Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

story-of-karachi-history-of-karachi-amar-jalil
کالماہم ترینتازہ ترین

کراچی کی باتیں

By Akhtar Rasool
فروری 16, 2024 5 Min Read
0

اللہ سائیں کے فضل و کرم سے ہم نے انگریز کو ہندوستان چھوڑ کر جانے سے پہلے برصغیر کے بٹوارے پر راضی کر لیا۔ انگریز نے ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ہندوستان کا بٹوارا کیا۔ اس طرح ہمیں پاکستان ملا، بلکہ ہم نے انگریز سے پاکستان حاصل کیا۔ انگریز کو برصغیر کے بٹوارے پر راضی کرنا کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں تھی۔ ہم نے بر صغیر کی تاریخ الٹ پلٹ کر رکھ دی۔ ایک موروثی مکان کے بٹوارے کی خاطر فیملی کے ارکان آپس میں لڑ پڑتے ہیں، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں، قتل و غارتگری پر اتر آتے ہیں۔ انیس سو سینتالیس میں تو ایک ملک کا بٹوارا ہوا تھا۔ برصغیر میں خوفناک فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔ ان فسادات میں ہم نے دل کھول کر جانوں کی قربانی دی۔ ہمارے آباو اجداد شہید ہوئے۔ ہندو اور سکھ جہنم رسید ہوئے۔ انیس سو سینتالیس میں لگی ہوئی آگ کی چنگاریاں برصغیر میں آج تک سلگ رہی ہیں۔ مروجہ حالات کے پیش نظر سلگتی ہوئی چنگاریاں قیامت تک سلگتی رہیں گی۔

ایک آزاد وطن کی خاطر ہم نے بے حساب قربانیاں دیں۔ ہم نے اپنا تاریخی ورثہ دیرینہ دشمن کے دیس میں چھوڑ دیا۔ ہمارے آباو اجداد نے یہ نیک کام اچھا نہیں کیا۔ تاج محل جیسا ورثہ ہم نے ہندوستان کے حوالے کر دیا۔ تب ٹیکنالوجی بہت ترقی کر چکی تھی۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد کی بات ہے، مصر میں اسوان ڈیم بنانے کے لئے یوینسکو کے تعاون سے فرعون کے دیوہیکل مجسمے اور منسلک عمارتیں اپنی اصلی جگہ سے اٹھاکر محفوظ جگہ منتقل کی گئی تھیں۔ دنیا بھر سے سیاح آج تک سائنس دانوں کا غیر معمولی کارنامہ دیکھنے کے لئے بہت بڑی تعداد میں مصر آتے رہتے ہیں۔ یونیکسو کی مدد سے ہم بھی تاج محل کراچی لا سکتے تھے۔ غیر ملکی سیاح لاکھوں کی تعداد میں تاج محل دیکھنے کے لئے ہندوستان آتے رہتے ہیں۔ ہندوستان کے خزانے بیرونی کرنسی ڈالر، پائونڈ اور یورو سے بھرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم تاج محل اٹھا کر کراچی لے آئے ہوتے، تو آج ہمارے خزانے ڈالر ، پائونڈ اور یورو سے کچھا کھچ بھرے ہوئے ہوتے۔ مگر ہمارے آباو اجداد نے ایسا نہیں کیا۔ اس بات کو پون صدی گزر چکی ہے۔ اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

بہرحال ہم نے اپنے لئے ایک آزاد وطن حاصل کر لیا۔ پاکستان مل جانے کے بعد ہم نے انگریزوں سے چن چن کر بدلہ لینے کی ٹھان لی۔ بدلہ لینے کا ہمارا طریقہ اہنسا پر مبنی تھا، یعنی بغیر جنگ و جدل اور خون خرابے کے غنیم اور حریف کو، یعنی دشمن کو نیست و نابود کرنا۔ وہ کام ہم نے بخوبی کیا۔ کراچی میں انگریز کے دور کی چند بچی کھچی عمارتوں میں سے ایک عمارت وکٹوریا میموریل کے نام سے بن کر تیار ہوئی تھی۔دیدہ زیب تھی وہ عمارت، آج تک ہے۔ انگریز کی اکثر بنائی ہوئی عمارتوں پر دو چیزیں نمایاں ہوتی تھیں، ایک گنبد اور دوسرے گھڑی، جس کو گھڑیال کہا جاتا تھا۔ انگریز کے دور میں صرف انگریز نے اینگلو اورینٹل عمارتیں نہیں بنوائی تھیں، کراچی کو دیدہ زیب بنانے میں پارسی اور ہندوئوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ فقیر کی رائے میں کراچی کی سب سے خوبصورت عمارت میونسپل کارپوریشن ڈی جے سائنس کالج، سندھ ہائی کورٹ اور ہندوجیم خانہ کی تھی، ہندو جیم خانہ بھی سیٹھ گوپال گوردھنداس موہاٹا نے بنوایا۔ جیم خانہ کے ساتھ کرکٹ گرائونڈ ہوتا تھا۔ اسی گرائونڈ پر جے نائومل کھیلتے تھے۔ جے نائومل انیس سو چھبیس کی آل انڈیا کرکٹ ٹیم کے لئے سلیکٹ یعنی منتخب ہوئے تھے۔ آج کل ہندو جیم خانہ گرائونڈ پر پولیس کے بے رونق اور بھدے سیکڑوں فلیٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ کراچی پولیس کی قبضہ گیری کی پہلی واردات ہے۔

تاریخ کا ایک طالب علم برنس روڈ کے اطراف وکٹوریا میموریل کے نام سے ایک دیدہ زیب عمارت کی کھوج میں لگ گیا۔ انگریز نے رانی وکٹوریا کی گولڈن جوبلی کے موقع پر رانی کے لئے دویادگار بنائی تھیں، ایک کلکتہ میں اور دوسری کراچی میں کراچی کے لئے ایک خوبصورت عمارت میوزیم کے لئے بنوائی تھی۔ میوزیم کی خوبصورت عمارت، جس پر ایک گنبد بھی بنا ہوا تھا، برنس روڈ کے قرب و جوار میں تھی، بلکہ آج تک اپنے جاہ وجلال سے اپنی جگہ موجود ہے۔ برنس روڈ کو بھائی لوگوں نے انگریز سے بدلہ لینے کے لئے غائب کر دیا۔برنس روڈ کو نیا نام محمد بن قاسم روڈ دیا۔ اب آپ وکٹوریا کی یاد میں بنا ہوا عظیم الشان میوزیم دیکھنے کے لئے برنس روڈ ڈھونڈتے پھریں۔ دیواروں سے سر ٹکرائیں، آپ کو نہ ملے گا برنس روڈ اور نہ ملے گا یادگار میوزیم۔۔ انگریز سے ہمیں بدلہ تو لینا تھا، اس لئے میوزیم کی بیش بہا نوادرات ہم نے نکال کر باہر پھینک دیے اور اس کی جگہ ہم نے کوئی سرکاری دفتر کھول دیا۔ اس کے بعد اس دیدہ زیب عمارت میں کئی دفاتر کھلے۔ آج کل وہاں سپریم کورٹ کی ذیلی عدالت کا دفتر کھلا ہوا ہے۔ وہاں پہنچنے کے لئے آپ کو برنس روڈ نہیں ملے گا۔ آپ کو وہاں پہنچنے کے لئے محمد بن قاسم روڈ سے آنا پڑے گا۔

سپریم کورٹ کے زیر استعمال عالیشان عمارت انگریز کے دور کی ان چند باقی بچ جانے والی عمارتوں میں سے ایک ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے ہمارے بدلے کی بھاوئوں سے محفوظ رہی ہیں۔ دوسری عمارتوں میں موہٹہ پیلس، سندھ اسمبلی، سندھ ہائی کورٹ ، کراچی میونسپل کارپوریشن، سینٹ پیٹرک اسکول، کراچی گرامر اسکول، بی وی ایس پارسی اسکول، ماما پارسی گرلز اسکول، گورنر ہائوس کراچی پورٹ ٹرسٹ، ہندو جیم خانہ جسے بھائی لوگوں نے کھنڈر بنادیا تھا، ازسر نو موہٹہ پیلس کی طرح خوبصورت بنایا گیا۔ پارسیوں کے ذاتی استعمال میں آنے والی عمارتیں اب تک تباہی سے بچی ہوئی ہیں۔ ورنہ بھائی لوگوں نے تو کراچی کی ایک شناخت بولٹن مارکیٹ کو سرے سے غائب کر دیا ہے۔ برنس روڈ، فرئیر روڈ، جمشید روڈ، صدر کے چپے چپے پر انگریز، پارسی، اور ہندوئوں کی لاجواب عمارتیں ہم نے اجاڑ کر رکھ دی ہیں۔ حشر نشر کی کہانیاں جاری رہیں گی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

#amar#amarjalil#tributetoamarjalilaligarhamajalilamar jaleelamar jaleel interviewamar jaleel latestamar jaleel speechamar jaleel videoAmar Jalilamar jalil quotes in urduamar zaleelamar zalilamarjaleelBritishbritish colonialism in indiabritish colonies in indiabritish colonization of indiabritish east india companybritish east india compnayBritish Empirebritish imperialism of indiaBritish Indiabritish india musicbritish raj in indiabritish rule of indiacondolence reference for historian gul hassan kalmatidocumentary of karachiEast India Companyfans of amar jaleelfans of amar jalilfrere hall karachi historyghul hasan kalmatigul hasan kalmatigul hasan kalmati balochgul hassan kalmatigul hassan kalmati bahria towngul hassan kalmati biographygul hassan kalmati deathgul hassan kalmati speechgul hassan kalmati wafatGul Hassan Kalmattigull hasan kalmatigull hassan kalmatihistory karachihistory of british indiahistory of frere hall karachiHistory of IndiaHistory of Karachihistory of karachi 4khistory of karachi cityhistory of karachi in hindihistory of karachi in urduhistory of karachi pakistanhistory of mqmhistory of pakistanhow did the british take indiaIndiaIndianIndian HistoryKalmatiKarachikarachi cityKarachi Historykarachi history in urdukarachi ka hero gul hassan kalmatikarachi literature festivalkarachi pakistanMuhammad Ali JinnahOld Karachisardar shah on gul hassan kalmatishafaat history of karachistory of karachistory of pakistantribute to historian gul hassan kalmati |2023why did the british control indiawhy did the british own india
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Flooding-in-Libya-due-to-groundwater-release
Previous

پراسرار اور انوکھی صورتحال، لیبیا میں زیرِ زمین پانی کے اخراج سے سیلاب

Racism-and-Everyday-Life
Next

نسل پرستی اور روزمرہ کی زندگی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme