سنگت گل حسن کلمتی
گل حسن کلمتی کراچی کی پہچان تھے یا کراچی ان کی پہچان تھی؟ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ وہ دونوں لازم و ملزوم بن چکے تھے۔۔ جہاں ایک کا نام آتا، وہاں دوسرے کا نام بھی لازماً آ جاتا۔ گل حسن کلمتی اپنے لئے ’جپسی‘ کا نام استعمال کرتے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ سفر…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 8)
”میرے دوست؛ قدیم دور میں میرے اس بالائی خطے میں پل (برج) نہ تھے۔ مسافر، مقامی لوگ اور جانور تیر کر یا پیدل ہی مجھے عبور کرتے تھے۔ پھسلتے پتھروں اور تند و تیز لہروں میں مجھے پار کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ خچر، یاک اور ٹٹو طاقت ور تیراک ہیں۔ آدمی ان کی…
پرانا ملیر: خان بہادر اللہ بخش گبول اور سیاست (حصہ دوم)
خانبہادر اللہ بخش خان گبول ۱۸۹۶ میں اللہ بخش خان گبول گوٹھ، دیھ فہائی، ضلع ملیر میں خداداد خان کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام صدگنج تھا۔ دیھ فہائی ملیر کا ایک دور افتادہ گاؤں ہے۔ اُس وقت اس گاؤں میں کوئی اسکول وغیرہ نہیں تھا۔ خداداد خان گبول…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 7)
”وہ شخص جو برہما پتر اور میرے منبع دریافت کرنے کا پختہ عزم لے کر یہاں آیا سویڈش سیاح ’سیون ہیڈن‘ تھا جو 1907 ء میں مانسرور پہنچا۔ وہ لکھتا ہے؛ ’جھیل مانسرور کی سطح گنبد کی طرح ہے جس کی سنہری ریت پر ایک بڑا درخت اگا ہے جس پرسادھوؤں کے بے شمار سنہرے…
ایک عوامی دانشور، گل حسن کلمتی
گل حسن کلمتی سے میری شناسائی 1980ع کی دہائی کے اوائل میں ہوئی، جب میں کراچی میں کالج کا طالب علم تھا۔ ترقی پسند طلبہ کی سیاست میں سرگرم ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ہم تقریباً ہر ایک کو جانتے تھے- یا اس کے بارے میں سنا تھا، جس نے جنرل ضیاء کی فوجی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 6)
چلو میں اپنی کہانی آگے بڑھاتا ہوں، ”دارا پہلا بادشاہ تھا جس نے میرے منبع کی تلاش میں اپنے سالار ’اسکا لکس‘ کو بھیجا۔ پہلا یونانی ’کنیشاس‘ تھا جس نے ایرانیوں کو میرے بارے معلومات فراہم کیں۔ سکندر کے مورخین میں ’ٹالمی، آریان، سواٹر، نیرچس‘ وغیرہ نے مجھ پر…
پرانا ملیر: ۱۹۹۹ میں لکھی گئی ایک تحریر (حصہ اول)
جو ملیر ہم نے دیکھا، اُس کا تو اِس وقت نام و نشان تک نہیں رہا اور اپنے آباؤ اجداد سے جو سنا، وہ تو صرف دیو اور پریوں کی دیس جیسی کہانی لگتی ہے۔۔ البتہ اگر ملیر ندی کے کناروں سے سفر کا آغاز کیا جائے، ابتدا ڈفینس سوسائٹی کی عالیشان عمارتوں سے کی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 5)
دو دہائیوں بعد مجھے اس کی زندگی پر لکھنے کا شوق پیدا ہوا تو میں پھر اس کے پاس چلا آیا ہوں۔ کئی سالوں کی غیرحاضری کا شکوہ کر کے بولا ”کیسے آئے ہو اتنی مدت کے بعد کہاں تھے تم؟“ میں نے جواب دیا؛ ”دوست! تمھاری کہانی لکھنے کو دل چاہا تو تمھارے پاس…