قلم کا نوحہ، دھرتی کا مقدمہ: گل حسن کلمتی کی یاد اور علم پر گرتی بجلیاں
آج 17 مئی 2026 کا دن ہے۔ وہ دن جب ملیر کی مٹی اپنے ایک عظیم اور لازوال بیٹے کی جدائی کے صدمے کو تین سال گزرنے پر بھی محسوس کر رہی ہے۔ آج سے ٹھیک تین سال پہلے اسی دن کراچی کے ڈاؤ ہسپتال میں ایک ایسا انسان ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ…
کھیرتھر کا سفر : کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (ساتویں قسط)
رتن ناتھ مندر سے ہوتے ہوئے ہمیں آگے دریجی کی جانب جانا تھا۔ اس وقت ہم ضلع جامشورو کی حدود میں تھے۔ آگے دریجی یونین کونسل آتی ہے، جو پہلے ضلع لسبیلہ میں شامل تھی مگر اب ضلع حب چوکی کا حصہ ہے۔ جیسے ہی ہم رتن ناتھ مندر اور اس کے صاف شفاف چشمے…
ادھار کی زندگی
”زیادہ تر لوگ، دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے خیالات کسی اور کی رائے ہوتے ہیں، ان کی زندگیاں ایک نقل، اور ان کے جذبات ایک حوالہ۔“ آسکر وائلڈ کا یہ جملہ محض تحریر نہیں، ایک جراحی ہے۔ اس نے لفظوں کے نشتر سے انسانی شخصیت کا وہ خول اتار دیا ہے جسے ہم فخر…
رویے کا میگنیفائنگ گلاس
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کسی کے کردار کو پرکھنا ہو تو دیکھو وہ ان لوگوں کے ساتھ کیسا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آ سکتے، جن سے اس کا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔۔ یہ سیدھی سادی اخلاقیات کا پیمانہ مقرر کرنے والی بات ہے۔۔۔ لیکن کیا ہی بات ہے اس…
کیا آپ نے کبھی اپنے ”نارمل“ ہونے پر غور کیا ہے؟
جرمن – امریکی شاعر چارلس بکووسکی سے منسوب ایک خیال کا مفہوم ہے، ”کچھ لوگ کبھی جنون کی حدوں کو نہیں چھوتے، کتنی اذیت ناک زندگی ہوگی ان کی۔۔“ جنون کی حدوں کو چھونا۔۔ دیوانہ ہو جانا، پاگل ہو جانا۔۔ چارلس بکووسکی اسے غالباً اذیتوں کے بے کراں صحرا میں…
برطانوی دور میں ملیر کے سماجی، سیاسی اور انتظامی حالات
فاروق سرگانی کے اس بلاگ کا ویڈیو ورژن بھی دستیاب ہے، جسے آپ صفحے کے آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایچ ہیوز ایک برطانوی افسر تھے، جنہوں نے سندھ اور بلوچستان کے بارے میں کئی سفرنامے تحریر کیے۔ انہوں نے سندھ کے تقریباً تمام علاقوں کا دورہ کیا اور 1876 میں…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چھٹی قسط)
جب ہم قبرستان پہنچے تو گرمی اپنے عروج پر تھی۔ ایک بڑی سی چار دیواری کے اندر بے شمار چوکنڈی طرز کی قبریں موجود تھیں، جن کی اونچائی بیس فٹ سے بھی زیادہ تھی۔ وہ قبریں اس قدر بلند تھیں کہ قریب کھڑے بجلی کے کھمبے اور تار بھی ان کے سامنے چھوٹے محسوس ہو…
جب غلامی اپنا روپ بدل کر آئی اور امریکی عدالتیں انسانوں کو منڈیوں میں بیچنے لگیں۔۔
سورج کی تپش ابھی مدھم نہیں ہوئی تھی کہ الاباما کی کوئلے کی کانوں سے سسکتی ہوئی آوازیں ابھرنے لگیں۔ یہ آوازیں کسی آزاد مزدور کی نہیں، بلکہ ان بدنصیبوں کی تھیں جنہیں قانون کی آڑ میں ”لیز“ یعنی ٹھیکے پر لیا گیا تھا۔ زنجیروں میں جکڑے ہوئے پاؤں، کوئلے کی گرد…