کمفرٹ زون سے ہرگز باہر نہ نکلیں!
کمفرٹ زون سے ہرگز باہر نہ نکلیں! جس کا دل کرتا ہے کوئی متاثر کرنے والا واقعہ سنا کے ہمیں پیچھے لگا لیتا ہے اور ہم بھی بغیر سوچے چل پڑتے ہیں انسان اپنی فطرت میں لالچی ہے۔ جسے غرض نہیں، کوئی امید نہیں، لالچ نہیں، توقع نہیں تو وہ پھر بے نیاز کہلائے گا…
’محور‘ سے ’محاورہ‘ اور پھر ’حُور‘ کیسے بنی؟
صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے ہی رہتے ہیں، قلم کی جنبشوں پر سر قلم ہوتے ہی رہتے ہیں۔۔ شعر مقبولِ خاص شاعر عزیز حامد مدنی کا ہے، غالب نے جس لغزش قلم پر ہاتھ قلم ہونے کی دُہائی دی تھی، مدنی صاحب نے اُسی جُرمِ قلم پر سرقلم ہونے کا مژدہ سنا ہے…
کیا پاکستان کو واقعی کسی چے گویرا کی ضرورت ہے؟
گذشتہ صدی میں انقلاب کی تڑپ اور بغاوت کے جذبے نے مجسم ہو کر ارجنٹائن کے ایک شہری چے گویرا کا روپ دھار لیا، جو نگری نگری پھرا اور گھر کا رستہ بھول گیا۔ اس دوران اگر وہ نہیں بھولا تو وہ تھی نچلے طبقے سے وابستگی اور ان کی پسماندگی کے خاتمے کی عملی…
میں کسی سے نہیں ڈرتا ورتا۔۔۔
محمد زبیر کا نام سنا ہے؟ یہ نوجوان جو انڈین خبررساں ویب سائٹ آلٹ نیوز کے بانیوں میں شامل ہیں اور ان دنوں ایک ٹویٹ کے جرم میں بغاوت، ساز باز، بیرونِ ملک سے امداد، مذہبی منافرت پھیلانے اور دیش کو بدنام کرنے کی دفعات کے تحت پولیس تحویل میں ہے ۔وہ الگ بات کہ…
الن بھائی
ہم سات بھائی بہنوں میں الن بھائی دوسرے نمبر پر تھے ان سے بڑے مرحوم آفاق احمد تھے جو صحافت کے پیشے سے وابستہ رہے۔ انہوں نے اپنا کیرئیر روزنامہ حریت سے شروع کیا۔ پھر مارننگ نیوز اور جنگ گروپ میں بھی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ بے شمار جرائد اور میگزین…
آئی ٹی کی صنعت کا کیا کریں
اس وقت ڈجیٹل معیشت کا عالمی حجم بارہ ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ یعنی ساڑھے پندرہ فیصد عالمی معیشت ڈجیٹل ہے اور اگلے پندرہ برس میں اندازہ ہے کہ لگ بھگ پچاس فیصد معیشت ڈجیٹل ٹیکنالوجی پر کھڑی ہو گی۔ روایتی شعبوں کے روایتی دماغوں کے لیے بھلے یہ اچھی خبر نہ…
مایا تہذیب کی پوشیدہ دنیا تک لے جانے والا غار، جہاں انسانی قربانی دی جاتی تھی
سر پر پہنی ٹارچوں کی ملگجی لال روشنی میں ہم غار کی زمین پر ٹوٹے برتن پڑے دیکھ سکتے تھے۔ ہمارے گائیڈ نے جب چھت سے لٹکتی اور زمین سے اوپر کی طرف بلند ہوتی معدنی چٹانوں پر روشنی ڈالی تو مایا افراد کے ٹوٹے ہوئے وہ پتھریلے اوزار بھی نظر آئے جن سے وہ…
بجلی کا بل آیا تو فطرت کا قرب پایا
جون کی آخری سے پہلی شب ہے اور دس بجنے کو ہیں۔ میرے گردا گرد پھیلی فضا کا بدن تپ رہا ہے۔ کوئی بھولا بھٹکا ہوا کا جھونکا کبھی آ نکلتا ہے تو بدن کے نم مساموں کو قدرے راحت دے جاتا ہے۔ برقی رو تعطیل پر ہے۔ دیوار کے ساتھ کھڑے آم اور جامن…