ہماری زندگی ڈاکٹر صدیق کے فارمولے پر چل رہی ہے
یوں لگنے لگا ہے کہ زندگی روزمرہ اور پیشہ ورانہ مصروفیات، اطلاعات، واقعات، سوچ، محسوسات سب ہی کچھ ایک آہنی دائرے میں گڈمڈ ہو کے رہ گیا ہے اب تو اندازے بھی لگانے نہیں پڑتے۔ معلوم ہے کہ کس شخص کے کس بیان کا بنیادی مفہوم کیا ہے، کس فیصلے کے پیچھے کون سا عامل…
میری شہریت منسوخ کر دی جائے!
لکھاری کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی کتھا لکھنے کی بجائے دوسروں کے بارے میں لکھے۔ لیکن جب اپنی کتھا ہر ایک کی کتھا ہو تو پھر اپنی کتھا لکھنا ہی پڑتی ہے۔ میں ایک اوورسیز پروموٹر ہوں۔ اپنے روزگار کے ذریعے ضرورت مند پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجتا ہوں، یوں اپنے…
’چاند گرہن‘ جس کا ہر کردار ذہنوں پر نقش ہو گیا۔۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے اصغر ندیم سید نے کئی شہرہ آفاق ڈرامے لکھے ہیں، جن میں دریا، پیاس اور دستک نمایاں تھے چونکہ یہ ڈرامے پی ٹی وی کے لیے تھے تو ظاہر سی بات ہے کہ ایک خاص قسم کا روایتی ماحول اور سینسر شپ کی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا اصغر…
موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے نئی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے
موجودہ دور کا سب سے سنگین اور اہم مسئلہ موسمیاتی تبدیلی کا ہے اور امیر سے لے کر غریب ہر شخص نہ صرف اس سے متاثر ہے بلکہ ہر دوسرا شخص اسی موسمیاتی تبدیلی کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ عوامی سطح پر لوگ شدید گرمی کی لہر، سیلاب، طوفان، بارشوں میں شدت کی بات…
ہمارے شرمیلے سیاستدان اسمبلی میں آخر کچھ بولتے کیوں نہیں؟
ایک زمانے میں کسی نہ کسی سیاستدان کے نام کے ساتھ دیواروں پر نعرہ لکھا ہوتا تھا، ’فلاں تیری بولی، دشمن کے لیے گولی‘۔ واضح رہے کہ یہ وہ بولی نہیں جو منتخب ایوانوں میں تحریکِ اعتماد یا عدم اعتماد پیش ہونے کے دنوں میں لگائی جاتی ہے، اس بولی پر تو منتخب ارکان…
آٹے کا تھیلا، برقعہ، یوم خوراک اور پریس کلب
سیاہ رنگ بوسیدگی کا شکار ہوکے جتنا برا لگ سکتا ہے، اس نے اتنا ہی برا سیاہ رنگ کا برقعہ پہنا ہوا تھا۔ ٹخنوں سے اونچی ملگجی شلوار اور ربڑ کی گھسی ہوئی چپل اس کے شب و روز کی کہانی بنا پوچھے کہہ رہی تھی۔ چال میں ایک عجیب قسم کی لڑکھڑاہٹ کے ساتھ…
بچوں میں فکر مندی اور گھبراہٹ یا ’اینگزائیٹی‘ پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے؟
ایک بالغ شخص کی طرح ہر بچہ بعض اوقات کسی نہ کسی وجہ سے فکر مند ہوتا ہے اور گھبراہٹ یعنی ’اینگزائیٹی‘ محسوس کرتا ہے لیکن کچھ بچوں میں فکرمندی ایسے اثرات پیدا کرتی ہے کہ ان کا دل اُن باتوں میں نہیں لگتا، جن میں وہ عام حالات میں خوشی محسوس کرتے ہیں لیکن…
میانمار کا دارالحکومت نے پی دا: ایسا شہر جسے بسانے کے لیے وہاں کے بھوتوں کو ٹرکوں میں بٹھا کر باہر بھیجا گیا
برمی فوج کے کپتان آنگ کھنت اپنی گلابی رنگ کی کرسی میں آرام سے بیٹھے ہیں۔ چالیس برس کی عمر میں وہ ایک پرکشش آدمی تھے جن کا فوجی ریکارڈ بھی ٹھیک تھا۔ میری ابھی ابھی ان سے ملاقات ہوئی تھی اور فوراً ہی ان کی شخصیت کے بارے میں تجسس کا شکار ہو گیا…