کیا امریکہ میں سکھ رہنما کے قتل کی ناکام سازش کا معاملہ انڈیا امریکہ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟

ویب ڈیسک

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایک امریکی انڈین سکھ لیڈر کو قتل کرنے کی ناکام بنائی گئی سازش کو ’انتہائی سنجیدگی‘ سے لے رہا ہے۔ اس سلسلے میں انڈیا کو اس میں ملوث ہونے کے معاملے پر انتباہ بھی کیا گیا ہے

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے گزشتہ روز کہا کہ امریکہ نے اس مسئلے کو بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطح پر اٹھایا ہے

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں، جو امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھتے ہیں، قتل کی اس ناکام سازش کا نشانہ تھے

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایڈریان واٹسن نے سکھ رہنما کو قتل کرنے کے پلاٹ کے حوالے سے کہا کہ جب انڈین حکام کو اس بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس پر حیرانی اور تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان کے مطابق انڈین حکام نے کہا کہ اس قسم کی کارروائی ان کی پالیسی نہیں ہے

ترجمان کے مطابق بھارتی حکومت اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں وہ اس پر مزید بات کرے گی ”ہم نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس کا جو بھی کوئی ذمہ دار ہو، اسے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے“

یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب کینیڈین ایجنسیاں ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہیں، جن میں بھارتی حکومت کے ایجنٹوں کو ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل سے منسلک کیا گیا تھا اور جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے تھے۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ستمبر میں ہردیپ سنگھ کے قتل کا الزام بھارت پر لگایا تھا۔ بھارت نے کینیڈا کے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا

اب امریکہ میں سکھ رہنما کے قتل کی ناکام سازش کی خبر اخبار ’دی فائنانشل ٹائمز‘ نے ذرائع کے حوالے سے دی تھی

خبر کے مطابق ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا بھارت سے امریکی احتجاج کے نتیجے میں یہ سازش ترک ہو گئی یا امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اسے ناکام بنایا

خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر امریکی احتجاج اس وقت کیا گیا، جب جون میں صدر جو بائیڈن نے سرکاری دورے پر مدعو کیے گئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا استقبال کیا تھا

خبر کے مطابق بھارت کو سفارتی انتباہ کے علاوہ امریکی وفاقی استغاثہ نے نیویارک کی ضلعی عدالت میں کم از کم ایک مشتبہ شخص کے خلاف مہر بند فردِ جرم بھی دائر کی ہے

امریکی محکمہ انصاف غور کر رہا ہے کہ فرد جرم ختم کی جائے یا الزام عام کیا جائے یا کینیڈا کی تحقیقات کا انتظار کیا جائے۔

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کیس سے آگاہ افراد کا کہنا ہے کہ جس شخص پر فرد جرم عائد کی گئی، وہ امریکا چھوڑ چکا ہے

دوسری جانب امریکی حکومت اور ایف بی آئی نے کیس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی امریکی حکام کی طرف سے سازش سے متعلق انتباہ کی تفصیل بتانے سے گریز کیا

کینیڈا میں قتل ہونے والے سکھ رہنما نجر کی طرح امریکہ میں پنوں بھی خالصتان کے نام سے ایک آزاد سکھ ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں

امرتسر میں پیدا ہونے والے گرپتونت سنگھ پنوں کا خاندان 1947 میں تقسیم کے دوران پاکستان سے امرتسر کے خان کوٹ گاؤں میں ہجرت کر گیا تھا

پنون اس وقت امریکہ میں اٹارنی ایٹ لاء ہیں اور ان کا تعلق ”سکھس فار جسٹس“ (SFJ) سے ہے، جو امریکہ میں قائم علیحدگی پسند گروپ ہے اور خالصتان کی حمایت کرتا ہے۔ پنوں سکھس فار جسٹس (ایس ایف جے) کے جنرل کونسلر کے طور پر کام کرتے ہیں

گرپتونت سنگھ پنوں خالصتان ریفرنڈم کے لیے عالمی سطح پر مہم چلا رہے ہیں، خالصتان ریفرنڈم کےلیے ریفرنڈم میں تیرہ لاکھ سکھ حصہ لے چکے ہیں

بھارت نے 2019 میں ایس ایف جے کو ایک ’غیر قانونی تنطیم قرار دیتے ہوئے‘ اس پر پابندی لگا دی تھی اور 2020 میں پنوں کو ’انفرادی سطح پر دہشت گرد‘ نامزد کر دیا تھا۔ میڈیا کے مطابق پنوں کے پاس امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت ہے۔ ایس ایف جے کے برطانیہ ، کینیڈا اور امریکہ میں دفاتر موجود ہیں

خالصتان کا مطالبہ کئی بار سامنےآتا رہا ہے تاہم بھارت میں اسے بہت کم حمایت حاصل ہے۔ بھارت اس تحریک کو سیکورٹی کے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

1970 اور 1980 کی دہائیوں میں سکھ عسکریت پسندوں کی ایک پرتشدد شورش نے شمالی ریاست پنجاب کو ایک دہائی سے زائد عرصے تک مفلوج کیے رکھا تھا، جہاں سکھوں کی اکثریت ہے

ادھر انڈیا کے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نے پیر کو سکھ رہنما پنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے

ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے بھارت کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کے مسافروں کو رواں ماہ سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے وڈیو پیغامات میں خبردار کیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے

پنوں نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ انہوں نے ایئر لائن کے خلاف تشدد آمیز دھمکی دی تھی

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی سے جب فائنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے کچھ معلومات کا تبادلہ کیا ہے، جن کی متعلقہ محکموں کی طرف سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے

سکھ رہنما پنوں نے کہا ہے کہ امریکی سرزمین پر کسی امریکی شہری کے خلاف خطرہ امریکی خود مختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ایسے چیلنج سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے

ماضی میں انڈیا کے خلاف ایسے الزامات پاکستان کی طرف سے لگائے جاتے رہے ہیں۔ ’دی انٹر سیپٹ‘ ویب سائٹ نے پاکستان کے خفیہ انٹیلیجنس تجزیات کے حوالے سے کہا ہے کہ انڈیا کی انٹیلیجنس ایجنسی ’ری سرچ اینڈ انیلیسز ونگ‘ نے بیرون ممالک کشمیری اور سکھ رہنماوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے

اس سے قبل پاکستان نے کھلے عام انڈیا پر ملک میں کام کرنے والے چینی کارکنوں سمیت ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے

دوسری طرف انڈیا باقائدگی سے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں مسلح حملوں کی پشت پناہی کا الزام لگاتا ہے۔ کشمیر 1947 کی تقسیم ہند سے ایٹمی اسلحے سے لیس دونوں جنوبی ایشیائی ہمسایہ ملکوں کے درمیان تنازع بنا ہوا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close