نئے سال کی ریزولوشن
صاحبو، رواج ہے کہ نئے سال کی آمد پر ہر ذی شعور شخص کوشش کرتا ہے کہ اس برس کی آمد پر وہ اہداف متعین کرے جو اس کی بہت خواہش ہیں۔ بڑے بڑے صحافی، ادیب اور سوشل میڈیا سیلبرٹی نئے سال کی ریزولوشن پیش کر رہے ہیں اور اپنے اپنے ارادے بتا رہے ہیں۔…
بلوچستان کی باہمت رضیہ بی بی اور ماسی زینی
بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں رضیہ بی بی سے ان کے شوہر نے تین سو روپے چھین لیے۔ ان کے شوہر کو بلیدہ کے کئی دیگر مردوں کی طرح نشے کی لت لگی ہوئی تھی کپڑے سی کر گھر بار چلانے والی رضیہ بی بی کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔…
تو پھر چار حرف ہیپی نیو ایئر پہ!
نئے برس میں کووڈ کی نئی لہر ہمالیہ سے بلند، سمندر سے بھی گہرے اور شہد سے زیادہ میٹھے دوست چین کی جانب سے پاکستان میں داخل نہیں ہوگی بلکہ سی پیک کے نقطہِ آغاز گوادر میں میٹھے پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور وہاں کی مچھلیاں وہیں کے ماہی گیروں…
یادگارِ غالب: دلی میں مرزا کا آخری گھر
پچھلے دنوں جب میں دلی (یا دہلی) میں تھا تو میں نے ایک عجیب سی بات محسوس کی۔ وہ یہ کہ میں جب جب گلی قاسم جان (جو کہ بَلّی ماراں سے نکلتی ہے) میں ایک حویلی کے سامنے سے گزرتا تھا تو منہ پر یہ شعر خود بخود، باترنم آجایا کرتا: ہیں اور بھی…
نئے سال میں فلسطینیوں کے لیے کچھ نہیں
باقی دنیا کے لیے نیا سال اچھا ہو گا یا برا؟ مگر ایک بات طے ہے کہ فلسطینیوں کے لیے نیا سال دو ہزار بائیس سے بھی زیادہ عذاب ناک ہوگا۔ حالانکہ جانی نقصان اور تشدد کے اعتبار سے رواں سال دو ہزار پانچ میں انتفادہ ِ ثانی کے بعد سے سب سے زیادہ برا…
جرم و سزا اور قید خانوں کی تاریخ
تہذیبی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی سوسائٹی میں نئے جرائم کی تعداد بھی بڑھی۔ جرائم کی روک تھام کے لیے قانون کے ذریعے سزائیں مقرر کی گئیں۔ مجرموں کو خطرے کا باعث سمجھتے ہوئے انہیں عام لوگوں سے علیحدہ رکھے جانے کا فیصلہ ہوا اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ مجرموں…
شیخ ایاز : وادیِ مہران کی گونج دار مزاحمتی آواز
جدید سندھی شاعری کا معتبر حوالہ، سندھ دھرتی کی بھرپور مزاحمتی آواز معروف انقلابی شاعر، شیخ ایاز… جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے کچلے ہوئے طبقات کی ترجمانی کی اور اپنے لفظوں کے گونج دار کمالِ فن سے ایک جہان کو تسخیر کرگئے۔ شیخ ایاز کو اپنے چاہنے والوں سے…
فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (آخری قسط)
تیسری قسم کے امراض اس عقوبت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں جو استعماریت کا خاصا ہے۔ عقوبت خانوں میں استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے والے جس طرح ٹارچر کا نشانہ بننے کے بعد بے بسی، غصہ، اداسی اور دیگر جسمانی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں فینون ان کی وضاحت کرتا ہے…