دریائے سندھ اور گنگا ندی کی ڈولفنر کے دو علیحدہ اقسام قرار
سائنسی ماہرین نے 20 برسوں پر محیط ایک طویل تحقیق کے بعد خطرے سے دوچار دریائے سندھ اور گنگا ندی کی ڈولفن کو دو الگ اقسام کی نسلوں کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں 1990 سے ڈولفن کی نسل کو کئی خطرات اور چینلجز کا سامنا رہا ہے لیکن میرین میمل…
دودو بھیل کے ساتھ کیا ہوا؟!
کوئی تو بتائے کہ دودو بھیل کے ساتھ کیا ہوا۔جس کے پیتل رنگت والے جسم پر اینگرو کی وردی تھی،جس کے پیر ننگے اور ہونٹ سگریٹ کے دھونیں سے سیاہ پڑ چکے تھے۔جس کے پیروں میں پرانی جوتی اور ہاتھ میں ڈنڈا ہوا کرتا تھا۔جو خالی پیٹ اینگرو کے اساسوں کا چوکیدار تھا،جو…
قربانی اور اساتذہ!!
یوں تو زندگی نام ہی قربان ہونے کا ہے۔ کبھی خواہشات کی قربانی، تو کبھی حالات سے مجبور ہوتے ہوئے کسی چیز کی قربانی۔ زندگی جیسے ہر لمحہ قربانی مانگتی ہے۔ شعبہ ہائے زندگی کی طرف اک نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے یہاں بھی قربان ہونے کا متوازن سلسلہ اپنے…
جرم کسی کا، مگر سزا ہم سب کو!!
جب بھی گرمیاں عروج پر آتی ہیں تو لاڑکانہ، دادو، جیکب آباد اور سبی انتہائی درجہ حرارت کے سبب خبری پٹیوں پر چھا جاتے ہیں۔ مگر اب ان شہروں کو نوید ہو کہ ان سے انتہائی گرم علاقوں کا اعزاز بھی چھننے والا ہے۔ دنیا کا نیا دادو، جیکب آباد، لاڑکانہ اب کینیڈا ،…
بھٹو اور ضیا… تاریخ سے چند اوراق
چوالیس سال قبل آج ہی کے دن پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین اور سیاہ ترین مارشل لا کا نفاذ ہوا تھا۔ پانچ جولائی 1977 کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیا الحق نے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کرنے کے بعد پورے ملک میں مارشل لا نافذ کرکے چیف…
بے خبری کی چادر میں لپٹی ایک خبر
تین ہفتے پہلے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں ( یو این ایچ سی آر) کی سالانہ رپورٹ شائع ہوئی جسے حسبِ معمول کسی نیوز چینل یا اخبار نے ایک چھچھلتی خبر سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ جب کہ اس رپورٹ کی شکل میں ہم سب کے لیے یہ المناک خبر تھی کہ جیسے…
میں سوچتا ہوں
چنانچہ ہر وجودیت کے بعد سوچ اور غور و فکر کا با قائد ہ آغاز ہو تا ہے شائد ہر کو ئی نہ سوچے اور غور و فکر نہ کرے لیکن میں سوچتا ہوں اور غور و فکر کرتا ہوں ۔سو چنے ، غور وفکر اور تحقیق کرنے کے لئے میرا وجود ہو نا ضروری…
ملیر وادی: پانیوں اور قافلوں کی قدیم گزرگاہ
اس وسیع دنیا میں ان حقیقتوں کی تعداد زیادہ ہے جو ہمیں دھوکا دیتی ہیں۔ خود آپ کا وجود آپ کا نہیں ہے۔ نہ جانے کس پل سانس کی وہ ڈوری بے وفائی کر جائے جس کی تیمارداری میں ہم ہر پل جُٹے رہتے ہیں۔ مگر اس کو آپ کی پرواہ نہیں ہوتی، اسے جب…