گودھرا سے ممبئی اور پلوامہ تک… (حصہ اول)

منیر احمد بلوچ

اجمیر شریف، مالیگائوں، مکہ مسجد اور سمجھوتا ایکسپریس دہشت گردی کی جڑوں کو گہرائیوں سے نکال کر دنیا کے سامنے لانے کا اعزاز ممبئی پولیس بالخصوص اس کے انسپکٹر جنرل ہیمنت کرکرے کو حاصل ہوا تھا۔ اب پلوامہ خودکش حملے، جس میں بھارت کی سکیورٹی فورسز کے چالیس جوان ہلاک ہوئے تھے، کے پیچھے چھپی راشٹریہ دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کا اعزاز بھی ممبئی پولیس کے حصے میں ہی آیا ہے اور اس نے مودی ہائوس کے ”ترجمان‘‘ اینکر ارنب گوسوامی اور بھارتی ریٹنگ ایجنسی براڈ کاسٹ آڈینس ریسرچ کونسل کے چیف ایگزیکٹو داس گپتا کی وٹس ایپ پر کی جانے والی بات چیت کا ایک ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ سامنے لا کر بھارت کی چالیس مائوں، چالیس بیوائوں کو دربدر کرنے اور سو سے زائد بچوں کو عمر بھر کے لئے یتیمی کا گہرا داغ لگانے والے مودی کی شکل میں چھپے خطرناک عفریت کا سراغ لگا لیا ہے۔

پلوامہ کا ڈرامہ اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا۔ اس سے پہلے ای یو ڈس انفو لیب نے ”سری واستو گروپ‘‘ کی کھال کھینچ کر اس کے اندر چھپی بھارت کی شیطنیت بیچ چوراہے رکھ دی تھی۔ قدرت نے تو اپنا کام کر دکھایا، اس نے تو بھارت کی شکل میں چھپے عالمی دہشت گرد کے جمہوری لباس کو تار تار کرکے بتا دیا کہ ”باطل مٹ گیا اور حق آ گیا‘‘۔ اب یہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ اطلاعات کا کام ہے کہ دہشت گردی کے اس عفریت کی تصویر دنیا کے ہر گھر تک پہنچائے اور عالمی ضمیر، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کو جھنجھوڑنے کے لئے ہر وہ فورم استعمال کرے جہاں انسانی حقوق اور قانون کی آواز اٹھائی جاتی ہے۔ اس خونخوار بھیڑیے کی مکروہ شکل دنیا بھر کے سامنے لائی جائے جو اپنے ہی بچوں کو کھا گیا۔ بھارتی فوج، اس کے سکیورٹی اداروں کے ہر جوان اور افسر سمیت ان کے خاندانوں کے افراد تک یہ تمام مناظر اور حقائق پہنچائے جائیں کہ تمہارے گھروں میں لائے جانے والے تابوتوں سے بہنے والا خون کشمیریوں کی وجہ سے نہیں بہا، نہ ہی اس کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تھا بلکہ یہ نریندر مودی، امیت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ کی شکلوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سیوک سویم سنگھ کے خون آشام بھیڑیوں کی وجہ سے بہایا گیا اور مسلسل بہہ رہا ہے۔

اب ثابت ہو چکا کہ پلوامہ حملے کی نئی دہلی سمیت بھارت کی تمام خفیہ ایجنسیوں کو پہلے سے خبر تھی۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل دل باغ سنگھ نے وزیراعظم کے مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کو بھی اس حملے کی باقاعدہ اطلاع کر رکھی تھی۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتا دیا تھا کہ اگر سٹیٹ انٹیلی جنس کی معلومات کا تبادلہ نیو دہلی سے کیا جاتا تو یہ حملہ نہ ہوتا، اس سے نجانے کیوں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ جس ہائی وے پر سینٹرل ریزرو فورس کی گاڑی پر حملہ ہوا، وہ حملے سے قبل گزشتہ سات روز سے شدید برف باری کی وجہ سے بند تھی۔ (یعنی بند کی گئی ہائی وے سے فوجی کانوائے گزرنے والا ہے، اس کی اطلاع حملہ آوروں کو کیسے پہنچی؟)

ایک جانب جہاں ارنب گوسوامی جیسے کئی درجن بھارتی اینکرز کی تیر کمانوں نے پلوامہ حملے کے بعد پاکستان پر چڑھائی کر دی تو بدقسمتی سے وہیں پاکستان کے اندر سے بعض نام نہاد لبرلز اور این جی اوز کی فوج نے یک زبان ہو کر اپنے ہی سکیورٹی اداروں اور نان سٹیٹ ایکٹرز کی دہائیاں دینا شروع کر دیں۔ دشمن کم اور یہ طبقہ زیادہ، یہ ثابت کرنے لگ گیا کہ اس کے پیچھے ہمارے ملک کی بعض تنظیموں کا ہاتھ ہے اور یہ کہ ریاست کو اب ایسی تنظیموں کی پرورش بند کرنا ہو گی، بلکہ ہمارے ایک سابق وزیراعظم اور ایک صدر بھی ان لوگوں کے ہمنوا بن گئے اور ان کے ساتھ مل کر خود پر ہی بم گرانا شروع کر دیے کہ یہ دہشت گردی ہماری پالیسیوں کا ہی شاخسانہ ہے۔ سرل المیڈا کو دیا جانے والا وہ انٹرویو کیسے بھلایا جا سکتا ہے جب کلبھوشن یادیو کے مقدمے کی عالمی عدالت میں سماعت سے چند روز پہلے ریاست پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے کہا گیا ”ممبئی حملوں کے لئے دہشت گرد پاکستان سے بھیجے گئے تھے.‘‘ کیا یہ کسی ملک کے خیر خواہ کی زبان ہو سکتی ہے؟ کیا یہ تین بار ملک کے وزیراعظم رہنے والے شخص کا بیانیہ کہا جا سکتا ہے؟ کیا یہ سرکاری مناصب کے لیے اٹھائے گئے حلف کی سنگین خلاف ورزی نہیں؟

اب پلوامہ حملے کی حقیقت سامنے آنے کے بعد امریکا، برطانیہ سمیت عالمی اداروں، اقوام متحدہ، یورپی یونین، ایف اے ٹی ایف اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سمیت افریقی ممالک کی کونسل پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ نریندر مودی سے پلوامہ میں پلانٹڈ خودکش بمبار کے ذریعے انڈین سکیورٹی فورسز کے چالیس جوانوں کی ہلاکت اور چالیس سے زیادہ افراد کے زخمی اور اپاہج کئے جانے کا جواب طلب کریں۔ بھارتی سپریم کورٹ میں تو اب راشٹریہ اور جنتا پارٹی کے کارکنوں کا قبضہ ہے اور جس طرح گزشتہ کچھ عرصے سے سپریم کورٹ سے بابری مسجد سمیت بعض مقدمات میں بی جے پی کو کمک فراہم کی گئی، اس کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی طرح بھارتی عدالتیں بھی مودی کی لونڈی بن چکی ہیں۔ اب عالمی میڈیا اور اقوام متحدہ کو ہی نریندر مودی اور امیت شاہ سے یہ سوال پوچھنا ہو گا کہ پلوامہ کا خودکش بمبار کس نے تیار کیا؟ اس دہشت گردی کے لئے اسے کس نے تربیت دی؟ پلوامہ حملے کے بعد انڈین آرمی چیف جنرل ڈی ایس ہوڈا نے تسلیم کیا تھا کہ پلوامہ خود کش حملے کے لئے جموں شاہراہ کو وسیع کرنے کے لئے استعمال کیا جانے والا بارود استعمال ہوا ہے، جس کے کچھ حصے کی چوری کی رپورٹ پولیس کے پاس درج تھی۔ اس رپورٹ کا کیا بنا؟ اس بارود کے ذخیرے کے پاس کن افراد کی ڈیوٹی تھی؟ اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی گئی؟ کیا اب بھی کرنل پروہت جیسے عناصر بھارتی فوج میں ایکٹو ہیں؟ کیا بھارتی فوج کا اسلحہ اور گولا بارود انتہا پسند تنظیموں کو فراہم کیا جا رہا ہے؟ ارنب گوسوامی نے بالاکوٹ حملے سے پہلے کیسے بتا دیا تھا کہ پاکستان کے اندر ایک بڑی کارروائی ہونے جا رہی ہے؟ کیا گو سوامی کا تعلق نریندر مودی کے مشیر اجیت دوول کے دفتر سے ہے؟ کیا مودی کی جانب سے بھارتی میڈیا کے مخصوص طبقے کو باقاعدہ ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ پاکستان کے خلاف محاذ کھولنا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو ایک صحافی انڈین ایئر فورس کے خفیہ ترین آپریشنل روم تک کیسے پہنچا؟ یقینا ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا‘‘ لاف زنی کے عادی ارنب گوسوامی کی اسی عادت نے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا بھر کے سامنے عیاں کر دیا۔

سچائی میرے رب کی صفت ہے اور یہ صفت کبھی شکست نہیں کھا سکتی۔ خدا اپنے بندوں کا امتحان لینے کے لئے کچھ وقت کے لئے انہیں آزماتا ضرور ہے کہ بندہ یقینِ محکم سے مجھ پر لائے گئے ایمان کو تھامے کھڑا رہتا ہے یا نہیں۔ شاہین باغ دہلی اور بھارتی کسانوں کے خلاف ڈریکونین قوانین کا بے دریغ استعمال بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کرتا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں معصوم بچوں پر بھارتی فوج کی پیلٹ گنوں سے فائرنگ اس کی بربریت اور سفاکی کی وہ داستانیں رقم کر رہی ہے کہ تاریخ میں بھارت کا نام ہٹلرازم کے نئے حامل کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ میری یہ کالموں کی سیریز نریندر مودی کو اقتدار تک پہنچانے اور بھارت کے ہندوئوں کے دلوں میں مسلم اور پاکستان دشمنی کی آگ بھرتے ہوئے ڈراموں اور اپنے ہی عوام سے کئے گئے دھوکوں کی تفصیلات پر محیط ہو گی۔ مودی کو زیادہ شہ اس لیے ملی کہ بھارت کے ریاستی ادارے اس کی راہ میں مزاحم ہونے کے بجائے اس کی راہ میں بچھتے چلے گئے۔ بھارتی سپریم کورٹ اب آئین اور قانون کی نہیں بلکہ نریندر مودی کے اقتدار کی محافظ بن چکی ہے۔
(جاری ہے)

بشکریہ : تجزیہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close