عالمی منظر نامہ اس وقت ایک ایسی جیو پولیٹیکی کشمکش کی زد میں ہے جہاں طاقتور ریاستوں کے تزویراتی مفادات اور انفرادی بیانیے بین الاقوامی امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سنسنی خیز انکشافات نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف ایران کے خلاف ممکنہ فوجی مہم جوئی کے بادل منڈلا رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت کے ’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے ٹرمپ کے دعوؤں نے دہلی اور اسلام آباد کے مابین ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک ایسی "ٹیرف ڈپلومیسی” اور "ایٹمی دھونس” کا شاخسانہ ہے جو عالمی نظام کی بنیادیں ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پہلا بڑا انکشاف: آپریشن سندور اور ٹیرف کا خوف
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جس نے تزویراتی حلقوں میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ یہ ان کی جانب سے دی جانے والی معاشی پابندیوں اور بھاری تجارتی ٹیرف کا خوف تھا جس نے دونوں ایٹمی طاقتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ یہ دعویٰ بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے اس بیانیے کے سراسر متصادم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت نے یہ آپریشن اپنی شرائط اور اہداف کی درست نشاندہی (Precise Targeting) کے بعد خود روکا۔
ٹرمپ نے دونوں ممالک کے مابین ایٹمی خطرے کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے کردار کو ان الفاظ میں بیان کیا:
"بھارت اور پاکستان کے معاملے کو دیکھیں، یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ وہاں 11 طیاروں کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی اور تقریباً 30 ملین (3 کروڑ) لوگ خطرے میں تھے۔ میں نے انہیں ٹیرف کا ڈر دکھایا اور یہ معاملہ رک گیا۔”
ٹرمپ کی یہ "ٹیرف ڈپلومیسی” اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ دونوں خطوں کو ایک ہی لینز سے دیکھتے ہیں، جہاں معاشی دباؤ کو سٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ایران پر حملے کی تیاری: کیا مذاکرات صرف ایک ڈھونگ تھے؟
امریکی عسکری حلقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات محض ایک سراب تھے۔ سچویشن روم (Situation Room) میں ہونے والی ایک اہم بریفنگ کے دوران Admiral Brad Cooper نے صدر ٹرمپ کو ایران میں موجود اہداف پر طاقتور حملوں اور تزویراتی تنصیبات کی تباہی کے منصوبوں پر بریف کیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفارتی کوششیں دراصل وقت حاصل کرنے اور اگلے حملے کی تیاری کا ایک حربہ تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا ان مذاکرات پر عدم اعتماد بلاجواز نہیں تھا۔ US Central Command نے پہلے ہی ایران کے فوجی اثاثوں، قیادت اور انفراسٹرکچر پر حملوں کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔ ٹرمپ کو ان کے مشیروں کی جانب سے Surgical Strike کا مشورہ دیا گیا ہے، اور خود ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ "ہمیں شاید ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنی پڑے” اس بات کا ثبوت ہے کہ خطہ ایک ہولناک تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے۔
_________________________
_________________________
سٹریٹجک ناکامی یا صرف سیاسی واہ واہ؟
معروف سٹریٹجک ماہر برہما چیلانی نے ’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے بھارتی حکومت کے دعوؤں کو ’تزویراتی سادہ لوحی‘ (Strategic Naivety) قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا تجزیہ بھارتی بیانیے کی جڑوں پر وار کرتا ہے:
- وقت کا ضیاع: بھارت نے پلوامہ جیسے واقعے کے بعد 15 دن انتظار کیا اور پھر 7 سے 10 مئی کے درمیان آپریشن کیا، جس سے پاکستان کو اپنے ٹھکانے خالی کرنے اور وسائل منتقل کرنے کا بھرپور موقع ملا۔
- ٹیکٹیکل فتح بمقابلہ سٹریٹجک شکست: چیلانی کے مطابق، خالی پڑے تربیتی کیمپوں پر حملہ کرنا اور 100 کے قریب نچلے درجے کے کارندوں کو مارنا محض ایک ‘ٹیکٹیکل کامیابی’ تھی، کیونکہ ‘موسٹ وانٹڈ’ فہرست کا کوئی بڑا دہشت گرد نشانہ نہیں بنا۔
- سفارتی ہزیمت: صرف تین دن میں لڑائی روک دینے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج ایک مضبوط حریف کے طور پر ابھرا، جس کے نتیجے میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین دفاعی معاہدہ طے پایا۔
برہما چیلانی کا یہ تجزیہ راج ناتھ سنگھ کے ’نیو انڈیا‘ کے دعووں کو چیلنج کرتا ہے، خاص طور پر جب ایس سی او (SCO) سمٹ جیسے اہم فورمز پر بھارتی میڈیا کی خاموشی اس تضاد کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
ٹرمپ کی ‘نوبل پرائز’ کی خواہش اور اندرونی دباؤ
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے پیچھے اکثر ان کی ذاتی خواہشات اور داخلی سیاسی مسائل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کی شدید خواہش ہے کہ انہیں ’نوبل امن انعام‘ سے نوازا جائے، اور ان کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں صرف نیتن یاہو اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ہی وہ لیڈر ہیں جو ان کی اس تڑپ کو سمجھتے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے "ایٹمی خطرے” (The N-word) کا بار بار استعمال دراصل ایک تزویراتی خلفشار (Strategic Distraction) ہے تاکہ امریکی عوام کی توجہ ملک میں بڑھتی ہوئی گیس کی قیمتوں اور مہنگائی سے ہٹائی جا سکے۔
ٹرمپ کی اس غیر متوقع پالیسی کا اثر صرف ایشیا تک محدود نہیں، بلکہ انہوں نے جرمنی، اٹلی اور سپین سے امریکی فوجیں نکالنے کی دھمکی دے کر اپنے یورپی اتحادیوں کو بھی سکتے میں ڈال دیا ہے، جس سے عالمی اتحاد کی دراڑیں واضح ہو رہی ہیں۔
ایران کا جواب: ‘حیدر 110’ اور زمین دوز میزائل
ایران نے امریکی دھمکیوں کا جواب دفاعی استحکام اور عسکری تیاریوں سے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، تہران نے ان میزائلوں اور گولہ بارود کو دوبارہ فعال کرنا شروع کر دیا ہے جو ملبے تلے دبے ہوئے یا زمین دوز تھے۔ ایران کی اس تیاری کا سب سے بڑا مرکز Strait of Hormuz (آبنائے ہرمز) ہے، جہاں اس نے ‘حیدر 110’ (Haider 110) نامی وار-بوٹ تعینات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جو امریکی بحری بیڑے کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران کی عسکری پہنچ کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے جب کویت میں امریکی Base Camp Behring پر ایرانی طیارے نے اپنی قوت کا مظاہرہ کیا تھا۔ تہران کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں خطے میں اپنی نئی دفاعی کامیابیوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اختتامیہ: ایک نیا عالمی نظام یا آنے والا طوفان؟
ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ انکشافات عالمی سیاست کے ایک ایسے تاریک رخ کو بے نقاب کرتے ہیں جہاں سچائی اور مصلحت کے درمیان لکیر دھندلا گئی ہے۔ ایک طرف راج ناتھ سنگھ کا ’نیا بھارت‘ ہے جو دنیا کو دہشت گردی کے خلاف سخت پیغام دینے کا دعویٰ کرتا ہے، تو دوسری طرف ٹرمپ کی ’ٹیرف ڈپلومیسی‘ ہے جو ریاستوں کی خودمختاری کو محض تجارتی سودے بازی کا حصہ سمجھتی ہے۔
آنے والا وقت اس سوال کا جواب دے گا کہ کیا بھارت اپنی تزویراتی خود مختاری (Strategic Autonomy) برقرار رکھ پائے گا یا وہ ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے ایک ‘کلائنٹ سٹیٹ’ بن کر رہ جائے گا؟ کیا عالمی سیاست کے یہ بدلتے رنگ کسی نئے عالمی نظام کی نوید ہیں یا یہ ایک ایسے طوفان کا پیش خیمہ ہیں جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا؟
__________________________





