گہرام نادل کا خونِ ناحق: کیا خونِ خاک نشیناں یونہی رزقِ خاک ہوتا رہے گا؟

ویب ڈیسک

جب بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے انیس سالہ گوہرام نادل کچھ عرصہ پہلے اپنے گھر والوں کا معاشی سہارا بنے تو ان کی والدہ، بھائی اور بہنیں خوش تھیں کہ ان کے مشکل کے دن اب گزر جائیں گے، لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ وقت قائم نہ رہ سکی، کیونکہ حراست میں لیے جانے کے دو دن بعد ان کی لاش گھر پہنچا دی گئی

بی بی سی اردو نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ گہرام نادل کی خالہ زیبا بلوچ نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گہرام نادل کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار کوشقلات میں واقع ان کے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے

زیبا بلوچ نے بتایا کہ ان کی بہن اور گہرام نادل کی والدہ زرینہ بلوچ پہلے ہی بیمار تھی لیکن اب بیٹے کی ہلاکت کے بعد ان کی حالت غیر ہو گئی ہے

اُنھوں نے بتایا کہ گہرام نادل کے کمر پر تشدد کے نشانات تھے

اگرچہ مکران انتظامیہ کے ایک اہلکار نے گہرام نادل کی ہلاکت کی تصدیق کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کی موت گرمی کی شدت اور دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی تھی

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءﷲ لانگو کا کہنا ہے کہ کیچ کے علاقے کوشقلات میں کسی نوجوان کی تشدد سے ہلاکت انتظامیہ کے نوٹس میں نہیں

رپورٹ کے مطابق گوہرام نادل مکران ڈویژن کے ضلع کیچ کے علاقے کوشقلات کے رہائشی تھے، جو ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے اندازاً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے

ان کی خالہ زیبا بلوچ نے بتایا کہ گہرام نادل کے والد چھ سات سال قبل وفات پا گئے تھے، جس کے بعد ان کی والدہ نے کشیدہ کاری کر کے گہرام، ان کی تین بہنوں اور چھوٹے بھائی کو پالا تھا. اب چونکہ بہن کی نظر کمزور ہونے کے علاوہ وہ بیمار ہوگئی تھی جس کے باعث ان کے لیے کشیدہ کاری ممکن نہیں تھی لیکن گہرام نادل نے درزی کا کام سیکھ کر کپڑے سینے کا کام شروع کیا تھا

زیبا بلوچ کے مطابق ان کی محنت مزدوری سے ان کے گھر میں تھوڑی بہت آمدنی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس رمضان میں، میں نے ان کے گھر کے لیے کچھ راشن بھیجا تو گہرام نے مجھے کہا کہ اب آپ راشن وغیرہ ہمیں نہ بھیجیں، کیونکہ اب میں خود گھر کے لیے تھوڑا بہت راشن کا انتظام کرسکتا ہوں

انہوں نے بتایا کہ غربت کی وجہ سے گہرام نادل پڑھ تو نہیں سکے تاہم ان کا چھوٹا بھائی تربت یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے۔ گہرام نہ صرف اپنے گھر کا معاشی سہارا بن گیا تھا بلکہ وہ چاہتا تھا کہ ان کا بھائی اپنی تعلیم مکمل کرے

ان کا کہنا تھا کہ چند دن قبل رات کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار آئے اور گہرام کو گھر سے اپنے ساتھ لے گئے اور اٹھائے جانے کے دو روز بعد گوہرام کی لاش حوالے کی گئی

دوسری جانب علاقے کے عمائدین اور آل پارٹیز ضلع کیچ کے کنوینر نصیر گچکی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے 12 جون کی شب چار بجے کوشقلات میں آپریشن کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران چار نوجوانوں گہرام ولد نادل، عبدالستار ولد الٰہی بخش، سہراب ولد رحیم بخش اور عبدﷲ ولد ماسٹر حسن کو اپنے ساتھ لے گئے، جن کی عمریں سترہ سے انیس سال کے درمیان تھیں. ان کو اٹھائے جانے کے دو دن بعد اُنھیں رات کو قریبی سکیورٹی فورسز کے کیمپ سے فون آیا کہ گہرام نادل دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں اس لیے آ کر ان کی لاش لے جائیں، لیکن ہم نے لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا جس پر لاش کو مقامی لیویز فورس کے اہلکاروں کی توسط سے لواحقین کے سپرد کیا گیا

گہرام کی خالہ زیبا بلوچ نے بھی بتایا کہ گہرام کی لاش لیویز فورس کے اہلکاروں نے ان کے حوالے کی۔ گہرام نادل کی کمر پر تشدد کے نشانات تھے۔ جب گہرام کی لاش گھر لائی گئی تو ان کی والدہ گھر پر نہیں تھیں، بلکہ علاج کی غرض سے کراچی میں تھیں اور اب بڑے بیٹے کی موت کے بعد ان کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے

زیبا بلوچ نے بتایا کہ اُن کی بہن زرینہ کا اپنے بیٹے کی موت پر کہنا ہے کہ بس وہ ﷲ تعالیٰ سے انصاف چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ﷲ تعالیٰ ایسا کرنے والوں کو بس ہدایت دے

زیبا بلوچ کا کہنا تھا کہ لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جانا چاہیے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے

نصیر احمد گچکی نے باقی تین نوجوانوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا

در ایں اثناء بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوہرام نادل کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

بی بی سی اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گہرام کی ہلاکت کے بارے میں ایف سی ساﺅتھ اور ضلعی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے ایف سی ساﺅتھ کے ترجمان اور ڈپٹی کمشنر کیچ سے فون پر رابطے کے علاوہ ان کو واٹس ایپ پر پیغام بھی بھیجے گئے تاہم اُنھوں نے اس سلسلے میں نہ بات کی اور نہ واٹس ایپ پر مؤقف دیا، تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ کہ اُنھوں نے اس سلسلے میں مکران میں انتطامیہ کے لوگوں سے پوچھا ہے، انتظامیہ کے سینیئر اہلکاروں نے بتایا کہ کسی نوجوان کی تشدد سے ہلاکت ان کے نوٹس میں نہیں ہے

تاہم مکران انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ گہرام نادل کی لاش کو سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اُن کے حوالے کیا تھا. ہلاک ہونے والے نوجوان کی طبیعت پہلے سے ٹھیک نہیں تھی۔ ان کے بقول ان پر تشدد نہیں ہوا اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کی لاش کو حوالے کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گرمی کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں. ہلاک ہونے والے نوجوان کا طبی معائنہ نہیں کروایا جاسکا کیونکہ جو لوگ ان کی لاش لینے کے لیے جمع تھے اُنھوں نے کہا کہ وہ اُن کی تدفین کریں گے

اس سوال پر کہ انتظامیہ نے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے قانونی تقاضے کیوں پورے نہیں کیے تو ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ کے اہلکار پوسٹ مارٹم کے تقاضے پورے کرنے کے لیے لواحقین کے پاس گئے تھے لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں تھے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close