گونگلو اور ہمارے لال بھجکڑ
’’گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا‘‘ پنجاب کے بارہ کروڑ لوگوں کو اس کا مطلب سمجھانے کی ضرورت نہیں اور بقیہ جن دس کروڑ پاکستانیوں کو اس محاورے کا پس منظر نہیں معلوم، وہ ان بارہ کروڑ سے پوچھ لیں، جنہیں معلوم ہے۔ ورنہ کسی بھی ریاستی عمل دار سے جان لیں، جو پچھتر برس…
’گوادر کے عوام کہیں اپنے ہی علاقے میں اقلیت بن کر نہ رہ جائیں‘
گزشتہ چند ہفتوں سے گوادر کے حوالے سے پریشان کُن خبریں سامنے آرہی ہیں۔ وہاں کچھ لوگ ایک سیاسی رہنما کی سربراہی میں اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں اپنی سمندری حدود میں مچھلیوں کے شکار کی اجازت، ماہی گیروں کی بستیوں کا تحفظ، مقامی آبادی کو روزگار…
پاکستان ’کچرے کا گھر‘ کیوں بن رہا ہے؟
ہر ملک میں ہر طرح کا کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن اس میں کچھ کچرے کی اقسام ایسی ہیں، جو ری سائیکل ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب کچھ اقسام ایسی بھی ہیں، جو ماحول دوست نہیں ہیں، ان کو ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا ایسے کچرے کو تلف کرنے کے لیے مخصوص طریقہ کار…
سرمچاروں کے لیے فضا ہموار؟
پر امن مظاہرین کو ریاستی طاقت سے کچلنے کے سنگین نتائج نکلتے ہیں، مگر اسلام آباد اور کوئٹہ کی حکومتوں نے گوادر کے عوام کی مزاحمتی تحریک کے خلاف پولیس کی طاقت کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ گوادر میں روزگار اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے…
وادیِ سون کا شہزادہ پاؤں میں چپل نہیں رکھتا
بچپن سے ہر تیسرے یا چوتھے ٹرک کے پیچھے لکھا ’وادی سون کا شہزادہ‘ پڑھتے آئے تھے۔ وادی سون کا نام بھی ایک الگ صوتی کشش رکھتا تھا اور ایسے لگتا تھا کہ یہ کوئی خواب ناک سا دیس ہے، جس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پریاں رہتی ہیں یہی خیال آتا تھا کہ نیچے…
سندھ کی جھیلیں مہمانوں سے آباد
صحرا ہو یا پہاڑ، دریا ہو یا جھیل، سندھ کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ دھرتی قدرت کے کئی انمول خزانوں کو آغوش میں لیے بیٹھی ہے۔ صرف یہ ہی نہیں گاؤں، دیہات اور وہاں کے باسی بھی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ یہی اسباب سندھ کو دیگر صوبوں سے جدا کرتے ہیں، جس کی ایک دلیل…
بین الاقوامی عدالت انصاف اور جمہوری اقدار
عالمی طاقتوں کی جانب سے انسانی و جمہوری اقدار کی پاسداری ملمع کاری سہی، مگر اس عالم میں ٹھنڈی ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قرارداد کی صورت آیا ہے یہ قرارداد جنرل اسمبلی نے کثرت رائے…
ہم تیری دوستی سے ڈرتے ہیں
مجھے جن جملوں سے سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے ان میں یہ جملہ سرِ فہرست ہے، ”بس جی آپ بے فکر ہو جائیں۔ سمجھیں کام ہو گیا۔ تسلی رکھیں‘‘۔ پھر ننانوے فیصد یہ ہوتا ہے کہ یا تو کام مکمل نہیں ہو پاتا، یا اتنا ناقص ہوتا ہے کہ بندہ سوچتا ہے اس سے…