کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 9)
باب دوئم: کراچی میں تعمیر شدہ و زیر تعمیر رہائشی اسکیمیں 1974ء میں اسٹیل مل کے لیے 18660 ایکڑ زمین حاصل کی گئی، جہاں 15 سے زائد قد میم گوٹھ تھے۔ اسی طرح 1973ء میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے لیے 13663 ایکڑ زمین حاصل کی گئی، جہاں قائم 35 قدیم گوٹھوں کو بے دخل…
کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط8)
باب دوئم: کراچی میں تعمیر شدہ و زیر تعمیر رہائشی اسکیمیں سندھ کی تاریخ میں کم زوری و درگزر کے باوجود ذہانت و فتح مندی کی علامت بن کر امر رہنے والے کر دار "مورڑو میر بحر” سے لے کر آج تک سندھ کے اس حصے جسے کراچی/ کلاچی کے نام سے جانا جاتا ہے،…
کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 7)
جب یہ منصوبے بالخصوص بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے سٹی اور فضائیہ ٹاؤن مکمل ہوں گے تو ان آبادیوں کے چاروں اطراف کچی آبادیوں کا جال بچھ جاۓ گا کیونکہ اتنے بڑے منصوبوں کے لیے یہاں بنگلوں اور بازاروں کے لیے مزدوروں اور کم کاج کرنے والوں کی ضرورت ہوگی تو یہ سب مزدور…
کیا بجٹ کے بعد گاڑیاں واقعی سستی ہوں گی؟
بجٹ 22ء-2021ء میں جس بات کا سب سے زیادہ شور ہے وہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہے۔ 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر 2.5 فیصد وفاقی ایکسائیز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) ختم کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کردیا گیا ہے۔ جس سے ایک…
کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 6)
مذکورہ بالا تمام آثار قدیمہ بحریہ ٹاؤن کے فیز1 اور 2 میں آ جاتے ہیں. 1991 میں کلچر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بدر ابڑو اور انور پیرزادو نے چوکنڈی طرز تعمیر کی نقش گری قبروں کے سروے کا کام مکمل کیا تھا، جس کی فوٹو گرافی اور وڈیو فلمیں بھی بنائی گئیں، لیکن…
کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 5)
آگے چل کر گڈاپ اور مول والا راستہ (سیوہانی سڑک) کو بھی بند کیا جاۓ گا تو مول جانے کے لیے گڈاپ کے لوگوں کو سری سے گھوم کر جانا پڑے گا چونکہ مول اور گڈاپ کاروباری مراکز ہونے کے باعث روزانہ سینکڑوں لوگ اس راستے سے سفر کرتے ہیں، چنانچہ انہیں کافی مشکلات کا…
کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 4)
6- بحریہ ٹاؤن جہاں بن رہا ہے وہ پوراعلاقہ پہاڑی اور سرسبز ہے، جہاں بڑے بڑے پہاڑ پانی کے بہاؤ اور کہیں کہیں گھنے جنگلات بھی ہیں ۔ بحریہ ٹاؤن منصوبے کی وجہ سے پہاڑوں کوختم کیا جار ہا ہے ۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق 55 فٹ سے زائد کسی بھی پہاڑ یا چوٹی…
کیا گوادر یونیورسٹی کے قیام کا خواب پورا ہوگا؟؟؟
اس وقت گوادر کے نوجوانوں کی جانب سے گوادر یونیورسٹی کے قیام کے لئے سوشل میڈیا کے تمام ذرائع پر #GwadarNeedsUniversity کی ہیشٹیگ کی کمپین جاری ہے۔ بالخصوص سماجی رابطہ کی سب سے موثر ترین ویب سائیٹ ٹویٹر پر یہ کمپین زوروں پر ہے۔ اس کے علاوہ گوادر یونیورسٹی…