برطانوی ایمپیریل ازم ختم مگر کلچراب بھی زندہ
برطانوی ایمپیریل ازم اپنا تاریخی کردار ختم کر کے جا چکا ہے۔ اب مورخین اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ خاص طور پر کمبریج اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں کی جانب سے اس موضوع پر کئی جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں مورخین نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے ورثے…
اقوامِ متحدہ کی نسل کشی رپورٹ (قسط سوم)
(اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پچیس مارچ کو خصوصی نمایندے فرانسسیکا البانیز نے ایک مفصل رپورٹ پیش کی۔ اس میں اس بنیادی سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اسرائیل ایک نسل کش ریاست ہے یا نہیں؟ یہ رپورٹ سب سے بڑے عالمی ادارے کے ایک زمہ دار سینئر اہلکار نے…
آپ اپنا کون سا چہرہ یاد رکھوانا چاہتے ہیں؟
ہمیں لوگوں کا صرف وہ چہرہ یاد رہتا ہے، جو ہم نے آخری بار دیکھا تھا۔ یہ بہت عجیب سی بات ہے۔ چہرے کی ٹائم لائن ہمیں کیوں نہیں یاد رہتی؟ آپ بچپن میں کیسے دکھتے تھے، نوجوانی میں آپ کی شکل کیسی تھی، نوجوان ہو کر آپ کے نقش کیا تھے، عین عالمِ شباب…
اقوامِ متحدہ کی نسل کشی رپورٹ (قسط دوم)
(اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پچیس مارچ کو خصوصی نمایندے فرانسسیکا البانیز نے ایک مفصل رپورٹ پیش کی۔اس میں اس بنیادی سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اسرائیل ایک نسل کش ریاست ہے یا نہیں؟ یہ رپورٹ چونکہ سب سے ذمے دار عالمی ادارے کے ایک سینئر اہلکار نے…
اقوامِ متحدہ کی نسل کشی رپورٹ (قسط اول)
(اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پچیس مارچ کو خصوصی نمایندے فرانسسیکا البانیز نے ایک مفصل رپورٹ پیش کی۔ اس میں اس بنیادی سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اسرائیل ایک نسل کش ریاست ہے یا نہیں؟ یہ رپورٹ چونکہ سب سے ذمے دار عالمی ادارے کے ایک سینئر اہلکار…
قدیم لوک داستان ’موکھی اور متارا‘
سرتاج الشعراء حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی ؒ کے ابیات میں کراچی کی قدیم لوک داستان ’’موکھی اور متارا‘‘ کا تذکرہ موجود ہے ۔ شاہ لطیف نے جو شاعری کی ہے، اس نے اس لوک داستان کو امر بنا دیا ہے۔ اگر بھٹائی اس لوک داستان کو اپنی شاعری میں خاص اہمیت نہ دیتے تو…
ہمارے فیصلے عقلی ہوتے ہیں یا جذباتی؟
ہر انسان اپنے آپ کو عقل مند تصور کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے فیصلے عقلی ہوتے ہیں۔ اُسے یہ لگتا ہے کہ جو بات اُس کے ذہن میں نمودار ہو گئی ہے، وہ انسانی تاریخ میں کبھی بھی کسی دوسرے انسانی ذہن میں پیدا نہیں ہوئی ہے۔ جن نتائج تک وہ…
دریائے سندھ کی جگمگاتی لہروں پر سندھ کا قدیم مندر ’سادھو بیلو‘
جھلسا دینے والی گرمی کے باوجود بھی سکھر میں جون کی ایک صبح بے حد ٹھنڈی اور ہوادار تھی۔ بندر روڈ کے ساتھ دریائے سندھ کے کنارے ایک چھوٹی سی کشتی ہچکولے کھا رہی تھی۔ ٹھنڈی صبح نے گہری سانس لی۔ بادبان کھلا، چپو چلنے لگا اور بھگوان داس کی پُرسوز آوازگونج…