
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران(Iran) کے خلاف جاری عسکری کارروائی کے تناظر میں ایک نئی اور انتہائی سخت مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے واشنگٹن کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو آئندہ حملوں کی لہر غیر معمولی حد تک شدید ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کا عمل ایک مقررہ وقت پر شروع کیا جا سکتا ہے اور چند گھنٹوں میں اہم تنصیبات کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی بلا رکاوٹ ترسیل ایک بنیادی شرط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اگر بڑے پیمانے پر تباہی سے بچنا چاہتا ہے تو اسے ایسا معاہدہ کرنا ہوگا جو واشنگٹن کے لیے قابل قبول ہو۔
ایران کا جواب: جنگ بندی سے انکار، مستقل حل کا مطالبہ
ایرانی حکام نے عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے پابندیوں کے خاتمے اور تنازع کے مستقل حل کی ضمانت ضروری ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے اپنی سفارشات تیار کر کے سفارتی ذرائع سے آگے بڑھانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جن پر قیادت نے تفصیلی غور کے بعد اتفاق کیا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مواصلاتی رکاوٹیں بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، جس کے باعث پیغامات کے تبادلے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ایک علاقائی ذریعے کے مطابق بامعنی پیش رفت کے لیے پہلے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔
پاکستان، ترکی اور مصر سمیت چند ممالک پسِ پردہ ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
دباؤ میں واشنگٹن: ساکھ، قانون اور عسکری حدود
مہلت کے اختتام کے قریب آتے ہی امریکی قیادت ایک نازک مرحلے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو مہلت میں توسیع کی جا سکتی ہے، تاہم سخت بیانات کے بعد پسپائی سیاسی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر نے اپنی حالیہ پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ ایران عسکری لحاظ سے کمزور پوزیشن میں ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آبنائے ہرمز میں محدود کارروائی بھی عالمی منڈیوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون، میزائل یا بارودی سرنگوں کے ذریعے سمندری گزرگاہ کو متاثر کرنے کی صلاحیت خطے میں طاقت کے توازن کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہری انفراسٹرکچر کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا تو اسے جنگی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی کارروائیاں مخصوص عسکری اہداف تک محدود ہیں، تاہم تنقید کرنے والے اسے خطرناک حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی فوجی کمان کے مطابق کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہے اور متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، مگر خود واشنگٹن میں بھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ طویل المدتی نتائج کیا ہوں گے اور تعمیر نو کی ذمہ داری کس پر آئے گی۔
کیا کوئی معاہدہ قریب ہے؟
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا اور ایک فریق سنجیدہ بات چیت کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ تاہم تفصیلات خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یا تو پسِ پردہ بات چیت توقع سے زیادہ آگے بڑھ چکی ہے یا پھر یہ دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ خطہ مزید کشیدگی کی طرف جاتا ہے یا سفارت کاری کوئی درمیانی راستہ نکال لیتی ہے۔ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں اور خطے کا امن اس وقت اسی فیصلے سے وابستہ ہیں۔




