وہ دنیا، جو ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہے۔۔
’آنکھوں میں کیسے خواب لیے تم کسی سفر پہ نکلتے ہو اور جب واپس آتے ہو تو تمہاری پیشانی پہ کتنی تعبیریں نہ ملنے کا غم درج ہوتا ہے۔ ’تم خوشی اور نئے تجربوں کی آس میں نکلتے ہو اور واپسی پہ تمہارے ہاتھوں میں تھکن اور چند تصویروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ’سفر…
جاگ کراچی جاگ
کراچی کی ساحلی پٹی کو بھی کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ جہاں ہزاروں ایکڑ پر مشتمل ساحلی پٹی پر ایک اور ڈیفنس ہاؤس اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے قیام کے منصوبے پر کوششیں جاری ہیں۔ زرعی اراضی اور قدرتی جنگلات پر ایک نیا شہر بسایا…
دریائے سندھ کی تہذیب کب، کیسے اور کس نے دریافت کی؟
وِل ڈیورا، جو دنیا کے جانے مانے تاریخ دان سمجھے جاتے ہیں، اپنی کتاب دی اِسٹوری آف سویلائزیشن میں لکھتے ہیں ’’جب خوفو نے پہلا احرام تعمیر کروایا تو ’موہن جو دڑو‘ اپنے عروج پر تھا۔‘‘ مجھے وِل ڈیورا کی دریائےِ سندھ کی ترائی پر آباد، اِنڈس ویلی سویلائزیشن…
تین تالے لگا کے بھی ہم لوگ محفوظ کیوں نہیں؟
انسان نے قدرت کو تسخیر کر لیا، زمین فتح کر لی، چاند پہ جا بیٹھا، یہ سب باتیں بچپن سے سن رہے ہیں ہم، آنیاں جانیاں دیکھنے والی ہیں لیکن اب، اس وقت، ہم لوگ اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں۔ لوہے کے بڑے بڑے گیٹ، ہر گلی محلے کے چوکیدار، بلکہ اب…
لاش کو عزت دو
بالخصوص 2018 سے اب تک جتنے بھی بجٹ پیش کیے گئے، ان کا ڈھانچہ آئی ایم ایف نے بنایا۔ ہم نے صرف اس ڈھانچے پر لیپا پوتی کی۔ اب جو بجٹ آنے والا ہے، وہ بھی اس سیریز کی اگلی کڑی ہے۔ آسان لفظوں میں قیدی کو زنجیر کی لمبائی تک چہل قدمی کی آزادی…
’موسم والا‘ کا مہتاب رام اور صادقیہ نہر کا ’منیاں والا پل‘
دسمبر کی روشن دوپہر تھی۔ دھند چھٹ چکی تھی اور اجلی اجلی دھوپ نے گیہوں کے پودوں پر پڑی اوس کے قطروں کو خوب جگمگا دیا تھا۔ یوں دکھائی پڑتا تھا، جیسے گندم کے کھیتوں میں آج ننھے ننھے سورج اُگ آئے ہوں۔ احمد اور میں منچن آباد سے بہاول نگر جاتی سڑک کنارے، زنگ…
یکطرفہ تاریخ نویسی
تاریخ اور یورپی سامراج نے جو نسل پرستی کا نظریہ پیش کیا، اس بنیاد پر اُنہوں نے ایشیا اور افریقہ میں اپنی کالونیز بنائیں تو اپنی تاریخ کو رنگ و نسل کی بنیاد پر لکھا۔ ایمپیریل ازم کے اپنے ہیروز کی تعریف و توصیف کر کے اُن کے جرائم چھپا کر اُن کی یادگاریں…
استحقاق کا استحقاق
بچپن میں، میں نے ایک عجیب و غریب لفظ سنا تھا اور چکرا کر گر پڑا تھا۔ بڑے برے طریقے سے گرا تھا کہ چھوٹے کا چھوٹا رہ گیا تھا اور بوڑھا کھوسٹ ہو جانے کے بعد آج تک چھوٹا ہوں۔ ’’چھوٹے پلاس پکڑا‘‘، ’’چھوٹے مارتول اٹھا‘‘، ’’چھوٹے کالی پیلی گاڑی کے ڈینٹ نکال‘‘۔…