جرمن شہری کی کہانی، جس نے اپنی کالاشی بیوی کے لیے ’کالاشہ زبان‘ میں گانا لکھ دیا

ویب ڈیسک

الیگزینڈر ایک جرمن شہری ہیں، لیکن وادیِ کالاش سے محبت ان کے جسم و جاں میں دوڑ رہی ہے کیوں کہ ان کی اہلیہ کا تعلق بھی اسی خوبصورت اور تاریخی وادی سے ہے، جس میں ہزاروں سال سے کالاش قبیلہ آباد ہے، جو اپنی منفرد تاریخی پسِ منظر اور رسومات کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہے

الیگزینڈر نے اس محبت کا اظہار کالاشی زبان یعنی کالاشہ میں شاعری کرکے کیا تو ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور ایک مقامی بینڈ نے ان کے لکھے گیت کو جب موسیقی کے سروں میں ڈھالا تو اس کی گونج وادی کے بلند و بالا پہاڑوں کے پار بھی سنی گئی

اس گیت کو صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے معروف کالاش بینڈ کے دو مقامی گلوکاروں حسن شاہ اور زرمینہ کالاش نے گایا ہے

بینڈ کے گلوکار حسن شاہ کے مطابق الیگزینڈر کی خواہش تھی کہ ان کے تخیلات کالاشہ زبان میں بیان کیے جائیں، اسی لیے ہمارے بینڈ نے ان کے اس گیت کو انہیں ٹریبیوٹ پیش کرنے کے لیے گایا ہے

حسن کہتے ہیں ”اس شاعری میں محبوب سے ملاقات اور ہجر کے لمحات کا ذکر کیا گیا ہے۔ گیت میں مقامی موسیقی کے آلات جیسے چترالی ستار، پیانو اور ڈھول کا ساز بھی استعمال کیا گیا ہے“

ان کے مطابق ”یہ گیت الیگزینڈر کو بہت پسند آیا ہے اور انہوں نے ہمارے بینڈ کے لیے تعریفی پیغام بھی ارسال کیا ہے“

گلوکار حسن کے مطابق کالاش بینڈ ایک سال قبل بنایا گیا تھا، جس میں دو خواتین اور پانچ میل سنگر موجود ہیں

جرمنی شہری، جنہوں نے یہ گیت لکھا ہے، کے بارے میں کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے محکمۂ آثار قدیمہ کے افسر سید گل کالاش کے مطابق، الیگزینڈر کا تعلق اگرچہ بلغاریہ سے ہے مگر وہ پچھلے کئی برسوں سے خاندان سمیت جرمنی میں مقیم ہیں

سید گل نے بتایا ”الیگزینڈر نے سنہ 2014 میں کراکھال گاؤں میں کالاشی خاتون شمیم بی بی سے شادی کی۔ الیگزینڈر کو وادی کیلاش کے لوگوں سے دلی لگاؤ ہے۔ وہ شادی کے بعد وقتاً فوقتاً اپنے سسرال یعنی کالاش آتے رہتے ہیں اور اکثر اوقات ہماری مذہبی رسومات میں بھی شرکت کرتے ہیں“

وادیِ کالاش کے سماجی ورکر عجب کالاش کا کہنا ہے ”الیگزینڈر نے کالاشی تہذیب اور رسم و رواج پر کافی تحقیق کی ہے۔ انہوں نے کالاشی زبان کی متعدد کتابیں پڑھی ہیں، تاہم ان کی اہلیہ شمیم کالاش بھی اپنے شوہر کو کالاشہ زبان سیکھنے میں مدد کرتی رہتی ہیں“

انہوں نے جرمن شہری الیگزینڈر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری زبان کو فروغ دینے کے لیے ایسی مزید شاعری کی جانی چاہیے“

عجب کا کہنا ہے ”نئے گانے کو کالاش قبیلے کے تمام ارکان نے بہت سراہا ہے اور آج کل اس کے بول ہر کسی کی زبان پر ہیں“

سید گل کو بھی یہ گانا سن کر اچھا لگا ”کیونکہ پہلی بار کسی غیر ملکی نے کالاشہ زبان میں گیت لکھا ہے“

واضح رہے کہ کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو گلوکارائیں اریانا اور امرینہ سال 2018 میں کوک اسٹوڈیو کے لیے مشہور گانا ’پاریک‘ گا چکی ہیں

ضلع چترال کی وادیِ کالاش میں ہزاروں سال سے کالاش قوم بستی ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سکندر اعظم (الیگزینڈر دی گریٹ) کی نسل سے ہے۔ کالاش قبیلہ اپنے منفرد رسم و رواج کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close