائے مکمل خاموشی میں پی گئی ، چائے کی خالی پیالی بیڈ سائیڈ پر رکھ ،کچھ لمحے سکوت کے بعد ان کی تھکی تھکی آواز کمرے میں سرسرائی۔۔ ”میرا نام راشدہ ہے اور میرے میاں کا نام سید شکیل احمد۔ شکیل، ابا کے کولیگ کے بیٹے تھے اور ہم دونوں ہی کا تعلق متوسط گھرانوں سے تھا۔ شکیل پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھے سو تنخواہ تو اچھی مگر مشقت بلا کی تھی، سُسر کے گزرنے کے بعد ترکے میں کچھ رقم ملی تھی، وہ رقم، کچھ کمیٹی کے پیسے جوڑ کر اور باقی ہاؤس بلڈنگ سے قرض لے کر ناظم آباد تین نمبر میں شکیل نے اپنے سائبان کا انتظام کیا. ابھی ہاؤس بلڈنگ کا تین چوتھائی قرض ہی ادا ہوا تھا کہ میری پرسکون جنت کے دروازے پر اجل نے دستک دے دی۔ شکیل ہفتے سے سینے میں گھٹن اور دباؤ کی شکایت کر رہے تھے۔ گلی کے ڈاکٹر کو دکھایا، اس نے گیس کا درد تشخیص کیا اور احتیاطاً ای سی جی کروانے کا مشورہ دیا۔ جمعرات کی شام دفتر سے واپسی پر وہ عباسی شہید ہسپتال چلے گئے۔ وہاں بستر پر ابھی ٹیکنیشن ان کے سینے پر تاریں ہی لگا رہا تھا کہ شدید قسم کا دورہ پڑا اور ان کا دل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رک گیا، ڈاکٹروں نے دل کو متحرک کرنے کی اپنی سی کوششیں بھی کیں مگر حضرت عزرائیل بھلا کب ٹلتے ہیں۔۔ شکیل کی کہانی ختم ہوئی اور ساتھ ہی میری مشقت کا آغاز۔۔ اس وقت فرقان ساتویں جماعت میں تھا، فرقان ہمیشہ سے کم گو اور شرمیلا بچہ تھا، حالانکہ اکلوتا تھا سو وہی ہماری پوری توجہ اور محبت کا مرکز بھی تھا مگر یہ اپنی ذات کے خول میں بند ہی رہا۔۔ شکیل کے بعد مجھے چومکھی لڑنی پڑی کہ میرے دیور گھر اور شکیل کی کمپنی سے ملنے والی قلیل رقم کے مدعی تھے، گو کہ گھر میرے نام پر تھا مگر میرے دیور، قدیر جتنا روڑا اٹکانے کی قدرت رکھتے تھے، انہوں نے وہ سارے حربے آزما ڈالے۔ میں سخت ترین حالات سے گزر رہی تھی کہ زندہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت روٹی ہی ہے۔ یقین کرو عورت کو روٹی بہت بھاری پڑتی ہے، مجھے تو صحیح طور پر شکیل کا غم منانے کی مہلت بھی نہیں ملی، عدت کے فوراً بعد ہی نوکری کی کوششوں میں شہر بھر میں جوتی چٹخاتی پھری۔ اس آڑے وقت میں اللہ کے کرم کے صدقے میری بی ایڈ کی ڈگری کام آئی اور مجھے شمس تبریز بوائز اسکول میں نوکری مل گئی۔ ساتھ ہی میں نے اپنا معمولی سا زیور بیچا اور مکان کے کاغذات رہن رکھ کر بنک سے قرض لیا اور گھر کی چھت پر ایک بڑا کمرہ، باورچی خانہ اور غسل خانہ بنوایا، جو ہم ماں بیٹے کو کافی تھا۔ نیچے گھر کو کرایہ پر دے دیا۔ اس تمام کارروائی میں تقریباً ڈھائی تین سال لگ گئے۔ جب ان ساری سختیوں سے نمٹ کر میں کُلی طور پر فرقان کی طرف پلٹی تو وہ کہیں بہت دور جا چکا تھا۔ عدالتی کارروائی اور اوپر کمرہ بنوانے کی مشقت اور نئی نوکری، ان جھمیلوں میں پھنس کر میری توجہ فرقان پر قدرے کم رہی۔۔ وہ مزید زود رنج اور تنہا ہوتا چلا گیا۔ میری ہزار کوششوں کے باوجود ہم ماں بیٹے کے درمیان بس ضرورت ہی رشتہ رہی۔
پڑھائی میں فرقان کی دلچسپی بہت کم تھی، میری زندگی اسکول اور شام میں گھر پر بچوں کو ٹیوشن دینے پر ہی شروع اور ختم تھی، نوکری، ٹیوشن اور مکان کا کرایہ، ہم ماں بیٹے کی عزت سے گزر بسر کے لیے کافی تھا۔ فرقان نے مشکلوں سے بی کام کیا اور صدر میں جعفر جی کے یہاں جونیئر اکاؤنٹنٹ لگ گیا۔ فرقان بیبا بچہ تھا، کسی عادتِ بد کا شکار نہیں، حتیٰ کہ اسے پان سگریٹ یا سنیما سے بھی شغف نہیں تھا۔ عجیب بات کہ اس کا کوئی ایک بھی گہرا دوست نہیں تھا، سارے ہم جماعتوں سے اس کی یاد اللہ ضرور مگر کوئی ایک بھی چیندہ و خاص نہیں تھا، شاید میں ہیلی کاپٹر ماں بن گئی تھی، ضرورت سے زیادہ محافظ۔ میں نے سدا اسے اپنی حفاظت کے حصار ہی میں رکھا، زمانے کی سرد و گرم سے بچا کر مرغی کے چوزے کی طرح اپنے پروں کے نیچے۔۔ کیا کروں کراچی کے حالات ہی اتنے مخدوش رہے، یہ نوجوانوں کے لیے ساز گار نہیں تھے، گھر سے باہر جوانوں کے لیے کوئی صحت مند تفریح کا سامان ہی نہیں تھا، بس یہ گھر میں بیٹھا وڈیو گیم سے دل بہلایا کرتا تھا، شاید تبھی سے اسے عورت کے سائے اور تحفظ کی عادت ہو گئی تھی، ماں کی اوڑھنی بوسیدہ ہوئی تو بیوی کی اوڑھنی کا سایہ مطلوب و مقسوم ٹھہرا۔
فرقان کی شادی برادری ہی میں ہوئی ہے، فرحت میرے دور پار کی رشتے دار ہیں، فرقان کی شادی پر ہم لوگ نیچے گھر میں شفٹ ہو گئے اور اوپر کا پورشن، اولاد کے ہاتھوں ستائے گئے ایک قناعت پسند والدین کو نہایت کم کرائے پر دے دیا۔
شروع میں سب ٹھیک رہا مگر پھر میرے پرانے وضع کا مکان فرحت کو بہت تنگ اور گھُٹا گھُٹا لگنے لگا، وہ اتنی غلط بھی نہ تھی کہ میرا گھر مشرقی رخ پہ تھا جہاں ہوا کا گزر کم ہی تھا، پھر اسے محلے کی دقیانوسیت سے شکایت ہوئی اور ہوتے ہوتے مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی خوشی کی خاطر گھر بیچنا پڑا، یہ والا گھر فرحت کے نام پر ہے اور یہاں آتے ہی اس نے ماتھے پر آنکھیں رکھ لیں، میں بےوقوف بیٹے کی خوشنودی و آبادی کے چلتے اپنا سارا سرمایہ لٹا کر اپنے ہاتھ پیر کٹوا چکی ہوں، کووڈ کے بعد تو میں عضوِ معطل ٹھہری، کووڈ نے مجھے اتنا کمزور اور نڈھال کر دیا تھا کہ میں اپنی نوکری جاری نہ رکھ سکی، اسکول سے فراغت پر مجھے جو تھوڑا بہت پیسہ ملا، اسی کو لے کر گھر میں آئے دن کی دانتا کل ہے، اب تو فرقان بھی برملا کہتا ہے کہ ’روٹی اور چھت تو ہے ہی آپ کے پاس، آپ ان پیسوں کا کیا کریں گی؟ فرحت کی سمجھ بوجھ اچھی ہے وہ ان پیسوں کو اچھی جگہ انویسٹ کر کے مہینوں میں منافع کھڑا کر دے گی۔‘
مگر میں جانتی ہوں، جن پر میری دو روٹی بھاری ہے ان سے بھلا میری بیماری اور دوا کا خرچا کیسے اٹھے گا، جانے یہ مجھے دفن بھی کریں گے کہ لاوارث قرار دے کر ایدھی کے سر مار دیں گے۔
آج کل کی لڑکیوں کو نجانے کیا ہو گیا ہے، جوانی کے زعم یہ اسی عورت کے درپے ہو جاتی ہیں، جس نے اپنا خون جگر پلا کر ایک نحیف جان کو تنومند جوان کا روپ دے کر اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ ایک پڑھا لکھا، برسرِ روزگار شاداب وجود ان کے حوالے کیا ہوتا ہے، بدلے میں بس رشتے کا احترام اور تھوڑی سی چاہ ہی کی تو طلب گار ہوتی ہے وہ پرانی عورت۔۔ فرحت کو میرا وجود اب گورا ہی نہیں، بیٹا ہے کہ مانندِ بُت خاموش تماشائی۔ بہو کی بدتمیزیوں سے زیادہ تو مجھے فرقان کی خاموشی ڈستی ہے۔“

وہ بولتے بولتے نڈھال ہو چکی تھیں اور ان آنکھیں متواتر گریاں سے متورم، مجھے ان کی بےبسی پر بہت ترس آیا، ”آپ تھوڑی دیر آرام کر لیجیے خالہ۔۔“

”نہیں نہیں بیٹا رات گہری ہو جائے گی، تم بس مجھے رکشے میں بٹھا دو میں ایدھی ہوم چلی جاؤں گی، کہیں ان کا دفتر نہ بند ہو جائے۔“ انہوں نے گلوگیر لہجے میں پھر اپنی التجا دہرائی۔۔

”کمال ہے خالہ بیٹا بھی کہہ رہی ہیں اور جانے کی بات بھی کر رہی ہیں، اب رات ہو گئی ہے، آپ آرام کیجیے میں صبح خود آپ جہاں کہیں گی چھوڑ آؤں گا۔“

انہوں نے بےبسی سے مجھے دیکھا اور سر جھکا دیا۔ میں کمرے کا دروازہ بند کر کے ابا کے کمرے میں چلا آیا۔ کھانے کے بعد ابا سے میری طویل گفتگو رہی، فجر کی اذان پر ان کے کمرے سے نکلا اور نماز پڑھ کر صوفے پر بےسدھ سو گیا، قریباً نو بجے آنکھیں کھلیں اور یکدم پچھلی رات کا سارا واقعہ دماغ میں کوند گیا، میں صوفے سے اچھل کر خالہ کے کمرے کی جانب بھاگا، خالہ بستر پر پاؤں لٹکائے خالی خالی نظروں سے دیوار کو دیکھ رہی تھیں، میں نے ان سے اپنے دیر سے اٹھنے پر معذرت کی اور الٹے پیروں ناشتے کے انتظام کے لیے باورچی خانے بھاگا۔
دیکھا تو ناشتہ ہوٹ پوٹ میں تیار تھا اور ابا وہیں کچن میں کونے میں دھری ٹیبل پر ناشتے میں مصروف تھے، ”تم منہ ہاتھ دھو کر ان کے ساتھ ہی ناشتا کر لو، جب تک میں دم پہ رکھی چائے تھرماس میں انڈیل دیتا ہوں“ ابا نے مجھے دیکھتے ہی حکم صادر کر دیا۔

خالہ نے مشکلوں سے ناشتہ کیا کہ ان کی سوئی ایدھی سینٹر پر ہی اٹکی ہوئی تھی، میں تو خالہ کے ساتھ الجھا رہا اور ابا نے آج مدتوں بعد کھانا بنایا اور کیا خوب بنایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصر سے پہلے ہم سب بیٹھک میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اطلاعی گھنٹی بجی، دروازے پر ایک پریشان حال شخص کھڑا تھا، میں نے قیاس کیا کہ یہ فرقان ہی ہے، تاہم میں سلام کر کے خاموش کھڑا رہا۔

اس نے بمشکل تھوک نگلتے ہوئے کہا ”جی سامنے والے باقر صاحب بتا رہے ہیں کہ اماں آپ کے گھر ہیں؟“

”آئیے آئیے اندر آجائیں، دروازے پر کھڑے ہو کر بات کرنا مناسب نہیں۔“ میں نے ایک طرف ہو کر اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔

بیٹھک میں قدم رکھتے ہی صحیح معنوں اس کے پیروں تلے زمین نکلتی چلی گئی۔ بیٹھک میں محلے کی مسجد کے امام صاحب اور ہمارے دونوں پڑوسی ابا کے ساتھ بیٹھے تھے۔ امام صاحب اپنا رجسٹر بغل میں دابے، ابا سے الوداعی مصافحہ کر رہے تھے۔ ٹیبل پر پڑا بڑا سا مٹھائی کا ڈبہ، پھولوں کا ہار اور کونے والے صوفے پر نفیس لباس زیبِ تن کیے ساکت چہرے والی خالہ کو دیکھ کر گویا فرقان کے جسم کا سارا خون سمٹ کر اس کے چہرے پر آ گیا۔

”اماں گھر چلو!“ شدتِ جذبات سے اس کی آواز پھٹ سی گئی۔۔

”دھیرج فرقان صاحب، یہاں آپ کی اماں کا تو پتہ نہیں مگر میری امی ضرور رہتی ہیں۔“ میں نے فرقان کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

ابا نے آگے بڑھ کر فرقان سے کہا ”بیٹے راشدہ آپ کی والدہ ہیں اور وہ جب چاہیں آپ کے گھر ملنے جا سکتی ہیں۔۔ مگر اب یہ گھر ان کا ہے اور وہ کلی طور پر اپنی مرضی کی مالک و مختار ہیں۔“

یہ سنتے ہی جہاں خالہ کا چہرہ پُرسکون ہوا، وہیں فرقان کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا اور کچھ کہنے کی کوشش میں اس کے ہونٹ کپکپا کر رہ گئے۔ وہ اپنے شکستہ قدموں پر گھسٹتے ہوئے بیٹھک سے یوں نکلا جیسے جنت بدر انسان۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close