ستیش کوشک کی کہانی: مسٹر انڈیا میں ’کیلنڈر‘ کا کردار اور جنرل ضیا الحق!
ممبئی میں ٹیکسٹائل مل اور مل میں ملازمت کا پہلا دن۔ پہلے دن کا کام خاک آلود کمرے کو جھاڑنا اور صاف کرنا تھا۔ جس شخص کو یہ کام کرنا تھا، وہ ملک کے مشہور نیشنل اسکول آف ڈرامہ کا پاس آؤٹ تھے اور انہوں نے ایف ٹی آئی آئی پونے میں ٹریننگ بھی لی…
یہاں بس سفید ہاتھی ہی پل سکتے ہیں
جب کسی درباری کو سزا دینا یا سبق سکھانا مقصود ہوتا تو اگلے وقتوں کے بادشاہ اس درباری کو تحفتاً ہاتھی بخش دیتے۔ اب یہ درباری کا فرض تھا کہ نہ صرف شاہ کے بخشے ہاتھی کو کسی بیماری یا حادثے میں مرنے نہ دے بلکہ اسی طرح خوش و خرم موٹا تازہ رکھے، جس…
ڈاکٹر اجمل ساوند کو مرنا ہی تھا
نیٹ فلیکس کی ڈاکومینٹری ’ہماری کائنات‘ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ آسٹریلیا کی گریٹ بیرئیر ریف کے طویل سفید ریتلے ساحل پر سبز دھاری دار کچھوے ہزاروں کی تعداد میں ایک مخصوص موسم میں خونی مچھلیوں اور شکاری پرندوں سے بچتے بچاتے آتے ہیں اور ہزاروں انڈے ریت میں…
آٹا مہنگا، خودی سستی
بچپن سے ایک جھوٹ اتنی مرتبہ سنا ہے کہ اس پر یقین سا آ چلا تھا۔ وہ یہ کہ پاکستان میں رات کو کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ زمین زرخیز ہے لوگ ایک دوسرے کے اتنا قریب رہتے ہیں کہ جو دال دلیہ ہو وہ آپس میں بانٹ لیتے ہیں ایک بزرگ نے ایک دفعہ یہ…
’انسرٹین زون‘: پراسراریت میں لپٹا انسانی دماغ کا وہ حصہ، جو سائنسدانوں کے لیے آج بھی ایک معمہ ہے
انسانی دماغ طاقت کے ساتھ ساتھ پراسراریت بھی رکھتا ہے۔ دماغ کا وزن قریب ڈیڑھ کلو گرام ہوتا ہے مگر اس میں لگ بھگ 8600 کروڑ نیوران اس کی باہری تہہ، جسے ’گرے میٹر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، بناتے ہیں۔ یہ تعداد کائنات میں موجود ستاروں جتنی ہے نیوران ایک دوسرے…
آپ سے نہیں ہوتا تو ہم عوام پر چھوڑ دیں
پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں سے سیاسی معاملات میں متنازع، ڈرامائی، افسانوی، ضرورت، وابستگی اور ترجیحات پہ مبنی فیصلے آتے رہے عدلیہ میں کئی ایسے ججز آئے جنہوں نے آئین کے برخلاف فیصلے دیے، کچھ ججز کے فیصلوں کو وسیع تر ذاتی مفاد لے ڈوبا،…
ان کی سنیے، جو سن نہیں سکتے۔۔
لاہور کے نواحی علاقے شاہدرہ میں ایک چھوٹی سی ماربل فیکٹری تھی، جس میں دس مزدور کام کیا کرتے تھے۔ وہ پتھر کی سلوں کو کاٹنے کے لیے بجلی پر چلنے والا مضبوط لوہے کا کٹر استعمال کر رہے تھے۔ اس کٹر کے چلنے سے گھن گرج والا بہت اونچا شور پیدا ہوتا تھا اور…
کراچی ؛ ماضی ، حال اور مستقبل (آخری حصہ)
جنرل مشرف کے عرصہ اقتدار کے دوران 2000 کی دہائی میں شہر کے جدید انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا اضافہ ہوا۔ انفرااسٹرکچر میں سڑکیں، بالائی پل اور زیر زمین گزرگاہیں شامل تھیں۔ آبادی کے ایک اور ریلے نے شہر پر یلغار کی جب اندرونی طور پر بے گھر…