نفرتوں کی فصیلوں اور جہالتوں کے حصاروں کے معمار کون؟

روہنی سنگھ

نفرت انگیز پیغامات پھیلانے میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ان کی بریگیڈ کے پاس انٹرنیٹ ٹرولز، آشوب گرو، حقیقی حامیوں اور پارٹی عہدیداروں کی فوج ہے۔

یہ سب اجتماعی طور پر ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں اور تشدد اور دہشت کا ماحول بنا رہے ہیں۔ جب ہماری ہاؤسنگ سوسائٹی کی ‘ریزیڈنٹ ویلفیر سوسائٹی‘ نے واٹس ایپ گروپ بنایا، تو میں خوش تھی، چلو گھر بیٹھے ہی ایک دوسرے کی خیر خیریت معلوم ہوتی رہے گی اور سوسائٹی کے حوالے سے معلومات بھی ملیں گی۔ پھر گھر کے کاموں سے فرصت ملتے ہی خواتین باہر جانے کے بجائے گھر سے ہی گوسپ کر پائیں گی۔۔ مگر کیا معلوم تھا کہ مواصلات کا یہ ہتھیار نفرت کا ایک سمندر بن جائے گا۔

چند روز قبل ہی جب دسہرہ کے دن میں واٹس اپ مسیج چیک کر کے، دوستوں کو مبارک باد کے پیغام بھیج رہی تھی تو دیکھا کہ ایک گروپ میں کسی نے میسج بھیجا ہے کہ اس بار وزیر اعظم نریندر مودی نہ صرف راون کے پتلے بلکہ لال قلعہ پر بھی تیر برسا کر اس کو بھی مسمار کریں گے۔ دسہرہ کے تہوار، راون کے پتلے کو جلانے کے عمل کو ہندو راشٹر سے اب جوڑا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ رام نے راون کو مار کر اس دن ہندو راشٹر کی بنیاد ڈالی۔ ’جئے سری رام‘ کا نعرہ، جو روحانیت اور عروج آدم کا مظہر تھا، اب کسی کو نفرت کا نشانہ بنانے کا نعرہ بن گیا ہے۔

ہر صبح پھولوں کے گلدستہ کی تصویر کے ساتھ گڈ مارننگ کی مسیج کے بجائے ہندوتوا ریاست کے قیام کی نوید یا بھگوا پرچم یا اووم کی ایموجیز ہوتی ہیں۔ یہ حال صرف ہاؤسنگ سوسائٹیز کے گروپس تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسکول میں بچوں کے والدین کے گروپ، صحافیوں کے گروپ تک اس سے مبرا نہیں ہیں۔

شروع شروع میں تو میں نے کچھ حقائق کے ساتھ ان پیغامات کا جواب دینے کی کوشش بھی کی لیکن پھر میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اب ان کو کون بتائے کہ دہلی کا لال قلعہ تو ملک کی شان ہے اور پھر دہلی کے رام لیلا میدان میں رام لیلا منعقد ہی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے کروائی تھی، جہاں وزیر اعظم مودی راون کے پتلے کو آگ کے حوالے کرنے والے تھے۔

ان گروپوں میں لگتا ہے کہ باضابطہ کچھ افراد کو بس اس لیے متعین کیا گیا ہے کہ وہ غلط اطلاعات پھیلائیں اور اتنی بار پھیلائیں کہ وہ لوگ ان کو سچ ماننے لگیں۔ اب اگر کسی نے ان کی اطلاع کو درست کرنے کی کوشش کی تو اس پر ایسی چڑھائی ہوتی ہے، کہ بس پناہ لینی پڑتی ہے۔ میرا کچھ ایسا ہی تجربہ ہے۔ ملک دشمن کا لقب دے کر ایسے شخص کی زندگی اجیرن بناتے ہیں۔ پروپگنڈہ کی یہ چکی چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے۔

کسی جماعت کی حمایت کرنا یا اس کے لیے کمپین چلانا صرف اب انتخابی موسم تک محدود نہیں ہے، لگتا ہے کہ اب ہم مسلسل انتخابی موسم میں رہ رہے ہیں۔ الیکشن کے دوران یہ مشینری بس اوور ٹائم کام کرتی ہے۔ عوام تک ہر وہ پیغام پہنچاتی ہے، جو اس نفرت کی سیاست کی حمایت کر سکے۔ پھر وہ ہندو مسلم ہو، یا اونچی ذات اور پسماندہ ذات کا مسئلہ یا پھر ہندوستان پاکستان کے درمیان کھیلا جانے والا کرکٹ میچ۔ نہ صرف واٹس ایپ، بلکہ فیس بک، ٹویٹر یا انسٹاگرام، ایسے تمام مقبول پلیٹ فارم، بھارتی عوام میں نفرت پھیلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا نفرت، غلط معلومات اور خوفناک افواہیں پھیلانے میں معاون ہے۔ اس سے پہلے کہ روس نے 2016ء میں فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی تھی، بھارت نے 2014ء کے انتخابات کے دوران اس فن میں پہلے ہی مہارت حاصل کر لی تھی، جس نے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کو اقتدارمیں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تب سے لے کر اب تک بھارت میں نفرت کی سیاست نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اب یہ بھارتی پارلیمنٹ کے اندر تک بھی پہنچ گئی ہے۔ حکمراں بی جے پی کے ایک منتخب رکن رمیش بدھوری نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے رکن دانش علی کے خلاف بد سلوکی کرکے توہین آمیز زبان استعمال کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ جہاں بدھوری اب راجستھان صوبہ انتخابات کی مہم میں مصروف ہیں، علی انصاف کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز، جو ملک بھر میں منتخب نمائندوں کے پس منظر کی جانچ کرتی ہے، نے ایک رپورٹ میں منتخب اراکین کے درمیان نفرت انگیز تقریر کے تبادلے کے بارے میں بتایا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی خلاصہ گیا ہے کہ 107 منتخب نمائندوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے مقدمات درج ہیں، جس میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اول مقام پر ہے اور اس کے 44 ارکین پارلیمان کے خلاف ملک بھر کی عدالتوں میں نفرت سے متعلق مقدمات درج ہیں۔

گزشتہ 5 سالوں میں 480 امیدوار جن میں نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات درج ہیں وہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حکمراں بی جے پی سے ہے۔ یعنی انتخابات جیتنے کے لیے نفرت ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے، جو نہاہت ہی تشویش ناک امر ہے۔ انتخابات کے دوران الزامات در الزامات تو سمجھ میں آتا ہے کہ اب غیر سرکاری ہینڈل بھی نفرت پھیلانے اور بی جے پی کے لیے پراکسی مہم چلانے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ بی جے پی آسانی سے ان پیغامات کے لیے جوابدہی یا ذمہ داری سے گریز کر لیتی ہے اور ساتھ ہی اگر کسی نے کارروائی کہ تو اس کا رخ واٹس ایپ یا فیس بک پر موڑ دیا جاتا ہے۔ اور نفرت کا بازار ہمیشہ بھرا رہتا ہے۔

مگر بقول حبیب جالب

یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار

نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستے میں

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close