”نہ پوچھ نسخۂِ مرہم جراحتِ دل کا“
جب وہ اپنے بیمار دل کو لیے اسپتال پہنچا تھا، جب جراحی اتنی ضروری ہوئی تھی کہ وہ بیمار، جس کے ساتھ مسکراتے لبوں واپس آیا تھا، وہ زندہ تھا۔۔ اور زندہ جسم میں زندہ دل دھڑک رہا تھا۔ اسے موت نے نہیں مارا۔ اسے دل کے عارضے نے بھی نہیں مارا۔ اسے ان باتوں…
یونان اور روم کے محروم لوگ
قدیم تاریخ میں محروم طبقے کو کوئی سماجی درجہ نہیں دیا گیا۔ اس کا تعلق نچلے طبقوں سے تھا اور اس کے بارے میں یہ خیال تھا کہ یہ بے شعور اور کوڑے کرکٹ کی طرح ہیں، جن کی معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اب موجودہ زمانے میں مورخ ان کی گمشدہ تاریخ کو…
ماحولیاتی تباہی کے اثرات اور سندھ کا کھیرتھر نیشنل پارک
کھیرتھر نیشنل پارک کی زمینوں پر بحریہ ٹاؤن مسلسل قبضہ کرتا جا رہا ہے، سپریم کورٹ کے احکام کے برخلاف پھیلتا جا رہا ہے، کھیرتھر نیشنل پارک کے حدود کی پامالی کے ساتھ وہاں کے جنگلی حیاتیات کے بریڈنگ ایریا کو ختم کیا جا رہا ہے، وہاں پہ موجود انڈیجینئس آبادی…
مارنے والا استاد ظالم ہے یا پڑھانے میں دلچسپی نہ رکھنے والا؟
جن سے مجھے پھینٹی چڑھی، وہ تمام استاد مجھے یاد ہیں لیکن کیا پڑھایا انہوں نے، بالکل کچھ بھی دماغ میں نہیں آتا، بس ایک دہشت تھی، خوف تھا۔۔۔ وہی یاد ہے۔ اردو والے استاد نے ایک بار کسی شعر کی تشریح سن کے مجھے کندھے پر تھپکی دی تھی، سر پہ ہاتھ پھیرا تھا،…
’نواز شریف کو کوئی نہیں ہنسا سکتا‘
حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں میاں نواز شریف کے سوا کوئی تین بار وزیرِ اعظم نہیں بنا۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا وزیرِ اعظم نہیں گزرا جسے دو بار (2000 اور 2019 میں) ایسی سزا ہوئی ہو، جس میں ضمانت تو کیا پیرول پر رہائی بھی عام آدمی کے لیے ناممکن ہے مگر دونوں…
امکان کی سرحد
آج میں آپ کو پرانے دور کی کہانی سنانے جا رہا ہوں، ویسے میرا ارادہ کہیں جانے کا نہیں ہے، میں خیر سے یہیں رہوں گا اور آپ کو ایک پرانی کہانی سناؤں گا۔ کہنے کی خاطر میں نے کہہ دیا ہے کہ میں آپ کو کہانی سنانے جا رہا ہوں، آپ کو کہانی سنانے…
گُل حسن کلمتی، فعال سماجی کارکن، عوامی دانشور
گُل حسن کلمتی ایک سرگرم سماجی کارکن، قلم کار اور دانش وَر تھے، جن کا 17مئی 2023ء میں 66 برس کی عُمر میں کراچی میں انتقال ہوا۔ تاہم، اُن کی گراں قدر خدمات کے باعث سندھ کے باسی اُنہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ راقم کی گل حسن کلمتی سے شناسائی 1980ء کے عشرے کے…
لوگوں میں رہتے ہوئے غائب کیسے ہوا جا سکتا ہے؟
سلیمانی ٹوپی ہوا کرتی تھی عَمرو عیار کے پاس، جسے پہن کے وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جاتا تھا۔ بچپن کی میری سب سے بڑی خواہش یہی سلیمانی ٹوپی تھی، بس نہیں چلتا تھا کسی طرح ہاتھ آ جائے اور بندہ یوں چٹکی بجاتے نظروں سے غائب۔ اب سوچتا ہوں کہ غائب ہو…