دو افسانچے

عومر درویش

پِنک اسکوٹی

وہ گھر کے صحن میں چارپائی پر سر جھکائے بیٹھا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہو۔ قصبے کی جامع مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز ابھرتی ہے اور فضا میں پھیل جاتی ہے۔ وہ کلائی گھما کر بے دلی سے اپنی گھڑی کی طرف دیکھتا ہے، اور پھر سر اٹھا کر ادھر اُدھر تکنے لگتا ہے۔

کچھ دیر بعد اس کا بیٹا گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوتا ہے۔ اسے دیکھتے ہی وہیں بیٹھے بیٹھے اس کے منہ سے کوسنے پھوٹنے لگتے ہیں۔

وہ بیٹے کو لعنت ملامت کرتے ہوئے بلند آواز میں کہتا ہے: ”کچھ دن اپنی غیرت ایک طرف رکھ لیتے تو کیا ہو جاتا؟ آج ہمارے حصے میں بھی ایک پِنک اسکوٹی تو آ جاتی۔“

________________

پیش امام ( افسانہ)

جب اس نے ایک دینی مدرسے سے قرآن حفظ کر لیا۔ حفظ کے ساتھ اس نے مدرسے سے دنیاوی تعلیم کے ساتھ عالم کے بھی کچھ کورس کر لیے تھے۔ آخری دنوں میں اسے مدرسے کے معلم نے آگاہ کیا کہ ہمارے مدرسے کے زیرِ انتظام ایک مسجد تعمیر ہو رہی ہے، آپ کو وہاں پیش امام کے طور پر مدرسے کی انتظامیہ بیجھنا چاہتی ہے۔ مسجد تکمیل کے مراحل میں ہے۔

یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا، استاد سے اس نے گھر جانے کی اجازت مانگی۔ استاد نے اس اجازت دے دی۔

کچھ ماہ بعد اسے فون کر کے بتایا گیا آپ متعلقہ مسجد چلے جائیں اور پیش امام کے فرائض انجام دیں۔

جب وہ وہاں پہنچا تو ایک خوبصورت مسجد ایک نئی زیر تعمیر سوسائٹی میں تھی۔ ابھی بہت سارے پلاٹ خالی تھے۔ اس سوسائٹی میں کم ہی خاندان رہائش پذیر تھے۔ مسجد کی چار دیواری میں ہی اسے رہائش کے لیے ایک کمرہ بھی دیا گیا۔ کچھ وقت کے بعد وہ سب لوگوں سے مانوس ہوا اور اجنبیت کی دیوار نہ رہی۔

ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ یہاں ایک جگہ خریدی جائے اور یہیں پر اپنا گھر بنایا جائے۔ ایک دن سوسائٹی کے یونین کے آفیس گیا، وہاں کے ایڈمنسٹریشن سے بات کی، پلاٹ انتہائی سستے تھے۔ انتظامیہ نے کہا کہ پلاٹ تو بہت ہیں جہاں آپ پسند کریں. اس نے مسجد کے نزدیک ہی ایک پلاٹ پسند کیا۔

انتظامیہ نے کہا کہ آپ ہمیں کچھ وقت دیں تا کہ آپ کے پلاٹ کے کاغذات مکمل ہو جائیں۔

کچھ دنوں بعد جب اسے کاغذات دیے گئے۔۔ صرف ایک نقشہ اور اس میں پلاٹ نمبر اور کچھ نہیں ۔ جب اس نے کہا کہ زمین کا سروے نمبر۔ پلاٹ کے لیز ڈاکیومنٹس، اداروں سے تصدیق شدہ کاغذات، وہ کہاں ہیں؟ تو ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

پیش امام نے کہا کہ اور مسجد کی زمین۔۔؟

ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ اللہ کی زمین ہے اور اللہ کا گھر۔۔ اللہ کے گھر کے لیے کون سے کاغذات۔

پیش امام نے بد دلی سے کہا مجھے سوچنے کے لیے کچھ وقت دیں۔ اور آفس سے نکل کر مسجد کی طرف روانہ ہوا۔

ابھی ظہر کی نماز کو کافی وقت تھا۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا۔ موبائل چارجر اس نے پلگ سے نکال کر بیگ میں ڈالا، کچھ ہینگر سے کپڑے اتار کر اس نے بیگ میں ڈال دیئے اور بیگ کا سرہانہ بنا کر لیٹ گیا اور چھت کو گھورنے لگا۔

________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button