تین سال بعد دنیا کا ہر چوتھا آئی فون بھارت میں بنا ہوا ہوگا

ویب ڈیسک

دنیا کے بڑے مالیاتی کاروباری اداروں میں سے ایک ’جے پی مورگن‘ کے مطابق آج سے تین سال بعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کا ہر چوتھا آئی فون بھارت میں تیار شدہ ہوگا، جو چین کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی موبائل فون مارکیٹ ہے

جے پی مورگن کے مالیاتی تجزیہ کاروں نے بدھ 21 ستمبر کے روز بتایا کہ ایپل کی کوشش ہے کہ وہ مسلسل بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور کووڈ-19 کی عالمی وبا کے باعث چین میں لاک ڈاؤن کے انتہائی سخت ضابطوں کے پیش نظر اپنی مصنوعات کی پیداوار کا ایک حصہ چین سے باہر منتقل کر دے

اس تناظر میں توقع ہے کہ ایپل اپنے مشہور زمانہ آئی فون کے تازہ ترین ماڈل iPhone 14 کی مجموعی پیداوار کا لگ بھگ پانچ فیصد حصہ رواں برس کے آخر تک بھارت منتقل کر دے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی امکان ہے کہ 2025ع تک ایپل کا ہر چوتھا آئی فون بھارت ہی میں تیار شدہ ہوگا، جو چین کے بعد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور عالمی سطح پر موبائل فون کی دوسری سب سے بڑی منڈی بھی ہے

جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت ایپل کی آئی فون، میک بُک، آئی پیڈ، ایپل واچ اور ایئر پوڈز جیسی مصنوعات کا صرف پانچ فیصد حصہ ہی چین سے باہر تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن ان ماہرین کو اندازہ ہے کہ آج سے تقریباً تین سال بعد ان تمام مصنوعات کا قریب 25 فیصد چین سے باہر تیار کردہ ہوگا

واضح رہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کا شمار دنیا کے سب سے بڑے کاروباری اداروں میں ہوتا ہے اور اس کے صدر دفاتر امریکی ریاست کیلیفورنیا میں کُوپرٹینو میں ہیں۔ ایپل نے بھارت میں آئی فون کی اسمبلی لائن 2017ع میں شروع کی تھی

اس کے لیے ایپل نے پہلے تائیوان کی کمپنی وِسٹرون اور پھر تائیوان ہی کے فوکس کون گروپ کے ساتھ تعاون کیا تھا، کیونکہ ایسا کرنا اس کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی بھارت میں جدید ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینے کی پالیسی کے تحت لازمی ہو گیا تھا

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث کئی بڑے بڑے عالمی اداروں کے لیے اپنی سپلائی چَین کو دیگر ممالک میں منتقل کرنے کا عمل سست روی کا شکار ہو گیا تھا، لیکن اب ایپل سمیت کئی اداروں نے اپنی سپلائی چَین اور اسمبلی لائن کو چِین سے باہر منتقل کرنے کا عمل تیز تر کر دیا ہے

مستقبل قریب میں ایپل کے آئی فون سمیت اس کی تقریباً 25 فیصد مصنوعات کی بھارت میں تیاری سے متعلق یہ تجزیہ جے پی مورگن کے کاروباری ماہرین کی جس ٹیم نے کیا، اس کی سربراہی گوکُل ہری ہرن نامی تجزیہ کار نے کی

خیال رہے کہ ان کی طرف سے عالمی سطح پر کاروباری سرگرمیوں اور ترجیحات سے متعلق لگائے گئے ہر پانچ میں سے چار اندازے بالکل درست ثابت ہوتے ہیں

امریکی نیوز چینل بلومبرگ نے اسی ماہ کے اوائل میں بتایا تھا کہ بھارت کا بہت بڑا صنعتی گروپ ٹاٹا وِسٹرون کے ساتھ اس مقصد کے تحت کاروباری مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھا کہ بھارت میں آئی فون اسمبل کرنے کے لیے ایک ممکنہ مشترکہ صنعتی منصوبے کا حصہ بن سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close