کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) پانچویں قسط

پانچویں قسط

قونصلیٹ کے جانے کے بعد میں اپنے بستر پر لیٹ گیا اور اگلے چوبیس گھنٹے سویا رہا۔ اس کے بعد ایک بار پھر اہلکار نے مجھے بتایا کہ قونصلیٹ کی ٹیم مجھ سے ملنے آئی ہے.

کارمیلا کی دی ہوئی کاپی پر میں نے اپنی بیوی اور بیٹے کے لئے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں اور مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے اور یہ کہ حالات بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے ۔ میں نے پولیس اہلکاروں سے اپنی اس کاپی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ۔ میری تفتیشی ٹیم یہ نہیں جانتی تھی کہ میرا امریکی فوج کی کس برانچ سے تعلق ہے ۔ ایک کنٹریکٹر کے طور پر میری ذمہ داری دفتر خارجہ کے عملہ کی حفاظت کرنا تھی لیکن سوال یہ تھا کہ کیا یہ ذمہ داری مجھے ایک سفارت کار کا درجہ دیتی تھی؟۔ پاکستان جیسے ملک میں سازشوں کی کہانیاں گردش کرتی رہتی ہیں اور لوگوں میں منفی باتوں کا رحجان ہے ، ان حالات میں میرا ایک خاص ایجنسی سے تعلق کی داستانیں پولیس اہلکاروں کو میرے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی تھیں۔ اپنی فیملی کے نام پیغام میں نے قونصلیٹ جنرل کے اسسٹنٹ شین کے ہاتھ تھمایا اوراس کا ہاتھ گرمجوشی سے دبایا ۔ ملاقات کے دوران کارمیلا نے مجھے صاف بتا دیا کہ مجھے رہائی دلانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ چودہ روزہ ریمانڈ میں پولیس مجھ سے کچھ بھی پوچھ سکتی ہے ۔ اس لئے میں ریمانڈ کے دوران پولیس کو بتاؤں کہ میری تعیناتی سفارت خانے میں ہوئی تھی اور یہ مطالبہ کروں کہ مجھے اسلام آباد میں موجود سفارتی مشن کے حوالے کیا جائے۔ چودہ دن کے بعد پولیس مجھ سے مزید تفتیش نہیں کر پائے گی.

جسمانی ریمانڈ کے دوران مجھے دن میں دو بار چاول اور مرغی کا سالن کافی مقدار میں ملتا تھا جسے میں نے جان بوجھ کر کھانے سے انکار کرنا شروع کر دیا ۔ مجھے پینے کے لئے ایک لیٹر پانی کی بوتل ملتی تھی جسے میں ایک دو گھنٹے میں ہی خالی کر دیتا اور مزید پانی طلب کرتا تھا۔ اس پر گارڈز نے مجھے کئی بوتلیں اکٹھی دینی شروع کر دیں.

پولیس نے پہلے دن ہی میری گھڑی ، کیمرہ اور موبائل اپنے قبضے میں لے لئے تھے ۔ میرے کمرے میں چوبیس گھنٹے بلب روشن رکھے جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ وہ کسی بھی وقت پوچھ گچھ کے لئے کمرے میں آ سکتے تھے اور کوئی بھی سوال پوچھ لیتے تھے.

پاکستانی پولیس کے بارے میں جو معلومات مجھے حاصل تھیں ان کی بنیاد پر مجھے یقین تھا کہ وہ مہارت کے فقدان کی وجہ سے مجھ سے کچھ بھی نہیں اگلوا سکیں گے ۔لاہور میں محض ایک درجن سے زائد تفتیشی پولیس آفیسر ہیں جن میں سے ہر ایک کو ہر ماہ لگ بھگ ڈھائی سو کیسز نمٹانے ہوتے ہیں ۔ کچھ تفتیشی آفیسر اچھی طبیعت کے مالک تھے جبکہ بعض دوران تفتیش موضوع سے ہٹ کرفضول سوالات پوچھنے لگتے تھے مثال کے طور پر کھانا ٹھیک مل رہا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ مجھے مزنگ چونگی کے واقعہ کی تفصیلات بھی متعدد بار کئی پولیس افسروں سے سنانی پڑیں ۔ انہی میں ایک پولیس آفیسر طارق اپنی خوش مزاجی اور شستہ انگریزی کی وجہ سے مجھے بہت پسند تھا ۔ ایک موقع پر طارق نے کہا کہ اس کا ایک بھائی امریکا کی ریاست جارجیا میں پرانی گاڑیوں کی مرمت کرتا ہے ۔ اس سے مجھے لگا کہ طارق مجھ سے تعلق جوڑ کر دوبارہ سے مزنگ چونگی والے واقعہ کی تفصیلات پوچھنے لگے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ اس نے مجھ سے کبھی نہ پوچھا کہ میں لاہور کیوں آیا ہوں اور کیا کر رہا تھا ۔ وہ صرف امریکی فلموں ، طرز زندگی اور امریکی ثقافت پر باتیں کرنا پسند کرتا تھا.

ایک اور پولیس افسر نے بھی مجھ سے تفتیش کی ۔ وہ بے تکلفی سے کمرے میں بیٹھ گیا اور اس نے مجھے بتایا کہ اسے امریکی ایف بی آئی نے تربیت دی ہے ۔ وہ سفید پینٹ شرٹ اور ٹائی میں پولیس افسر کی بجائے بینکر لگتا تھا ۔ اس کا انداز عام پولیس والوں سے بہت مختلف تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں کبھی لاہور میں ڈی ایچ اے گیا ہوں۔ میں نے اسے جواب دیتے ہوئے بہت محتاط رویہ اختیار کیا اور کہا کہ ایک آدھ بار میرا اس علاقہ میں جانا ہوا ہے ۔ اس کے بعد اس نے مزنگ چونگی والے واقعہ پر گفتگو شروع کر دی ۔ میں نے اسے کہا کہ میں اس سارے واقعہ کی تفصیل متعدد بار زبانی بتا چکا ہوں اور اپنا بیان بھی لکھ کر دے چکا ہوں اوراب اس سلسلے میں مزید کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا ۔ وہ چھ گھنٹے کمرے میں رہا ۔ اس دوران اس نے مجھے دوپہر اور رات کا کھانا کھاتے ہوئے دیکھا لیکن بالآخر وہ بھی مایوس ہو کر کمرے سے باہر چلا گیا.

°پولیس ٹریننگ کالج میں چھٹا دن

پولیس کی اس پوچھ گچھ کے دوران مجھے کئی عدالتوں میں پیش کیا گیا ۔ ایک عدالت میں مجھے غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے الزام میں تو دوسری عدالت میں مزنگ چونگی میں دو بے گناہ افراد کے قتل کے کیس میں پیش کیا گیا۔ان دونوں عدالتوں کا ماحول ایک جیسا تھا یعنی چھوٹے تنگ اور غیر ہوادار کمرے تھے جو کسی صورت عدالت کا کمرہ محسوس نہیں ہوتے تھے ۔ اس کے باوجود وہاں بہت سارے لوگ اپنی جگہ بنا لیتے تھے ۔ اس کیس کے دوران میں نے پراسیکیوٹرکے بیان میں اہم تبدیلی محسوس کی ۔ پہلی پیشی پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مسٹر ڈیوس نے دو ایسے افراد کو گولی ماری جو اسے مارنا چاہتے تھے ۔ دونوں کے پاس اسلحہ اور گولیاں موجود تھیں ۔ اگلی پیشی پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو کہا کہ مسٹر ڈیوس نے دو ایسے افراد کو گولی ماری جو اسے مارنا نہیں چاہتے تھے۔ یہ درست ہے کہ دونوں کے پاس اسلحہ موجود تھا لیکن ان کے پستول کے چیمبر میں کوئی گولی نہیں تھی ۔ اس غلط بیانی کی وجہ پولیس افسروں کی جانب سے دیا گیا مواد تھا ۔ اس کے بعد ایک پیشی میں پراسیکیوٹر نے کہا کہ جنہیں میں نے گولیاں ماریں وہ آئی ایس آئی کے ایجنٹ تھے جو ڈی ایچ اے میں کسی کے ساتھ میری ملاقات کے بعد میرے پیچھے لگے تھے ۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ایک پولیس افسر نے دوران تفتیش مجھے یہ کیوں کہا تھا کہ وہ ایف بی آئی کا تربیت یافتہ ہے اور اس نے مجھ سے ڈی ایچ اے کے بارے میں سوال کیوں کیا تھا ۔ اس سے اگلی پیشی پر پراسیکیوٹر صاحب نے دعویٰ کیا کہ دونوں مقتولین غیر مسلح تھے ۔ پراسیکیوٹر کے اس دعوی کو غلط ثابت کرنا اب میرے لئے بہت مشکل تھا کیونکہ میرا وہ کیمرہ پولیس کے پاس تھا جس سے میں نے اس حادثہ کے بعد دونوں مقتولین کی تصاویر بنائیں تھیں ۔ ان تصاویر میں مقتول فہیم کے ہاتھ میں پستول واضح طور پر نظر آ رہا تھا.

(جاری ہے)

  1. کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) چوتھی قسط
  2. کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ) پہلی قسط

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close