Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

urdu-fictions-urdu-hindi-stories
ادباہم ترینتازہ ترین

بادِ نو بہار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

By Akhtar Rasool
فروری 23, 2024 3 Min Read
0

اس نے دیکھا کہ جن حویلیوں کے در دیمک کھا گئی، ان کی خستہ اینٹوں سے نئی کونپلیں جنم لے رہی تھی۔برسوں پہلے جہاں صور پھونک دیا گیا تھا، وہاں سے قلقاریوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ بے رنگ دریچوں پر لٹکے پھٹے ہوئے پردوں کے پیچھے سے جو اداس آنکھیں جھانکتی تھیں، ان آنکھوں میں شوخی بھری تھی۔

اس ویرانی کی جگہ نئے خواب تھے۔ اس کے محلے کی وہ بیوہ جس کو اس نے برسوں دودھ رنگ چادر اوڑھے دیکھا تھا، اس کی مانگ میں بھی ستارے چمک رہے تھے۔ مسلسل کالی گھٹاؤں کے بعد سنہری دھوپ نے شہر کا نقشہ ہی بدل دیا۔

برسوں بعد اس پینتیس سالہ بوڑھے کی آج نہ تو سانس پھول رہی تھی اور نہ ہی کھانسی کا دورہ پڑ رہا تھا۔ وہ شہر کے زنگ آلود تالوں کی جگہ لٹکی خوش رنگ بیلوں کو ہاتھ لگا لگا کر بچوں کی طرح خوش ہو رہا تھا۔ وہ اپنی ترنگ میں بھاگتا زندگی کو محسوس کر رہا تھا۔

چند بڑی عمارتوں میں سے وہ مکروہ چہرے بھی جھانکتے نظر آئے، جن کے خلاف وہ قلم اٹھاتا تو اسے ہاتھ توڑ دینے کی دھمکیاں ملتیں۔ آج یوں لگ رہا تھا، جیسے وہ اس کے سچ لکھنے کی وجہ سے اس کے شکر گزار ہوں کہ اس نے انہیں آئینہ دکھایا اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں۔

اس کے ساتھی لکھاری، جو ان ’بڑے‘ لوگوں کی چمچہ گیری کے سوا کچھ نہ لکھتے تھے، آج اس پر ہنس نہیں رہے تھے بلکہ اس کی تحریروں کو سراہتے ہوئے اس سے بغلگیر ہونے لگے۔

عصر کے قریب وہ قبرستان پہنچا۔ جن لاوارث قبروں پر کوئی فاتحہ پڑھنے والا نہ تھا، ان پر بھی اب کے بارش نے رنگ برنگے پھول کھلا دیے تھے۔

آج شام کو جلسہ تھا۔ بابا کی قبر پر فاتحہ پڑھ کے وہ جلدی سے گھر پہنچا۔ اس نے ماں کا ماتھا چوما، جس کی پتھرائی آنکھیں نجانے کب سے اس کی منتظر تھیں۔معلوم نہیں کتنے عرصے بعد اس نے ماں کی مسکراہٹ دیکھی۔ اس نے اس سکون کو چند لمحے محسوس کیا اور اپنے کمرے میں گھس گیا۔ اپنا اکلوتا سفید جوڑا استری کیا اور جلسے میں جا پہنچا۔ وہاں اس کے بہت سے لاپتہ ساتھی موجود تھے، سب کے چہرے پہ زندگی تھی۔

جلسہ گاہ کی رونق اور گہما گہمی کو نعروں کی گونج سے چار چاند لگے ہوئے تھے۔ نعروں کا شور تھما تو صاحب ِعالم نے تقریر شروع کی۔فرمانے لگے، ”نظامِ بدل گیا ہے۔۔ اب سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے پر کوئی پابندی نہیں۔ ہمارے شہر میں اب کسی کو زہر کا پیالہ نہیں دیا جائے گا۔ کوئی سچ بولنے والا سولی نہیں چڑھے گا۔۔۔ صرف جھوٹ کا سر قلم کیا جائے گا۔۔ آئندہ کوئی خیر خواہ باغی نہیں کہلائے گا۔۔۔۔“

وہ ابھی بول رہے تھے کہ عوام نے دوبارہ جوش میں آ کر نعرے لگانا شروع کر دئیے۔ ”صاحبِ عالم۔۔۔۔ زندہ باد! صاحبِ عالم۔۔۔۔ زندہ باد!“

اس نے بھی اپنا بازو زور سے ہوا میں لہرایا اور زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ اچانک ایک کراہ کے ساتھ اس کی آنکھ کھلی۔ اس کا بازو کال کوٹھری کی بدرنگ دیوار کے ساتھ زور سے ٹکرایا۔ معلوم نہیں رات کا کون سا پہر تھا۔ کمرے کے باسی ماحول میں موجود گھٹن سے اس کی سانس بند ہونے لگی۔ اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑا۔ داروغہ کی نیند میں خلل پڑا تو اسے موٹی سی گالی سے نوازتے ہوئے بولا: ”یہ لکھاری سالا۔۔۔پھانسی سے پہلے کھانسی سے مر جائے گا۔“

Tags:

#urdu romantic storiesbedtime storiesbest novel of imran seriesbest urdu storieshindi storiesimran series urdu storymoral storiesmoral stories for kidsshort moral storiesShort Storiesshort stories in englishshort stories in urduStoriesstories for kids in urdustories in hindistories in urduurdu fairy tales new stories 2017urdu fairy tales new stories 2018urdu fairy tales storiesUrdu Storiesurdu stories for kidsUrdu Story
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
kotdeji-sindh-heritage-history-mir-of-sindh
Previous

’کوٹ ڈیجی‘ حیرت کدہ بھی، عبرت کدہ بھی

cotton-candy-ban-in-india
Next

کینسر کا خطرہ۔۔ انڈیا کی کچھ ریاستوں میں کاٹن کینڈی / لچھے پر پابندی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme