Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

virtual-pictures
کالماہم ترینتازہ ترین

ہمارے خالی ہاتھوں میں تصویریں بھی ورچوئل ہیں

By Akhtar Rasool
جنوری 2, 2024 3 Min Read
0

میرے دادا سات برس کے تھے، جب ان کے والد فوت ہوئے۔

طاعون تھا برصغیر میں، بہت زوروں کا۔۔ 1918 کا سن تھا اور کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس سے میت نہ اٹھی ہو۔ انہوں نے اپنے والد یعنی میرے پردادا کے بارے میں بہت کچھ لکھا، جو مجھے ان کی ڈائری سے پتا چلا۔

دادا کی چند تصویریں میرے پاس ہیں، اکثر سامان سیدھا کرتے ہوئے نکل آتی ہیں تو دیکھ لیتا ہوں۔

نانی جان کے والد کی تصویر بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ نانا کی جوانی کے زمانے کی تصویریں ہیں، ان کے روزنامچے ہیں۔ اس زمانے میں دستی کیمرا نیا آیا تھا تو خاندان کے بعض بزرگوں کی میت کا فوٹو بھی اچانک نکل آتا ہے، وہ خیر ایک پریشان کن معاملہ ہے، لیکن یہ کھاتے میں آپ کے سامنے کیوں کھولے بیٹھا ہوں۔

اس دن ایک فلم میں کہیں کوئی بزرگ سامنے موجود شخص سے بولے کہ لوگ آج کل کتنی زیادہ تصویریں لے رہے ہیں، سب کے پاس کیمرا ہے، اربوں کھربوں تصویریں روزانہ بنتی ہیں لیکن ان کا کوئی پرنٹ نہیں ہوتا، کوئی وجود نہیں ہوتا، یہ سب کیا ہے؟ صرف ڈیٹا؟ الیکٹرانک ڈسٹ؟ ہمارے بعد کوئی ہمیں کھوجنا چاہے تو اس کے پاس کیا ہوگا؟ ہم کون تھے، کہاں رہتے تھے؟ اسے کیا ہاتھ آئے گا۔

تو بس اتنی سی بات تھی، دل کو لگی، کہہ دی۔ سب ڈجیٹل تصویریں، جو روزانہ ہم بناتے ہیں، یہ انتہائی عجیب سی چیز ہیں، ایک دو بٹن غلط دب گئے تو میموری سے چٹی صاف۔ زیادہ محفوظ رکھنا ہے تو ڈیٹا کلاؤڈ پر بھیج دیں اور ساری عمر تاوان بھرتے رہیں۔

وہ البموں کا اب کوئی تصور ہی نئیں رہ گیا، جو سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر گھنٹوں دیکھے جا سکتے تھے۔

کمپیوٹر نیا نیا آیا تو جفی نے ڈیمی مور کی تصویریں دکھائیں۔ وہ ٹو ایٹ سکس کا زمانہ تھا۔ این سی ویور کے نام سے ایک سافٹ ویئر تھا، بڑی فلاپی ڈالنے کے بعد تصویر لوڈ ہوتے ہوئے تیس پینتیس سیکنڈ لگتے تھے۔

بہت عجیب سا لگتا تھا کہ واہ، اب اسکرین پہ بندہ مرضی کی تصویریں دیکھ سکے گا ورنہ تو رسالے ہی ہوا کرتے تھے۔ پھر اسکینر عام ہوئے تو دبادب گھر کی ساری پرانی تصویریں ہم لوگوں نے کمپیوٹر میں ’سیو‘ کرنا شروع کر دیں۔

فرق دیکھیں کہ اس وقت ہمیں لگتا تھا پرانی تصویریں کمپیوٹر پہ زیادہ محفوظ رہیں گی، اب محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کوئی اژدھا ہے، جو پرانی نئی سب یادوں کو کھا گیا ہے اور ’ھل من مزید‘ کے نعرے بھی مارتا جاتا ہے۔

پھر وہ جو ہاتھ سے لکھی چیزیں تھیں، آپ کو لگتا ہے کہ بیس تیس سال بعد یہ بچے ہاتھ سے لکھ بھی سکیں گے؟ میں اب بھی ایسے بچوں سے واقف ہوں، جو نام خدا بارہ تیرہ برس کے ہیں، لیکن کمپیوٹر پہ ٹائپ کر سکتے ہیں، ہاتھ سے لکھنا انہیں نہیں آتا۔

تو آخر آپ لوگ بھی کسی کے پردادا پرنانی ہوں گے کبھی، سوائے قبر والے کتبے کے، ان کے پاس آپ سے متعلق کیا چیز باقی پہنچ پائے گی؟ اور قبر بھی خیر پڑپوتے وغیرہ جاتے ہی کب ہیں۔

آپ نہ مانیں، لیکن میرا یقین ہے کہ ان سب باتوں سے وہ خلا بھرتا ہے، جو آج کی دنیا میں ننانوے فیصد لوگوں کے اندر ہے۔ آپ تعلق چاہتے ہیں، انسان وابستگی چاہتا ہے، جاننا چاہتا ہے ماضی کے بارے میں، اسے زندہ رہنے کے لیے ریلیونس چاہیے، وہ اب غائب ہوتی جا رہی ہے۔

تصویر ہاتھ میں تھامنا بھی، ایک نام نہاد سہی، لیکن تعلق ہوا کرتا تھا۔ کسی کی لکھی سودا سلف والی فہرست بھی جا کے پوچھیں تو کئی لوگوں نے دل سے لگائی ہوگی۔ وزیٹنگ کارڈ پرانے نکال کے دیکھ لیں، اگر کسی کے پاس ہوں، سو کہانیاں تھیں، ہزاروں لوگ تھے، وہ سب کہاں گیا؟

جتنے مرضی ڈجیٹل ہو جائیں، ایک زندگی اسکرین سے باہر ہے، جس میں اصل تعلق، یادیں، خواب، سکون، لمس اور وابستگی چاہیے۔ یہ سب ورچول نہیں ہو سکتا۔ اس کا حل سوچیں۔

حل بھی کیا سوچنا ہے، جگت لگا کر نکل جائیں کہ بابا جی آپ کی باتیں بھی ہم ادھری اسکرین پر سن/پڑھ رہے ہیں۔

حق ہے بھائی، خدا خوش رکھے!

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

10 lines on my daily routine1858 establishments in indiaarrival of british in indiaarrival of europeans in indiabritish colonies in indiabritish colonization of indiabritish conquest of india part 1british east india companyBritish Empirebritish imperialism in indiabritish imperialism of indiabritish in indiaBritish IndiaBritish Rajbritish rule in indiaclinical daily dairycolonization of indiaconquest of indiaconquest of india part 1daily dairydaily dairy kese bnayedairydairy dayaridairy farmDairy Milkdairy milk chocolateEast India Companyessay on my daily life in englishessay on my daily routineessay on my daily routine in englishextra credits conquest of indiahistory of ancient indiahistory of british indiaHistory of Indiahospital daily dairyhow british came to india in hindiin hindiIndiaIndian Historyindian subcontinentis dairy milk healthymanagement colleges in indiamodern history of india in hindimy daily lifemy daily routinemy daily routine essaymy daily routine essay in englishpandemic in indiaparagraph on my daily routinepartition of indiaplagueplague of justinianprovinces of british indiapunjab (british india)the british rule in india in englishtheprint hinditheprint indiawrite an essay on my daily routine
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
disease-can-be-prevented-by-lifestyle-changes
Previous

طرزِ زندگی میں تبدیلی سے 90 فیصد بیماروں سے بچاؤ ممکن: چوٹی کے ماہرِ غذائیت کا انٹرویو

languages-waiting-to-be-discovered-in-Pakistan
Next

کیا پاکستان میں نئی زبانیں دریافت کی منتظر ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme