امریکہ میں غلامی بطور ادارہ کیسے قائم ہوئی؟

ڈاکٹر مبارک علی

امریکی مورخوں نے جنوبی ریاستوں میں غلامی کے ادارے کے بارے میں نئی تشریحات کی ہیں اور سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ امریکی جمہوریت سے متضاد تھیں یا نہیں۔

امریکہ کی دریافت کے بعد یہاں 13 برطانوی کالونیاں قائم ہوئیں۔ زمین بہت تھی، مگر اس پر کام کرنے کے لیے کارکن نہیں تھے۔ مقامی انڈین باشندے اور نو آبادکار لوگوں میں تصادم تھا، اس لیے ابتدائی دور میں مزدوروں کو انگلستان سے جہازوں میں بھر کر لایا گیا۔

ان کے بارے میں نینسی آئزن برگ نے اپنی کتاب White Trash میں لکھا ہے کہ بےروزگار اور غریب مزدوروں کو امریکہ میں لایا گیا اور ان سے چار یا پانچ سال کا معاہدہ کیا گیا کہ وہ بغیر معاوضے کے کام کریں گے۔ اس کے بعد انہیں دوردراز کے علاقوں میں زمین کا ایک ٹکڑا دیا جاتا تھا کہ وہ اس پر کاشت کریں، لیکن مزدوروں کی کمی کی وجہ سے زمینوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔

جب دوسری یورپی قوموں نے افریقہ سے غلاموں کی تجارت شروع کی تو امریکہ میں بھی افریقی غلاموں کو لایا گیا۔ ابتدا میں ان کی تعداد کم تھی، اس لیے ان کے خلاف نسلی نعصب نہیں تھا۔

لیکن جب زمین کے مالکوں کو اندازہ ہوا کہ افریقی غلاموں سے کام کروانے میں زیادہ فائدہ ہے، کیونکہ یہ آخری عمر تک ان کے ماتحت رہیں گے اور ان کو کوئی معاوضہ بھی نہیں دینا پڑے گا، اس لیے بڑی تعداد میں غلاموں کو لایا گیا۔

یہ بڑے بڑے کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ ان غلاموں کو مالکوں کی جائیداد قرار دیا گیا، جن پر ان کا حق تھا کہ وہ ان کےساتھ جو چاہیں سلوک کریں۔

مورخوں نے نشاندہی کی ہے کہ مالک اور غلام کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا تھی۔ اگرچہ مالک کو اختیار تھا کہ وہ سختی اور سزاؤں کے ذریعے غلاموں کو کنٹرول کرے، مگر اسے یہ بھی احساس تھا کہ زیادہ سختی غلاموں میں اشتعال کو پیدا کرے گی، اس لیے ان کے ساتھ نرمی کا سلوک بھی کرتا تھا۔

دوسری جانب غلاموں کو یہ احساس تھا کہ وہ بےبس ہیں، اس لیے ان کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ مالک کے وفادار رہیں اور کھیتوں میں محنت مشقت کر کے اپنی زندگی گزاریں۔

غلامی کو قائم رکھنے کے لیے اس کی بطور ادارہ تشکیل کی گئی۔ ایسے قوانین بنائے گئے جس میں مالکوں کو غلاموں پر پورا اختیار تھا۔ سفید فام اور افریقیوں کے درمیان نسلی تعصب کو پیدا کیا گیا۔ سفید فاموں میں یہ تاثر آیا کہ وہ افریقیوں سے برتر ہیں اور کم تر ہونے کی وجہ سے افریقیوں پر یہ لازم ہے کہ ان کی اطاعت کریں۔

امریکہ کی شمالی ریاستوں میں کم غلام تھے لیکن جنوب کی ریاستوں میں ان کی تعداد برابر بڑھتی رہی۔ بڑے کھیتوں کے مالکوں کو اس وقت بڑا منافع ہوا جبکہ تمباکو کی کاشت کے ذریعے یورپ میں اس کی مانگ نے انہیں مالدار بنا دیا۔

دوسری فصل، جس نے کھیت کے مالکوں کو مزید منافع دیا، وہ کپاس کی فصل تھی، جس کی مانگ برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں میں بڑھ گئی تھی جس کی وجہ سے صنعتی انقلاب آیا۔ کپاس کی فصل تیار کرنے میں غلاموں کی محنت و مشقت شامل تھی، لیکن اس محنت کا انہیں کوئی معاوضہ نہیں مِلتا تھا۔

مورخوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ بڑے کھیتوں یا پلانٹیشنز میں غلاموں کی روزمرہ کی زندگی کیا تھی۔ انہیں صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرنا ہوتا تھا۔ ایک اوورسیئر ان کے کام کی نگرانی کرتا تھا۔ اگر کوئی کام میں سستی کرتا تھا تو یہ اسے کوڑے مارتا تھا۔

غلاموں کے رہنے کے لیے کھیتوں کے قریب لکڑی کے بنے ہوئے کیبن ہوتے تھے، جن میں نہ کوئی روشن دان ہوا کرتا تھا نہ کھڑکی۔ جسمانی محنت اور ناقص غذا کی وجہ سے غلاموں میں بیماریاں پھیل جاتی تھیں۔ وبا کی صورت میں کافی اموات ہوتی تھی اور مرنے والے غلاموں کی جگہ نئے غلام آ جاتے تھے۔

ایک مورخ نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ نازی کیمپ کی طرح تھے، جس طرح نازی کیمپ میں لوگوں کو مرنے کے لیے لایا جاتا تھا۔ بڑے کھیتوں میں کام کرنے والے غلاموں کی نجات بھی مرنے کے بعد ہی ہوتی تھی۔

جنوب کی ریاستوں میں غلاموں کی وجہ سے سفید فام لوگوں پر ذہنی اور سماجی اثرات مرتب ہوئے۔ نسلی تعصب کی وجہ سے ان میں رعونت آئی۔ افریقیوں کو کم تر سمجھ کر اور ان پر ظلم کرکے ان کے بنیادی انسانی جذبات کو ختم کیا گیا اور ان کی اخلاقی قدریں بھی باقی نہ رہیں۔

غلامی کا یہ ادارہ سیاسی اتار چڑھاؤ سے بھی گزرا۔ امریکہ کی 13 کالونیز نے برطانیہ کے خلاف جنگ آزادی لڑی تو غلام دو جماعتوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک جماعت وہ تھی جس نے برطانیہ کا ساتھ دیا۔ دوسری وہ تھی جو جنگِ آزادی میں شریک تھی۔

برطانیہ کا ساتھ دینے والی جماعت کا خیال تھا کہ فتح کی صورت میں انہیں آزادی مل جائے گی، مگر جب برطانیہ کو شکست ہوئی تو اس نے 50 ہزار افریقی غلاموں کو کینیڈا پہنچایا۔ ان میں سے کچھ کینیڈا میں آباد ہو گئے اور کچھ واپس بھی آئے۔

آزادی کے بعد جب نیا دستور بنا تو اس میں غلاموں کے بارے کوئی ذکر نہیں تھا۔ جارج واشنگٹن، جیفرسن اور دوسرے رہنما غلام رکھتے تھے،اس لیے امریکہ کے دستور اور اس کی جمہوریت میں غلاموں کا غیر مساوی درجہ اور انہیں ووٹ کے حق سے محروم کرنا ایک بڑا تضاد تھا۔ خاص طور سے جنوب کی ریاستوں میں نسلی تعصب نے افریقی غلاموں کا درجہ کم تر کر دیا تھا۔

وہ نہ تو سفید فاموں کے تعلیمی اداروں میں پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی ان کے ہوٹلوں اور کلبوں میں داخل ہو سکتے تھے۔ ان کے رہاشی علاقے بھی علیحدہ تھے۔ اس ریاستی استحصال کے باوجود افریقی غلاموں نے برداشت کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ کچھ بغاوتیں بھی ہوئیں مگر وہ ناکام رہیں۔

1861 میں جب فیڈریشن اور جنوب کی ریاستوں کی درمیان خانہ جنگی ہوئی تو اس میں فیڈریشن کی جانب سے غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا، کیونکہ اس کے ختم ہونے کی صورت میں جنوب کی ریاستوں کی طاقت کمزور ہو جاتی تھی۔ شکست کی صورت میں جنوب کی ریاستوں کا سیاسی، سماجی اور معاشی نظام ٹوٹ گیا۔

جب غلامی کا خاتمہ ہوا تو افریقیوں کو آزادی ملی اور نسلی تعصبات کا اس وقت خاتمہ ہوا جب 1960 کی دہائی میں افریقیوں کو بنیادی حقوق دیے گئے۔ ان نشیب و فراز کے نتیجے میں غلامی ختم ہوئی اور افریقیوں کو آزادی ملی مگر نسلی تعصبات آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اُردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close