
خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جزیرہ قشم اور بندرعباس میں رات گئے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جنہوں نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان بحری محاذ پر بیانات اور جوابی بیانات کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔
قشم اور بندرعباس میں دھماکوں کی اطلاعات
مقامی سوشل میڈیا ذرائع اور علاقائی ٹیلیگرام چینلز کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب متعدد شہریوں نے شدید دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے لرز اٹھے۔
چشم دید گواہوں کے مطابق یہ آوازیں ماضی میں ایران اور امریکہ یا اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران سنے جانے والے دھماکوں سے مشابہ تھیں۔ تاہم سرکاری سطح پر فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت یا مقام کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
جزیرہ قشم اور بندرعباس ایران کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ علاقے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ کسی بھی غیر معمولی واقعے کی خبر نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
امریکی کارروائی اور ایرانی تردید
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنانے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ بے بنیاد ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی کارروائی میں پاسدارانِ انقلاب کی کسی بھی جنگی کشتی کو نقصان نہیں پہنچا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل عمان کے ساحل کے قریب خُصَب سے ایران کی جانب جانے والی دو چھوٹی سامان بردار کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں عام شہری سوار تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکہ کے صدر (Donald Trump) ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کی سات فوجی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے بیان کے مطابق اس کارروائی میں ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔ تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے "جھوٹا دعویٰ” قرار دیا ہے۔
یہ متضاد بیانات خطے میں معلوماتی جنگ (information warfare) کی ایک اور مثال سمجھے جا رہے ہیں، جہاں ہر فریق اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔
آبنائے ہرمز اور ’پروجیکٹ فریڈم‘
امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ایک اقدام کو "پروجیکٹ فریڈم” کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم برطانوی تھنک ٹینک Chatham House سے وابستہ ماہرین نے اس منصوبے کو خطرناک قرار دیا ہے۔
بحری سلامتی کے امور پر تحقیق کرنے والی نیتیا لیب کا کہنا ہے کہ موجودہ اقدامات کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اس وقت ایسے حالات میں جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل کا خطرہ برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عسکری تحفظ کے ذریعے کچھ جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکتا ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس آبی گزرگاہ میں پائیدار استحکام کے لیے وسیع سفارتی کوششوں اور علاقائی شراکت داری کی ضرورت ہے۔
ایران کا ردعمل: ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘
ایران کے وزیر خارجہ (Abbas Araghchi) عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاسی بحرانوں کا عسکری حل ممکن نہیں۔
انہوں نے امریکی منصوبے کو "پروجیکٹ فریڈم” کے بجائے "پروجیکٹ ڈیڈلاک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکمت عملی خطے کو مزید پیچیدگیوں میں دھکیل سکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سفارتی محاذ پر بھی سرگرم ہے اور خطے میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت
اسی تناظر میں عالمی شپنگ کمپنی مرسک نے تصدیق کی ہے کہ اس کا ایک امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز امریکی فوجی حفاظت میں کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزر گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق جہاز اور اس کا عملہ محفوظ ہیں اور سفر بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے مکمل ہوا۔
مرسک کا کہنا ہے کہ یہ جہاز کشیدگی کے آغاز کے بعد سے خلیج میں موجود تھا اور بعد ازاں ایک جامع سکیورٹی پلان کے تحت اسے امریکی فوجی اثاثوں کی نگرانی میں باہر نکالا گیا۔
امریکی سینٹرل کمان نے بھی دعویٰ کیا کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔
خطے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ کسی بھی قسم کی عسکری جھڑپ یا کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، شپنگ انشورنس کے نرخوں میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں خلیجی ممالک، یورپ اور ایشیا کی معیشتیں براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔
سفارتی راستہ یا عسکری تصادم؟
موجودہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں ممالک بیانات کی جنگ میں مصروف ہیں، مگر مکمل عسکری تصادم سے گریز بھی چاہتے ہیں۔ ایک طرف امریکہ تجارتی جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بات کر رہا ہے، تو دوسری جانب ایران اسے اشتعال انگیزی قرار دے رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ اگر مذاکرات کا دروازہ بند ہوا تو معمولی واقعہ بھی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
فی الحال قشم اور بندرعباس میں سنے گئے دھماکوں کی مکمل حقیقت سامنے نہیں آئی، تاہم یہ واضح ہے کہ خلیج کے پانیوں میں جاری تناؤ عالمی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں صورتحال کس رخ اختیار کرتی ہے، اس کا انحصار سفارتی حکمت عملی، عسکری احتیاط اور علاقائی تعاون پر ہوگا۔
______________________




