
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ اور ایران ایک بار پھر براہِ راست محاذ آرائی کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے خلیجی پانیوں میں ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ تہران نے اس کارروائی کو "مسلح بحری قزاقی” اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ ان کے بقول اس اہم گزرگاہ سے کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی، اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پارلیمان میں ایک ایسا بل پیش کیا جا رہا ہے جو آئین کے آرٹیکل 110 کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ قانون میں ماحولیاتی تحفظ، بحری سلامتی اور قومی دفاع جیسے پہلو شامل ہوں گے اور اس پر عمل درآمد مسلح افواج کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا۔
آبنائے ہرمز بطور “اسٹریٹجک دباؤ”
عزیزی کے مطابق حالیہ جنگی صورتحال نے ایران کو ایک ایسا عنصر فراہم کیا ہے جسے وہ مؤثر دباؤ کے آلے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز دشمن کے مقابلے میں ایران کے اہم اثاثوں میں سے ایک ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تہران اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول کو صرف موجودہ بحران تک محدود نہیں سمجھ رہا بلکہ اسے طویل المدتی اثر و رسوخ کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔
امریکی مؤقف: ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر کارروائی
امریکی صدر کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایرانی کارگو جہاز نے امریکی بحری انتباہات کو نظر انداز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر USS Spruance نے جہاز کو روکنے کے لیے اس کے انجن روم کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکی اہلکار جہاز پر سوار ہوئے اور اسے تحویل میں لے لیا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جو حالیہ کشیدگی کے تناظر میں نافذ کی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز میں موجود سامان کی تلاشی اور جانچ جاری ہے۔
ایرانی ردعمل: “مسلح قزاقی” اور جوابی کارروائی کا اعلان
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدام کو سخت الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیاکے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج جلد اس اقدام کا جواب دیں گی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے آٹھ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی بھی پاسداری نہیں کی۔ تہران کے مطابق یہ اقدام کھلے سمندر میں طاقت کے استعمال کی ایک مثال ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں حالات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث اس راستے پر جہاز رانی شدید متاثر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے چند روز قبل اس گزرگاہ کو عارضی طور پر کھولا تھا، تاہم بعد میں دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
امریکہ کا الزام ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سمندری راستوں میں حملے کیے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحت اقدامات کر رہا ہے۔
-
بِئر طویل: ایک سرحدی معمہ اور حقیقت و افسانے کے درمیان ایک زمین
-
پاکستان ایران اور امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سرگرم
سفارت کاری یا تضاد؟ ایرانی سفیر کا ردعمل
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بالواسطہ طور پر امریکی پالیسیوں پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، ناکہ بندیوں میں شدت اور مزید کارروائی کی دھمکیوں کے ساتھ “سفارت کاری” کا دعویٰ کرنا قول و فعل میں تضاد ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتی ہے۔
خطے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور تجارتی بے یقینی کا باعث بن سکتی ہے۔
فی الحال دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کو محدود رکھنے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ آنے والے دن اس تنازع کے رخ کا تعین کریں گے کہ آیا معاملہ مزید بگڑتا ہے یا سفارتی راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔




