کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)
تؤنگ کے بازار پہنچتے ہی دور دور تک پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہریالی نے دل موہ لیا۔ کہیں گندم کی فصلیں اور ان کی کٹائی ہو رہی تھی تو کہیں تھریشر چل رہا تھا، اور کہیں پیاز کی فصل تیار کھڑی تھی۔ کچھ مزدور مرد اور عورتیں کھیتوں کے کام میں مشغول تھے، کہیں…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چوتھی قسط)
غیبی پیر سے ہمیں تُؤنگ کی جانب جانا تھا، جہاں ہمیں تُؤنگ شریف میں برفتوں کے تاریخی چوکنڈی قبرستان جام لوہار کی زیارت کرنی تھی اور تؤنگ میں ہی واقع ہندوؤں کی مقدس جگہ رتن ناتھ بھی دیکھنی تھی، جہاں سے ایک چشمہ بہتا ہے۔ وہاں سے ہمیں دریجی تحصیل ڈسٹرکٹ حب…
جھمپیر، جہاں دہائیوں سے جنگلی حیات کی نسل کشی جاری ہے
جھمپیر (Jhimpir)کے علاقے میں ایک طرف جہاں آنے والے مہمان پرندوں کا شکار عام ہے، وہیں ونڈ ٹربائن کے منصوبوں نے بھی مہمان پرندوں کی آمد کو متاثر کیا ہے۔ جھمپیر میں زیرِ زمین پانی کھارا ہے، اس لیے لوگ کینجھر کا میٹھا پانی پیتے ہیں، لیکن افسوس کہ یہاں کے لوگ…
کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی وعدے: حقیقی پیش رفت یا گرین واشنگ
حالیہ برسوں میں کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی (Corporate Sustainability) وعدوں کی بڑھتی اہمیت حالیہ برسوں میں کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی (Corporate Sustainability) کے وعدوں نے نمایاں توجہ حاصل کی ہے کیونکہ کاروباری ادارے ماحولیاتی ذمہ داری (Environmental…
”ہیپی پٹیل: خطرناک جاسوس“ پر ایک نظر
گزشتہ دنوں ایک دوست نے ہم چند دوستوں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں فلم Happy Patel Khatarnak Jasoos شیئر کی اور اسی دن انہوں نے وائس میسج کر کے اس فلم کو کچرا قرار دے کر دوستوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کچرے پر وقت ضائع نہ کریں۔ یہ تنبیہہ ایسے ہی تھی،…
برانڈ کلچر: انسانی وقار کی نیلامی اور استحصالی نظام
جدیدیت کی اس بے لگام دوڑ اور عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کے حصار میں ”برانڈ کلچر“ نے ایک ایسی سحر انگیز لیکن ظالم نفسیاتی اور معاشی لوٹ مار کی صورت اختیار کر لی ہے، جس میں آج کا انسان اپنی مرضی سے اپنی جیب اور خودداری کا سودا کرنے کو فخر سمجھتا ہے۔ یہ ایک…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (تیسری قسط)
مول شریف کے حوالے سے شہر کی اہمیت، ہندو کمیونٹی کے کاروباری دیوان، شہر میں واقع خوبصورت مندر اور مول ندی کے حوالے سے دوسری قسط میں ہم نے تفصیلات بیان کی ہیں۔ آج ہم ذکر کریں گے مول جاتے ہوئے مول شہر سے چھ کلومیٹر پہلے چوکنڈی طرز کی قبروں کا، جن کو سندھی…
شبِ مردم گزیدہ
شہر پر ایک عجیب سی رات اتری ہوئی ہے۔ یہ عام راتوں جیسی نہیں۔ اس کے قدم لڑکھڑاتے ہیں، اس کی سانس تیز ہے اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا جنون ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس طویل شبِ تاریک کو کسی پاگل آدمی نے کاٹ لیا ہو، اس کے بعد سے یہ…