مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بیانات اور دعوؤں کا تبادلہ تیزی اختیار کر گیا ہے

سنگت ڈیسک

ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر، خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو پیغام میں ایک سخت اور معنی خیز بیان جاری کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکہ کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے اشارے واضح طور پر واشنگٹن کی جانب تھے۔

ذوالفقاری نے کہا کہ کوئی بھی طاقت اپنی ناکامی کو “معاہدہ” کا نام دے کر حقیقت کو نہیں بدل سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بعض قوتیں اپنے اندرونی اختلافات میں اس حد تک الجھ چکی ہیں کہ وہ خود سے ہی مذاکرات کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام کسی بیرونی قوت کے بجائے ایران کی عسکری طاقت کے ذریعے برقرار رکھا جاتا ہے، اور یہی طاقت توازن کو یقینی بناتی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کسی دباؤ میں آ کر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے بقول، “ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے نہ پہلے کبھی جھکے ہیں اور نہ آئندہ جھکیں گے۔” یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی کوششوں اور ممکنہ معاہدوں کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔

دوسری جانب، اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ حملے ان مقامات پر کیے گئے جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل تیار کیے جا رہے تھے۔

آئی ڈی ایف کے بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ان تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور یہ حملے ایران کے فوجی پیداواری ڈھانچے کو کمزور کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ میزائل سمندر اور زمین دونوں پر تیزی سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، جو اس کے لیے ایک بڑا سکیورٹی خطرہ تھے۔

ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اگرچہ کسی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی، تاہم امریکی اور اسرائیلی میڈیا میں ایک مبینہ 15 نکاتی منصوبے کا ذکر کیا جا رہا ہے، جسے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت شرائط شامل ہیں۔ ان میں نطنز، اصفہان اور فردو میں موجود تنصیبات کو غیر فعال کرنا شامل ہے۔ مزید یہ کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی مکمل نگرانی اور شفاف معائنہ بھی اس کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت بند کرے، یورینیم کی افزودگی ترک کرے، اور اپنے موجودہ جوہری ذخائر ختم کرے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو ایک آزاد بحری راستہ قرار دینے کی شرط بھی شامل ہے۔

دوسری طرف، اس منصوبے میں ایران کو کچھ مراعات دینے کی بات بھی کی جا رہی ہے، جن میں جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے لیے تعاون، پابندیوں کا خاتمہ، اور معاشی دباؤ میں کمی شامل ہیں۔ کچھ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے دوران ایک عارضی جنگ بندی پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ صورتحال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سفارتی کوششوں اور عسکری بیانات کا ایک پیچیدہ امتزاج پیش کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ بیانات کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ہیں یا کسی ممکنہ معاہدے کی بنیاد۔


یہ بھی پڑھیں

ٹرمپ پالیسیوں کے بعد خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی پر سوالات، دبئی اور قطر کا ’محفوظ جنت‘ کا تصور متاثر

ایران جنگ کے اخراجات میں اضافہ، پینٹاگون کا وائٹ ہاؤس سے 200 ارب ڈالر سے زائد فنڈز کا مطالبہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button