بحریہ ٹاؤن کی قبضہ گیری کے خلاف سندھ کے لاکھوں لوگوں کا بڑا احتجاجی دھرنا، شرپسندی سے پرامن احتجاج کو ناکام بنانے کی سازش

کثیر الجماعتی قومپرست اتحاد سندھ ایکشن کمیٹی کی کال پر سندھ کے لاکھوں لوگ بحریہ ٹاؤن کراچی کی قبضہ گیری اور بحریہ ٹاؤن کی سرپرستی کے خلاف امڈ آئے اور بحریہ ٹاؤن کے مین گیٹ کے سامنے دھرنا دیا

پرامن دھرنا چلتے اچانک کچھ نامعلوم افراد کہیں سے گھس آئے اور انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے مین گیٹ پر دھاوا بول دیا اور کچھ عمارتوں کو بھی آگ لگا دی. اس دوران دھرنے کی انتظامیہ اور قائدین کی طرف سے لوگوں سے پرامن رہنے کی مسلسل اپیل کی جاتی رہی

جس کے بعد پولیس کے اٹالے پرامن مظاہرین پر پل پڑے، شدید شیلنگ کرتے ہوئے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے کئی مظاہرین شدید زخمی اور بے ہوش ہو گئے.

اس عرصے میں پولیس نے گیٹ پر دھاوا بولنے والے عناصر کو پکڑنے کے بجائے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا. آخری اطلاعات کے مطابق پولیس نے سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا

عینی شاہدین کے مطابق ابتدا میں شرپسندوں نے چیک پوسٹوں پر حملہ کیا اور اس کے بعد مین گیٹ کو آگ لگا دی. کچھ مشکوک افراد دھرنے کے باہر سے اچانک برآمد ہوئے اور لوٹ مار شروع کر دی، ان کی کاروائی سے واضح تھا کہ وہ بحریہ ٹاؤن کے راستوں اور عمارتوں سے مکمل واقف تھے. جب کہ اس دوران پولیس کے اٹالے اور بحریہ ٹاؤن کا سیکورٹی عملہ بھاری تعداد میں وہاں موجود تھا لیکن انہوں نے شرپسندوں کو روکنے کی کوشش بلکل نہیں کی. اس کے بعد بھی پولیس نے اندر گھسنے والے شرپسندوں کو روکنے کے بجائے گیٹ کے باہر بیٹھے پرامن مظاہرین پر حملہ کر دیا

احتجاج کے دوران جب نامعلوم شرپسند افراد گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو اسی وقت جلسہ گاہ سے اعلان کیا گیا کہ ’شرپسندوں کا تعلق ان سے نہیں ہے پولیس انہیں حراست میں لے۔ ‘ لیکن پولیس اور بحریہ ٹاؤن کا سیکورٹی عملے نے نامعلوم شرپسندوں کو روکنے سے احتراز برتا

اس حوالے سے سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنما جلال محمود نے کہا کہ ہمارے پرامن دھرنے اور جمہوری احتجاج سے بحریہ ٹاؤن  بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے. یہ شرپسند خود بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی طرف سے ہمارے پرامن دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے، جنہوں نے ہمارے پرچم ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے

جلال محمود شاہ نے کہا کہ ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہمارا احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا. انہوں نے شرپسند عناصر سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی اس شرپسندی کی شدید مذمت کی

سندھ انڈیجنئس رائٹس الائنس کے رہنماؤں نے بھی اس شرپسندانہ کارروائی کو پرامن دھرنے کے خلاف بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی سازش قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی.

سندھ انڈیجنئس رائٹس الائنس کے رہنماؤں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کی جارحیت کے خلاف ہماری آٹھ سال سے جدوجہد مکمل طور پر پرامن رہی ہے اور ہم آیندہ بھی پرامن جدوجہد کرتے رہیں گے. اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے ہماری پرامن جدوجہد کی راہوں کو مسدود کرنے کی کوشش ہیں لیکن سے ایسا کر کے ہمیں ڈرا دھمکا کر خاموش نہیں کیا جاسکتا

رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بحریہ میں گیٹ کو خاکستر کردینا آتش گیر کیمیکلز کے بغیر ممکن نہیں ہے، ایسے کیمیکلز پہلے کراچی میں دہشتگردی کی وارداتوں میں استعمال ہوتے رہے، یہ ممکن ہی نہیں کہ ان پرتشدد واقعات میں قوم پرست کارکنان ملوث ہوں، یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ طریقہ واردات  کس کا ہے

اس سے قبل سندھ ایکشن کمیٹی کی کال پر صبح سے ہی بڑے بڑے قافلے سندھ کے مختلف اضلاع سے دھرنے کے مقام پر پہنچتے رہے.

مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاج سے قبل مظاہرین نے سپر ہائی وے پر بھی دھرنا دیا، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اس کے بعد سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما قادر مگسی نے پولیس حکام سے بات کی اور کہا کہ ’انہیں گیٹ کے سامنے دھرنا دینے دیا جائے وہ سپر ہائی کھول دیں گے وہ پر امن لوگ ہیں جس کے بعد انہیں دھرنے کی اجازت دی گئی۔‘

مختلف جگہوں پر راستوں میں بڑے بڑے کنٹینرز لگا کر کئی قافلوں کو راستے میں ہی روک دیا گیا. اس کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے. دھرنے میں متاثرہ ضلع ملیر کے علاوہ کراچی کے مختلف علاقوں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے دھرنے میں شرکت کی.

شرکاء میں مختلف پارٹیوں کے کارکن، سول سوسائٹی، ادیب، شاعر، وکلاء اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے. شرکاء میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل تھی

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے قیام سے لے کر یہ سب سے بڑا احتجاج ہے، جس میں سندھ بھر سے سیاسی کارکنان کے علاوہ ادیب، شاعر و دانشوروں کی تنظیم سندھی ادبی سنگت شریک ہے۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے تمام اضلاع سے جلوس اس احتجاج میں شرکت کر رہے ہیں۔ ’نواب شاہ، میرپور خاص، بدین اور جام شورو میں پولیس نے ان کے قافلے روکے ہیں۔ کہیں کہیں پر گاڑیوں کی ہوا نکالی گئی لیکن لوگوں کا جم گفیر دیکھ کر انھیں مجبور ہو کر رکاوٹیں ہٹانا پڑیں۔‘

جلال شاہ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’بحریہ ٹاؤن انتظامیہ مقامی گوٹھوں اور آس پاس کی زمینوں پر قبضہ گیری بند کرے اور سپریم کورٹ نے اس کو جتنی زمین دی ہے اس پر اپنا منصوبہ محدود کرے۔ باقی اس کی تمام کارروائی غیر قانونی وغیر آئینی ہے جس میں پیپلز پارٹی کی حکومت ان کی مدد گار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آصف زرداری دیکھ لیں ایک طرف سندھ کا قومی و سیاسی کارکن، ادیب و دانشور ہے دوسری جانب ملک ریاض ہیں۔ انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close