غزہ پر اسرائیلی حملوں کی المناک داستان سناتی تصویر، جس میں نظر آنے والے زیادہ تر بچے اب زندہ نہیں ہیں۔۔

ویب ڈیسک

اسرائیلی کی جانب سے غزہ پر مسلسل ظالمانہ حملوں نے سفاکی کی ایسی داستان رقم کی ہے، جس کی تاریخ میں کوئی نظیر ملنا مشکل ہے۔ غزہ کی گنجان آباد گلیوں میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے پورے پورے خاندان صفحہِ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ یہاں مشترکہ خاندانی نظام مضبوط ہونے کی وجہ سے خاندان کے افراد بڑی تعداد اکٹھے گھروں میں رہتے ہیں، جن میں وہ کئی نسلوں سے ایسے رہ رہے ہیں۔

اس وقت برطانیہ میں مقیم تین فلسطینیوں کے مطابق، ایک ہی حملے میں ان کے بیس سے زیادہ رشتہ دار شہید ہو گئے اور متعدد ابھی بھی ملبے کے تلے پھنسے ہوئے ہیں

یہ چار سال پہلے کی بات ہے، یہ ایک معمول کا جمعے کا دن تھا، جب احمد النوق نے اپنے گھر والوں کے ساتھ یہ سیلفی بنائی تھی۔۔ لیکن انھیں یہ دن یاد ہے۔ ان کے والد کے گھر کے ساتھ زیتون کے درختوں کے سائے میں ان کے بھائی، بہنیں اور ان کے بچے کھانے، کھیلنے اور گپ شپ کے لیے جمع ہوئے تھے

کھیل کود سے وقفہ لے کر جب بچے کھانا کھانے کے لیے ایک جگہ جمع ہوئے تو احمد نے ان سب کی تصویر لی۔ اب اس تصویر میں موجود بیشتر بچے اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہو چکے ہیں۔۔

اس 22 اکتوبر کو ان کے گھر اسرائیل کا ایک فضائی حملہ موت بن کر برسا، جسے کے نتیجے میں وہ سب شہید ہو گئے۔ کل ملا کر اکیس شیادتیں ہوئیں، جن میں احمد النوق کے والد سمیت تین بہنیں، دو بھائی اور خاندان کے دیگر چودہ بچے شامل ہیں

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری میں اب تک گیارہ ہزار فلسطینیوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ جس میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس نے دنیا کے حساس انسانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ جنگ نہیں بلکہ نسل کشی ہے

احمد کی اس تصویر میں موجود سات بچے اب اس دنیا میں نہیں ہیں کچھ تو اس دن وہاں موجود نہیں تھے اور کچھ تو تصویر لینے کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے

کئی فلسطینیوں کی طرح احمد کے بھائیوں نے اپنے کنبوں کے گھر اپنے والد کے گھر کے اوپر بنائے۔ یہ رواج ہے جس کی وجہ سے ایک ہی حملے میں متعدد نسلیں ماری جا رہی ہیں

احمد ایک این جی او کے ساتھ کام کرنے کے لیے لندن چلے گئے، انھوں نے آخری بار 2019 میں اپنے بھتیجے عبداللہ سمیت خاندان کے باقی افراد کو دیکھا تھا

احمد کی بہن آیا کا اپنا اپارٹمنٹ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا لہٰذا وہ اپنے بچوں سمیت اپنے والد اور بھائیوں کے گھر آ گئی تھیں۔ ان کی باقی بہنیں والیٰ اور عالیٰ بھی اپنے بچوں سمیت وہاں موجود تھیں

ان کا گھر غزہ کے مرکز میں دیر البلاح کے محلے میں تھا، اس علاقے کو پہلے کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ انہیں لگا یہ محفوظ جگہ ہے

احمد کہتے ہیں ”مجھے لگا ان کے لیے مشکل وقت ہے لیکن انھیں کچھ بھی نہیں ہوگا“

احمد چار سال پہلے ایک این جی او میں ملازمت کرنے برطانیہ آئے اور اس وقت سے وہ واپس گھر نہیں گئے۔ آخری دفعہ انہوں نے تمام بچوں کو اکٹھا ایک وڈیو کال پر دیکھا تھا۔ انہیں اس دفعہ بونس ملا تھا اور انہوں نے پہلے کی طرح اس بار بھی اپنے بھانجے، بھتیجے، بھانجیوں اور بھتیجیوں کو کھانا کھلانے کا وعدہ کیا تھا

وہ بتاتے ہیں ”ان سب نے کہا وہ گیسٹ شیلے کو رنٹ پر لے کر ساحل پر جا کر اکھٹے کھانا پینا اور موج کرنا چاہتے ہیں تو میں نے ان کے لیے بکنگ کی اور انہیں ڈنر اور سنیکس خرید کر دیے۔۔“

بچوں نے انہیں اس دن ساحل سے فون کیا اور وہ ان سے فون پر بات کرنے کے لیے ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے

ان میں سے اتنے اب اس دنیا میں نہیں رہے کہ احمد ان کے نام اور عمریں یاد کرتے ہوئے لڑکھڑاتے ہیں۔ اسلم تیرہ سال کا تھا اور احمد کا سب سے بڑا بھانجا تھا اور وہ اسے سب سے زیادہ جانتے تھے۔ اسلم جب پیدا ہوئے تھے تو احمد اس وقت ایک عنفوان شباب میں تھے۔ ان کی والدہ چھوٹے اسلم کا خیال رکھتی تھیں، جب ان کی بہن کام پر گئی ہوتی تھیں۔ لہٰذا احمد بھی اس کو کھلاتے اور اس کے کپڑے تبدیل کرتے تھے

جیسے جیسے اسلم بڑا ہوتا گیا وہ کہتا تھا کہ وہ اپنے ماموں جیسا بننا چاہتا تھا۔ احمد کہتے ہیں ”وہ اپنی کلاس میں اوّل آتا تھا اور وہ اپنی انگریزی پر بہت محنت کر رہا تھا تاکہ وہ بھی برطانیہ میں آ سکے“

اسلم اپنی بہنوں کے ساتھ مارا گیا تھا۔ دیما دس سال کی تھی، تعالیٰ نو سال کی، نور پانچ اور ناسمہ دو سال کی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں اسلم کے کزنز بھی شامل تھے، جن میں رغاد تیرہ اور بکر گیارہ سال کے تھے جبکہ لڑکیوں میں اسلمہ، سارہ دونوں نو سال کی تھیں، میمد اور باسیمہ آٹھ سال، عبدللہ اور تمیم چھ سال کے تھے

حملے کے بعد احمد نے ہر بچے کی تصویر آن لائن لگائی تاکہ پوری دنیا کو یہ دکھائیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ ان میں تین سال کا عمر بھی تھا۔ وہ احمد کے بھائی محمد اور اپنی ماہ شیما کے ساتھ ان کے بستر میں تھا جب ان پر بم گرا

احمد کو ان کی بچ جانے والی بہن کا فون آیا جس نے انہیں بتایا کہ محمد شہید ہو گیا ہے لیکن معجزاتی طور پر شیما اور اس کا بچہ بچ گئے ہیں

شہادتوں کا دکھ اپنی جگہ۔۔ لیکن ایسے میں کسی کا بچ جانا کتنا بڑا معجزہ ہے، اس کا اندازہ احمد کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں ”وہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ تھا۔۔“

اس کے علاوہ ملبے سے صرف گیارہ سال کی ملک ہی زندہ ملیں۔ وہ بہت بری طرح زخمی ہو چکی تھیں اور ان کے آدھے جسم پر جلنے کے نشان تھے

گیارہ سال کی ملاک کو ملبے سے زندہ نکالا گیا لیکن وہ بری طرح سے زخمی تھیں جبکہ ان کے بھائی نو سالہ محمد اور چھ سالہ تمیم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے

جب حملہ ہوا تھا تو ملک کے والد گھر پر نہیں تھے، لہٰذا وہ زندہ ہیں لیکن ان کی بیوی اور دو بچے شہید ہو چکے ہیں۔ جب احمد نے میسج کر کے پوچھا کہ وہ کیسے ہیں تو انہوں نے جواب دیا ’زندہ لاش۔۔۔‘

بم حملے کے ایک ہفتے بعد جب اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی اپنی ظالمانہ کارروائی میں تیزی لائی تو غزہ میں رابطے کے تمام ذرائع تقریباً مکمل بند ہو گئے تھے اور احمد کسی سے رابطہ نہیں کر پا رہے تھے۔ دو دن بعد جب رابطے بحال ہوئے تو انہیں پتا چلا کہ ملک اس دنیا میں نہیں رہی

جب طبی سہولیات اور ادویات ختم ہو رہی تھیں اور ملک کو انتہائی نگہداشت کیس کی وجہ سے آئی سی یو یونٹ سے ہٹایا جانا پڑا۔ وہ بہت تکلیف میں تھی

ملک کے والد نے احمد کو بتایا ”اپنی سب سے بڑی بچی اور تین میں سے واحد بچ جانے والی اولاد کو آہستہ سے مرتے دیکھتے ہوئے میں ہر روز سو دفعہ مرتا تھا۔۔“

یوسف ایک ہی خاندان کے 20 افراد میں شامل تھا جو ایک ہی حملے میں مارے گئے۔ اس کی عمر چار سال تھی۔۔

رابطے منقطع ہونے سے پہلے احمد کو پتا چلا کے ان کے چچا کے گھر پر بھی بمباری ہوئی ہے لیکن انہیں ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس واقعے میں کون شہید ہوا ہے۔ منگل کو انہیں پتا چلا کہ ان کی دو قریبی دوست مائسارا اور لاؤرا کے گھر پر حملے ہوئے ہیں۔ اس میں بھی متعدد نسلیں ہلاک ہوئیں۔ لاؤرا تو بچ گئیں، لیکن مائسارا ابھی بھی ملبے کے تلے گمشدہ ہیں

برطانیہ میں مقیم تین فلسطینیوں نے بتایا کہ ان میں سے ہر کسی کے بیس سے زیادہ رشتہ دار شہید ہوئے ہیں

درویش المناما نے کو بتایا کہ ان کے خاندان کے چوالیس افراد شہید ہو گئے ہیں۔ ان میں ان کی بھتیجی سلمیٰ اور ان کے خاوند، ان کے چار بڑی عمر کے بچے اور ان میں سے ایک کا بچہ جو ایک سال کا بھی نہیں تھا شامل ہیں

وٹس ایپ پر ملنے والی ایک لسٹ سے درویش کو اپنے خاندان کی موت کے بارے میں معلوم ہوا۔ کچھ تفصیلات بتانے کے بعد وہ مزید بات نہیں کر سکے

یارا شریف لندن میں ایک آرکیٹیکٹ ہیں۔ انھوں نے اپنی پھپو کے گھر کی تصویریں دکھائیں، جو ایک ہفتہ قبل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہو گیا تھا

یارا کہتی ہیں ”وہ بہت خوبصورت گھر تھا، خوبصورت بنگلہ جس کے درمیان میں ایک بڑا صحن تھا“

احمد کے خاندان کی طرح بیٹوں نے اپنے کنبے کے لیے اس گھر کے اوپر اپارٹمنٹس تعمیر کیے

یارا کو پتا چلا کے ان کے بیس رشتہ دار شہید ہوئے ہیں۔ کچھ کے جسم ملبے سے نکلے اور وزارت صحت کی فہرست میں ان کے نام آئے

یارا نے ایک فہرست دکھائی، جس میں ہر نام پر لال نشان تھا اور اس کے ساتھ عمر لکھی ہوئی تھی۔ سما سولہ سال، چودہ سال کے جڑواں عمر اور فہمی، تیرہ سال کا عبدالرحمٰن، دس سال کی فاطمہ اور سات سال کا عبیدہ، کزنز علیمن اور فاطیمہ دونوں کی عمر پانچ سال، یوسف چار اور سارہ اور انس تین سال کے تھے۔۔

یارا کی دو کزنز زندہ رہ گئی ہیں۔۔ دونوں بہنیں غزہ کے مختلف حصوں میں ہیں اور وہ ایک دوسرے کے پاس جنازے یا سوگ کے لیے نہیں پہنچ سکتیں۔ ایک کزن نے یارا کو میسج کیا کہ ’محمد، ماما اور دو بچوں کی لاشیں ابھی بھی ملبے میں ہیں۔‘

غزہ میں کرین کو چلانے کے لیے فیول نہیں ہے اور جو کام کر بھی رہی ہیں انہیں زندہ افراد کو نکالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

ایک تازہ بمباری کے وقت احمد النوق کی سب سے بڑی بہن اپنے خود کے گھر میں تھیں، بعد میں انکوں نے تباہ ہوئے گھر کا دورہ کیا۔ انھوں نے احمد کو بتایا وہ زیادہ دیر تک وہاں ٹہر نہیں سکیں کیوں کہ ان سے گلتے ہوئے ماس کی بو برداشت نہیں ہو رہی تھی

احمد مشکل سے زندہ رہ جانے والی بہنوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ اکثر فون کام نہیں کر رہے ہوتے اور وہ ان سے بات نہیں کر پاتے

وہ انگریزی میں اپنے جذبات سمجھانے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے سینے میں دل نہیں رہا۔۔۔ رونا بے مقصد بن چکا ہے کیونکہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔۔“

احمد کہتے ہیں ”مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا، آرام سے بیٹھ نہیں سکتا۔ میں رات کو سو نہیں سکتا۔ اس احساس کو روکنے کے لیے آپ کچھ نہیں کر سکتے“

احمد کہتے ہیں ان کے والد ایک رحم دل انسان تھے۔ انھوں نے ٹیکسی چلا کر بہت محنت کی اور اپنی بچوں کو اچھی تعلیم اور ان کے لیے گھر بنایا۔ وہ دیوانوں کی طرح خبریں سنتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ ایک ریاستی حل ہی اس تنازعے کا حل ہیں جہاں یہودی اور فلسطینی ایک دوسرے کے ساتھ امن میں رہیں گے

لیکن بچ جانے والے اپنے واحد بھتیجے کو یاد کرتے ہوئے احمد سوچتے ہیں، اس جنگ نے بہت سارے لوگوں کو لے لیا جو اس سے پیار کرتے تھے۔۔ وہ اس کے بعد عمر کس چیز پر یقین رکھے گا؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close