جب منگلا ڈیم کی تعمیر نے 80 ہزار افراد کو بے گھر کر دیا: ’ہمیں صرف ایک ہزار روپے مالی معاوضہ دیا گیا‘

بین ہینڈرسن

’ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے پانی بلند ہوتے ہوئے دیکھا۔ شروع میں تو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہم تو خوفزدہ ہو گئے تھے۔ جب پانی کی سطح بلند ہوئی تو نیا منظر نامہ ہمارے لیے اجنبی تھا۔‘

آج میں آپ کو 1960 کی دہائی میں پاکستان کے شمال مشرق میں واقع میر پور شہر لے کر جا رہا ہوں جب یہاں ایک بہت بڑا ڈیم تعمیر کیا گیا۔ لیکن اس ڈیم کی تعمیر نے ایک عالمی نقل مکانی کو جنم دیا۔

ایسٹ لندن کی 73 سالہ رہائشی ریاض بیگم کو آج بھی وہ وقت یاد ہے۔ ان کا شمار ان ہزاروں افراد میں ہوتا ہے، جن کو منگلا ڈیم کی وجہ سے بے گھر ہونا پڑا تھا۔

’ہمیں آج بھی اپنے علاقے کی بہت یاد آتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ان گلیوں اور مکانات میں پھرتی رہتی ہوں۔ میرے ذہن اور میری روح میں وہ سب آج بھی اسی طرح موجود ہے۔‘

’ہمارا گھر بہت بڑا تھا، جو پتھر اور سنگ مرمر کا بنا ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو ایک ہی کمرے میں سویا کرتے تھے اور رات کو ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے سناتے سو جایا کرتے تھے جن میں زمانہ قدیم کے بادشاہوں اور ملکاؤں کے قصے ہوا کرتے تھے۔‘

برصغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان آزاد ہوا تو میرپور اس کا حصہ بنا لیکن اس علاقے میں پانی کے وسائل کی کمی تھی۔ ایسے میں پاکستان کی حکومت نے ایک تکنیکی حل تلاش کیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی 1967 کی ایک رپورٹ کے مطابق منگلا ڈیم کے لیے اس زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر ساز و سامان استعمال ہوا کیوں کہ یہ دنیا میں سب سے بڑے ڈیموں میں سے ایک تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ڈیم پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے پاکستان کا انڈیا پر انحصار کم کر دے گا۔

اس ڈیم کے ذریعے جہلم دریا کے پانی کو ذخیرہ کیا جانا تھا، جسے حسبِ ضرورت کاشتکاری کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ ریاض بیگم کا خاندان بھی اسی علاقے میں زرعی زمین رکھتا تھا، لیکن جب ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوا تو وہاں کنکریٹ کی دیواریں کھڑی ہونا شروع ہوئیں۔

جلد انہیں احساس ہوا کہ ان کی وادی ہی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونا تھی۔

ریاض بیگم، جن کی عمر اس وقت سولہ سال تھی، کے لیے یہ سب کسی ہولناک تجربے سے کم نہ تھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے پانی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

’ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے پانی اکھٹا ہوتے ہوئے دیکھا۔ شروع میں تو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہم تو خوفزدہ ہو گئے تھے۔ جب پانی کی سطح بلند ہوئی تو نیا منظر نامہ ہمارے لیے اجنبی تھا۔‘

یہ منظر صرف ریاض بیگم کے لیے ہی اجنبی نہ تھا بلکہ علاقہ مکینوں کو ایک نئی مشکل کا بھی سامنا تھا۔

’وہاں کسی کو تیرنا نہیں آتا تھا اور سفر کے لیے کشتیوں کا استعمال ہونا شروع ہوا۔ اگر کسی کی شادی ہوتی تھی اور بارات کو پانی کے پار جانا ہوتا تو ایسے بے شمار واقعات ہوئے جن میں پورا پورا خاندان کشتی میں جاتے ہوئے ڈوب گیا کیونکہ کشتی میں ضرورت سے زیادہ افراد کو بھر لیا گیا تھا۔‘

میں نے ریاض بیگم سے سوال کیا کہ وہ کون سا لمحہ تھا جب ان کو احساس ہوا کہ ان کو اپنا گھر اور علاقہ چھوڑنا پڑے گا؟

’ہم شروع میں تو اپنا علاقہ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔۔ لیکن جس دن ہم نے نقل مکانی کی، اس سے ایک رات پہلے ہمارے پاس سر چھپانے کو ایک چھوٹا سا ٹھکانہ باقی رہ گیا تھا۔ ہماری ایک بھینس بھی اسی جگہ ہمارے ساتھ ہی تھی۔‘

اگلے دن ریاض بیگم اور ان کے اہلِ خانہ کو ایک نئے خطرے کا سامنا ہوا۔

’پانی ہم سے دس میٹر دوری پر پہنچ چکا تھا۔ پھر ہم لوگ اپنی بھینس کے ساتھ نئی جگہ منتقل ہو گئے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستر ہزار ایکڑ کا علاقہ زیرِ آب آنے کی وجہ سے تقریباً اَسی ہزار لوگوں کو علاقہ خالی کرنا پڑا، جن میں اکثریت کو مالی معاوضہ دیا گیا اور تقریباً سب ہی کو نئی جگہ دی گئی۔

ترقی کا شکار ہونے والے پرانے دیہات آہستہ آہستہ صفحہِ ہستی سے مٹتے چلے گئے اور بیشتر زیرِ آب چلے گئے۔ ان میں ایک چار سو سال پرانا قصبہ بھی شامل تھا۔

میں نے ریاض بیگم سے سوال کیا کہ کیا ان کو اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی نقلِ مکانی کے بدلے میں مالی معاوضہ ملا تھا؟

’تھوڑے سے پیسے ملے تھے۔ شاید ایک ہزار روپے دیے گئے تھے۔۔ لیکن اس زمانے کے حساب سے بھی ایک ہزار روپے تو کچھ بھی نہیں تھے۔ ہمیں کبھی نہیں لگا کہ ہمیں ہماری تکلیف کے مطابق معاوضہ دیا گیا۔‘

لیکن کیا میرپور سے برطانیہ تک کے سفر کی واحد وجہ منگلا ڈیم ہی ہے؟

واضح رہے کہ اس علاقے کے کئی لوگ نوآبادیاتی دور میں ہی برطانیہ منتقل ہو چکے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ رائل نیوی کے جہازوں پر کام کرتے تھے۔ جب دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کو ملک میں تعمیر نو کے لیے مزدوروں کی ضرورت پڑی تو اور لوگ میرپور سے برطانیہ منتقل ہوئے۔ اس سلسلے میں برطانیہ منتقلی کے باعث میرپور کے لوگوں کا برطانیہ سے ایک تعلق قائم ہو چکا تھا اور کئی گھروں کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار برطانیہ میں موجود تھا۔

دوسری جانب برطانوی قانون میں دولت مشترکہ کے ممالک سے شہریوں کو مائیگریشن کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔ ان میں اہلخانہ سے ملنے کا قانون بھی شامل تھا۔ یوں جب میرپور میں لوگوں کے مکانات اور زمینیں ڈیم کے پانی کی وجہ سے زیر آب آ گئیں تو ہزاروں افراد نے برطانوی قانون کی مدد لیتے ہوئے نقل مکانی کی۔

ریاض بیگم کے شوہر پہلے ہی برطانیہ میں کام کر رہے تھے۔ 1972 میں ریاض بیگم بھی اپنے شوہر کے پاس پہنچ گئیں۔ اس وقت ان کی عمر 21 سال تھی اور نیا ملک اور نئے طور طریقے ان کے لیے بلکل اجنبی تھے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’میرے لیے وہ وقت بہت مشکل تھا کیوںکہ مجھے تو یہاں کی زبان بھی بولنی نہیں آتی تھی۔‘

یوں ایک انجان ملک میں چھوٹے چھوٹے کام بھی دلچسپ واقعات کا سبب بنے۔

’ایک بار ہمارے گھر کچھ مہمان کھانے پر مدعو تھے تو مجھے دہی کی ضرورت تھی، لیکن مجھے پتہ نہیں تھا کہ دہی کو انگریزی زبان میں کیا کہتے ہیں۔ تو میں ایک اور خاتون کے پاس گئی جن کو برطانیہ میں رہتے ہوئے کچھ عرصہ ہو چکا تھا اور میں نے پوچھا کہ یہاں دہی کو انگریزی زبان میں کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا میرے خیال میں ’ملک بٹر‘ کہتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں ایک بندہ سامان دینے آیا کرتا تھا تو اگلی صبح میں نے اس سے کہا کہ کیا مجھے ملک بٹر مل سکتا ہے۔ اس نے حیران ہو کر میری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اس نے ڈبل روٹی نکال لی۔ میں نے کہا نہیں نہیں۔ پھر اس نے انڈے نکال لیے۔ میں نے کہا یہ نہیں۔ تو اس نے کہا کہ پھر آخر کیا چاہیے؟ تو میں گھر میں گئی کہ دہی کا کوئی پرانا ڈبہ لا کر اسے دکھاؤں اور جب میں نے اسے ایک ڈبہ دکھایا تو اس نے کہا یہ ملک بٹر نہیں، یہ تو یوگرٹ ہے۔‘

’یہ مزاحیہ بات تھی لیکن مجھے دکھ بھی ہوا کیوںکہ میری زندگی انگریزی زبان سے لاعلمی کی وجہ سے مشکل بن گئی تھی۔‘

آج برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی نژاد کمیونٹی میں سے 60 سے 70 فی صد لوگوں کا تعلق میرپور اور اس کے مضافات سے نقل مکانی کرنے والوں سے جا ملتا ہے۔ تعداد کے حساب سے یہ تقریباً دس لاکھ لوگ بنتے ہیں۔

اسی لیے شاید میرپور کو ’لٹل انگلینڈ‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ریاض بیگم کے خاندان سے اور لوگ بھی برطانیہ منتقل ہوئے اور اب ان کے رشتہ دار پورے ملک میں آباد ہیں۔

ریاض بیگم کہتی ہیں کہ ’اب میں یہاں خوش ہوں۔‘

لیکن چند سال قبل جب ریاض بیگم بہت عرصے کے بعد میر پور لوٹیں تو یہ ان کے لیے ایک تکلیف دہ تجربہ تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو ہم اس جگہ تک جا سکتے ہیں جہاں کبھی ہمارے گھر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے گھروں کی بنیادیں اب بھی وہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ کچھ قبروں کی تختیاں بھی نظر آ جاتی ہیں۔‘

انھیں پرانے زمانے کی چند یادگاریں بھی ملیں۔ ’ہمیں کچھ ایسے پتھر ملے جو بلکل گول تھے اور ہمیں احساس ہوا کہ ہم ان کو وزن کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے کیوں کہ ان کا وزن ایک کلو ہوتا تھا۔‘

’ایک پتھر میرے بھائی نے رکھا اور ایک پتھر میں نے اپنی بیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔ مجھے اس پتھر سے اس لیے محبت ہے کیوںکہ یہ ایک علامت ہے ہمارے آباؤ اجداد کی۔‘

ریاض بیگم کے لیے یہ پتھر میرپور کے اس مقام کی یاد ہے جہاں کبھی ان کا گھر ہوا کرتا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگرچہ ڈیم کی شروعات بہت پرتشدد سی لگتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ہمارے زخم بھر رہے ہیں۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close