کرکٹ کا ’دی میکس ڈے‘ : یقین کریں، ناقابلِ یقین چیزیں ہوتی ہیں۔۔!

ویب ڈیسک

آسٹریلیا کے گلین میکسویل گزشتہ روز انڈیا کے دارالحکومت ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم کی پچ پر کھڑے اپنے بیٹ کی زبانی کہہ رہے تھے ’یقین کریں، ناقابلِ چیزیں ہوتی ہیں۔۔‘

افغانستان کے خلاف میچ میں تن تنہا میکسویل نے وہ کر دکھایا، جسے مدتوں نہ بھلایا جا سکے گا۔۔ ایک ایسا کارنامہ، جو کرکٹ کی تاریخ میں ایک دلچسپ اور ناقابل یقین باب رقم کر چکا ہے

میکسویل نے جن چار گیندوں کے ساتھ میچ ختم کیا، ان میں انہوں نے پہلے دو چھکے، پھر ایک چوکا اور پھر ایک چھکا لگایا

وہ یہ شاٹ اس وقت لگا رہے تھے جب وہ بمشکل اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل تھے۔ وہ نہ تو دوڑنے کی پوزیشن میں تھے اور نہ ہی گیندیں کھیلتے ہوئے اپنی ٹانگوں میں کوئی حرکت کرنے کے ہی قابل تھے۔

میکسویل نے کریز پر کھڑے کھڑے تاریخ رقم کی۔ انھوں نے ڈبل سنچری بنائی۔ جس میں انھوں نے آخری 100 رنز تقریباً بغیر دوڑے مکمل کیے کیونکہ وہ کریمپس کی وجہ سے شدید درد کا شکار تھے اور ہل بھی نہیں سکتے تھے

میچ کی روداد

افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 291 رنز بنا کر یہ یقینی بنایا تھا کہ آسٹریلیا کو اس ہدف کا تعاقب کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا

ایک وقت پر افغانستان کے 292 رنز کے جواب میں آسٹریلیا کا اسکور سات وکٹوں پر 92 رنز تھا اور افغانستان کے سامنے جیت کے واضح آثار تھے۔ پورے اسٹیڈیم میں افغانستان کی ٹیم کو بھرپور سپورٹ حاصل تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ افغان ٹیم اس ورلڈ کپ کا سب سے بڑا اپ سیٹ اپنے نام کر لے گی

آسٹریلیا کے سات کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے اور کمنٹری باکس میں موجود کیوی کمنٹیٹر ایئن اسمتھ نے اپنے ساتھ بیٹھے میتھیو ہیڈن سے کہا ”کیا آسٹریلیا یہ میچ بغیر کسی مقابلے کے افغانستان سے ہارنے والا ہے؟“

میتھیو ہیڈن نے انہیں ہنستے ہوئے جواب دیا ”آپ نے یہ کیا کہہ دیا۔۔۔ یہ بات آسٹریلیا کی تھوڑی سی آبادی کو خاصی ناگوار گزری ہوگی“

اگرچہ ایئن اسمتھ کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہے تھے۔۔ کیونکہ بظاہر آسٹریلیا کے ہاتھوں یہ میچ سرکتا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔ 292 کے ہدف کے تعاقب میں 91 پر 7 وکٹیں گنوانے کے بعد اور سوچا بھی کیا جا سکتا تھا؟ لیکن میکسویل ایسا نہیں سوچ رہے تھے

اس گراؤنڈ پر دوسری اننگز میں فاسٹ بولرز خاصے خطرناک ہو جاتے ہیں اور لائٹس میں گیند سوئنگ کرنے لگتا ہے اور گزشتہ روز بھی ایسا ہی ہوا اور نوین الحق اور عظمت اللہ نے دو دو کھلاڑیوں کو پہلے دس اوورز میں پویلین کی راہ دکھا کر آغاز میں برتری حاصل کر لی تھی

اس کے بعد ایک رن آؤٹ اور راشد خان کی عمدہ بولنگ نے آسٹریلیا کے 92 کے اسکور پر سات کھلاڑیوں کو چلتا کر دیا تھا۔۔ افغانستان کے لیے ایک تاریخی فتح صرف تین وکٹیں ہی دور تھی

میکسویل ایک انتہائی کلوز ایل بی ڈبلیو سے ڈی آر ایس کے باعث بچنے میں کامیاب ہو چکے تھے، تاہم ایسے میں انھوں نے اسی اوور میں سپنر نور احمد کے خلاف سویپ شاٹ کھیلی جو سیدھی شارٹ فائن لیگ پر کھڑے مجیب الرحمان کے ہاتھوں میں جاتی دکھائی دی

یہ انتہائی آسان کیچ تھا، لیکن مجیب نے شاید آخری لمحے میں گیند سے نظریں ہٹا لیں اور ایک انتہائی آسان کیچ گرا دیا۔۔۔ اور شاید افغانستان کی سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کی امید بھی

اس کے بعد میکسویل نے جو کیا، اسے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کی سب سے لاجواب اننگز کے طور پر یاد کیا جائے گا۔۔ اور افغانستان اسے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح یاد رکھے گا

ایک طرف میکسویل کو نہ صرف افغانستان کے بہترین اسپنرز کا سامنا کرنا تھا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا تھا کہ دوسرے اینڈ پر موجود بیٹر کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اسٹرائک لیں، کیونکہ وہ ایک بولر تھے

تاہم کچھ ہی دیر بعد میکسویل کو ایک اور مسئلے سے بھی دوچار ہونا پڑا

ایسی صورتحال میں میکسویل نے یہاں وہ انداز اپنایا، جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرنے لگے

ان کے بلے سے نکلنے والے ہر اسٹروک کے پیچھے طاقت کے ساتھ ساتھ ٹائمنگ بھی لاجواب ہوتی اور وہ اوور کے آخر میں باآسانی سنگل لینے میں بھی کامیاب ہو جاتے۔ اس سب کے درمیان دوسرے اینڈ پر موجود پیٹ کمنز اور افغان بولرز صرف خاموش تماشائی بننے پر مجبور ہو گئے۔ کمنز صرف ایک سرے پر کھڑے ہو کر دیکھتے رہے اور میکسویل نے گیم بدلنا شروع کر دیا

جیسے ہی میکسویل کی سنچری مکمل ہوئی تو ان کی ٹانگ میں واضح طور پر تکلیف کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے۔ میچ میں کئی مرتبہ فزیو کو میدان میں آ کر میکسویل کو دوا دینی پڑی لیکن وہ ریٹائرڈ ہرٹ نہیں ہوئے، میدان پر رہے اور ایک جینیئس بلے باز کی طرح صرف ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ایسی شاٹس کھیلتے رہے، جنہیں دیکھ کر سب ہی دنگ رہ گئے

ان کی بائیں ٹانگ کا مسئلہ کمر کے مسئلے میں بدل گیا اور میکسویل کو کئی بار میدان میں درد سے لوٹ پوٹ کرتے دیکھا گیا

ایک وقت ایسا بھی آیا، جب وہ نہ صرف رن لیتے ہوئے میدان میں گر پڑے بلکہ کریز پر پہنچنے کے بعد ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ شدید تکلیف کے باعث اب کھیل مزید جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ یہاں سے ان کا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا بھی مشکل تھا

ان کے بعد بیٹنگ کے لیے میدان میں آنے والے ایڈم زمپا دو بار باؤنڈری کے پاس آئے کہ کہیں انہیں بلایا نہ جائے

اکتالسویں اوور کے وقت ایسا لگ رہا تھا کہ میکسویل کو اسٹریچر پر باہر لے جانا پڑے گا، لیکن میکسویل دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے اور زمپا کو واپس پویلین میں ہی انتظار کرنا پڑا

اپنے کندھوں پر تمام ذمہ داری لیتے ہوئے میکسویل آخر تک جارحانہ انداز میں بلے بازی کرتے رہے اور اچھی گیندوں کو بھی باؤنڈری پار پہنچاتے رہے اور آخرکار اپنے آخری چھکے سے ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب ہو گئے

اس افغان بولنگ لائن اپ اور ایسی میچ صورتحال اور ذاتی صحت کو دیکھتے ہوئے میکسویل کی یہ اننگز یقیناً ون ڈے تاریخ کی بہترین اننگز میں سے ایک گردانی جائے گی

میکسویل نے آسٹریلیا کی مقابلے کے بغیر نہ ہارنے کی سپرٹ برقرار رکھی اور 10 چھکوں اور 24 چوکوں سے بنائی گئی ڈبل سنچری سے آسٹریلیا کو سیمی فائنل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے

میکسویل نے اس اننگز میں نہ صرف آسٹریلیا کو شکست سے بچایا بلکہ 128 گیندوں پر 201 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر تاریخ میں اپنا نام بھی درج کرایا۔

اس اننگز میں میکسویل نے پہلے 100 رنز میں 10 چوکے اور تین چھکے لگائے تھے۔ اس کے بعد کے 101 رنز کے لیے میکسویل نے سات چھکے اور 11 چوکے لگائے

اسی دوران انھوں نے نہ صرف فاسٹ بولرز بلکہ افغانستان کے اسپن بولرز کے دانتوں سے بھی پسینے چھڑوا دیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے درد اور تکلیف کے لمحات کو اپنے اوپر حاوی بھی نہیں ہونے دیا

انہوں نے اس قسم کی بلے بازی کا مظاہرہ کیا، جس کے لیے وہ پہلے سے ہی بہت مشہور ہیں

کرکٹ کی دنیا میں ’میڈ میکسی‘ کے نام سے مشہور گلین میکسویل نے دکھا دیا کہ وہ نہ صرف ایک جینیئس ہیں بلکہ قابل قدر مہارت بھی رکھتے ہیں

میکسویل کے کریئر پر ایک نظر

گلین میکسویل نے اگرچہ بہت کم عمر میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آسٹریلوی کرکٹ میں دھوم مچا دی تھی، لیکن وہ بین الاقوامی کرکٹ میں اس قسم کی کامیابی حاصل نہیں کر سکے، مگر وقتاً فوقتاً ان کی چنگاریاں نظر آتی رہیں جس کی وجہ سے وہ دس سال تک آسٹریلیا کی ون ڈے ٹیم میں شامل رہے

کرکٹ کے ابتدائی برسوں میں ان کی ایک ہی پہچان تھی کہ ’یہ بلے باز کسی بھی گیند پر کوئی بھی شاٹ کھیل سکتا ہے۔‘

لیکن غیر روایتی شاٹس کھیلنا ان کی سب سے بڑی خامی بن گیا اور خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ لاپرواہی سے شاٹس کھیل کر کسی بھی وقت آؤٹ ہو سکتے ہیں

کئی میچوں میں خراب شاٹس کھیلنے پر ان کا مذاق اڑایا گیا

2015 کے ورلڈ کپ کے بعد مسلسل ون ڈے میچوں میں ان کی اوسط دس سے کم رہنے کی وجہ سے انھیں ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا۔

ان کا کرکٹ کریئر ختم ہونے کے دہانے پر تھا لیکن آسٹریلوی کرکٹ اپنی صلاحیتوں کو اس طرح ضائع نہیں ہونے دیتی۔

میکسویل کو اپنے ساتھی کھلاڑیوں کا تعاون بھی ملا اور انھوں نے دماغی معالج سے سیشن بھی لیا۔ اس سب کا فائدہ ہوا اور وہ چھ ماہ بعد کرکٹ کے میدان میں واپس آئے۔

لیکن اندر اور باہر کا چکر چلتا رہا۔ اگرچہ ان کا بیٹنگ سٹرائیک ریٹ 127 سے زیادہ ہے لیکن 136 میچوں میں ان کی بیٹنگ اوسط 36 بھی نہیں ہے۔

وہ ون ڈے کرکٹ میں ابھی تک چار سنچریوں کی مدد سے چار ہزار رنز بھی مکمل نہیں کر پائے ہیں

لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیائے کرکٹ کو ان سے جس قسم کی بلے بازی کی توقع تھی، اس کا مظاہرہ انہوں نے گزشتہ روز ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں انتہائی خوبصورت انداز میں کیا اور یوں لگا کہ وہ کوئی فن پارہ تخلیق کر رہے ہیں، جس میں ہر طرح کے رنگ ہیں

دوسری جانب 201 رنز کی ناقابل شکست اننگز عالمی کرکٹ میں چھٹے نمبر یا اس سے نیچے کھیلنے آنے والے بلے باز کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اسکور ہے

گلین میکسویل ون ڈے کرکٹ کے پہلے بیٹر بھی بن گئے ہیں، جنہوں نے اوپننگ نہ کرتے ہوئے ڈبل سنچری بنائی

ون ڈے کرکٹ میں اب تک تمام ڈبل سنچریاں اوپنرز کے نام تھیں۔ یہی نہیں، یہ پہلا موقع ہے جب کسی آسٹریلوی بیٹر نے ون ڈے کرکٹ میں ڈبل سنچری اسکور کی ہے

وہ تیز ترین ڈبل سنچری کا ریکارڈ صرف دو گیندوں سے حاصل نہ کر سکے، انڈیا کے ایشان کشن نے یہ کارنامہ 126 گیندوں میں انجام دیا تھا جبکہ میکسویل نے 128 گیندوں کا سامنا کیا لیکن میکسویل کی ڈبل سنچری اس سے کہیں زیادہ ناگفتہ بہ حالات میں کھیلتے ہوئے بنائی گئی

مزید برآں ون ڈے کرکٹ میں رنز کا تعاقب کرتے ہوئے یہ پہلی ڈبل سنچری ہے

تاہم افغانستان کے خلاف میچ میں جب گلین میکسویل بیٹنگ کے لیے آئے تو عظمت اللہ نویں اوور کی پہلی دو گیندوں پر پہلے ہی دو وکٹیں لے چکے تھے اور ہیٹرک پر تھے

ایسے میں میکسویل پر ہیٹ ٹرک بچانے کا دباؤ تھا اور وہ بال بال بچے۔ گیند ان کے بلے کا بیرونی کنارہ لے کر وکٹ کے پیچھے چلی گئی لیکن کیپر کے دستانے تک نہیں پہنچی

گذشتہ رات پریزینٹیشن کے دوران مائک آرتھرٹن نے جب آسٹریلین کپتان پیٹ کمنز سے پوچھا کہ کیا میکسویل کی یہ اننگز آسٹریلیا کی لوک داستانوں میں برسوں تک سنائی جائے گی تو کمنز نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں

یہ قوتِ برداشت، ہمت، ذہانت اور صلاحیت کا ایک ایسا مجموعی مظاہرہ تھا، جو شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close