Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ایک تصویر ، ایک کہانی (2)

By Akhtar Rasool
جولائی 1, 2020 2 Min Read
1

زيرِ نظر تصویر پشاور یونیورسٹی کے ھاسٹل کینٹین میں لی گئی تصویر ہے. ہم میزبانوں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں، جن کے ساتھ ہمارا پشاور ریڈیو اور مختلف اخبارات کے دفاتر کا وزٹ کا پروگرام طے تھا.

یہ بات ہے سن 1979 کی.. کراچی یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے آل پاکستان ٹوئر کے سلسلے میں پہلے ہم پشاور پہنچے تھے. ہمارے قیام کا انتظام پشاور یونیورسٹی کے ھاسٹل میں تھا. جب کہ ہمارے گروپ میں شامل لڑکیوں کو یونیورسٹی کے گرلز ھاسٹل میں تھہرایا گیا تھا.

ہمارے اس گروپ میں شامل طالبِ علموں کی اکثریت لیفٹسٹ تھی، جن کو عرفِ عام میں سُرخا کہا جاتا تھا. جب کہ کچھ اسٹوڈنٹ جمعیت کے بھی گروپ میں شامل تھے. اس لیے ہمارا گروپ ایک طرح سے دو انتہاؤں کا سنگم تھا. پورے ٹوئر میں لیفٹ اور رائیٹ کے بحث ہوتے رہے۔

اس تصویر میں سارے "لیفٹسٹ” نظر آرہے ہیں. بائیں سے پہلے نمبر پر عبداللہ بلوچ نظر آرہے ہیں، جو حال ہی میں بلوچستان کے کلچر ڈپارٹمینٹ سے ریٹائر ہوئے ہیں. زمانہء طالبِ علمی میں وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن BSO کے سرگرم رکن تھے. اجرک اوڑھے آپ کا بھائی، جو اس وقت نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن NSF کے ڈاکٹر رشید حسن گروپ میں تھا.

ساتھ میں نظر کا موٹے شیشوں والا چشمہ لگائے گلریز معجز بیٹھے ہیں. وہ اس وقت اسلام آباد میں ہوتے ہیں. یونیورسٹی میں اس نے مجھے گلو کے نام مشہور کردیا تھا. گلریز کے والد منصور معجز بی بی سی میں نیوز کاسٹر تھے. گلریز نے اس ٹوئر میں مجھے اسلام آباد میں قتیل شفائی کی شاعری کی کتاب "گجر” تحفے میں دی تھی، جو آج بھی میری لائبریری میں محفوظ ہے. جس پر گلریز نے لکھا تھا "گلو کی طرف سے، گلو کے لیے..”

اس کے ساتھ چترال گرم چشمہ علاقے کے رہنے والے کرم چترالی ہیں، اِن دنوں وہ بونی چترال میں ہیں اور آغا خان فائونڈیشن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں. کافی سوچنے کے باوجود ان کے ساتھ بیٹھے ساتھی کا نام مجھے یاد نہیں آرہا. پھر ہنستے مسکراتے غلام قادر گلگتی ہیں، جو اس وقت ریڈیو گلگت سے منسلک ہیں. اس کے ساتھ لگ کر بیٹھے اور اپنی ٹھوڑی ہتھیلی پر ٹکائے وھاب میمن ہیں، جو اس وقت ڈان گروپ سے وابستہ ہیں. سفید ٹوپی پہنے دوسرے اسلم بلوچ ہیں. جو بلوچستان حکومت میں کسٹم میں افسر تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد شاھ زمان ہیں، ہم اسے بدر منیر کہتے تھے. ان کا تعلق سوات سے ہے. وہ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ تھے۔
یہ ایک مہینے پر مبنی ایک یادگار اور بہت ہی خوبصورت ٹوئر تھا.

Tags:

Gul Hassan KalmattiKarachi UniversityPeshwar UniversityStoryStudents
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فطرت اپنا انتقام کبھی نہیں بھولتی

Next

پب جی پر پابندی کیوں..؟وہ باتیں، جن کا جاننا آپ کے لیے بہت ضروری ہے!

One Comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme